پاکستانی کشمیر کے پیر چناسی میں جی پی ایس ٹیگ والا نایاب گدھ برآمد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پیر چناسی کے پہاڑی علاقوں میں جدید جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائس سے لیس ایک نایاب اور انتہائی خطرے سے دوچار گدھ پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جسے محکمہ وائلڈ لائف جلد دوبارہ قدرتی ماحول میں آزاد کرے گا۔

وائرل ویڈیو کے مطابق یہ گدھ پیر کے روز مقامی رہائشی زین راجہ کی جانب سے ریکارڈ کیا گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پرندہ بھوک اور تھکن کے باعث کمزور حالت میں پہاڑی علاقے میں اترا۔ مقامی افراد نے اسے گھیر کر قریب سے معائنہ بھی کیا۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ پرندہ “وائٹ رمپڈ وولچر” (White-rumped Vulture) ہے، جسے سائنسی طور پر Gyps bengalensis کہا جاتا ہے۔ اس کی شناخت اس کی کمر کے نچلے حصے پر موجود سفید نشان سے کی گئی۔ پرندے کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والا GPS ٹرانسمیٹر اور پیلے رنگ کا ونگ ٹیگ بھی نصب تھا، جس پر “F49” درج تھا۔

بین الاقوامی ادارہ International Union for Conservation of Nature اس نسل کو “انتہائی خطرے سے دوچار” قرار دے چکا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی مانیٹرنگ آفیسر ڈاکٹر شائستہ علی کے مطابق یہ گدھ نیپال سے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد سفر طے کرتے ہوئے ہمالیائی راہداری کے ذریعے کشمیر پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال میں گدھوں کے تحفظ کے لیے جاری پروگراموں میں GPS ٹیگنگ، “جٹایو ریسٹورنٹ پروجیکٹ” اور کسارا بریڈنگ سینٹر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شائستہ علی کے مطابق پیر چناسی میں “F49” کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نایاب گدھ نیپال، بھارت اور پاکستان کو ملانے والے تاریخی نقل مکانی کے راستے دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1990 کی دہائی میں ڈیکلوفیناک نامی ویٹرنری دوا کے باعث وائٹ رمپڈ گدھ کی آبادی میں تقریباً 99 فیصد کمی واقع ہوئی تھی، تاہم حالیہ تحفظاتی اقدامات کے نتیجے میں اب ان کی واپسی کی امید پیدا ہو رہی ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کے رینج آفیسر جزبہ شفیع نے بتایا کہ پرندے کو عارضی طور پر پیر چناسی میں موجود فوجی تنصیب میں رکھا گیا تاکہ نصب شدہ آلات کی جانچ کی جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انہیں کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ پرندے کو مناسب خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور جلد محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر کے دوبارہ جنگل میں آزاد کر دیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نایاب گدھ کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ہمالیائی خطہ اب بھی عالمی حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کی نقل مکانی کے لیے ایک اہم ماحولیاتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔

Share this content: