پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً چار دہائیوں بعد طلبہ یونین انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں جامعہ کشمیر سٹی کیمپس میں سیاسی و طلبہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔
طلبہ تنظیموں اور مختلف گروپوں کی جانب سے انتخابی مہم تیز کر دی گئی ہے جبکہ کیمپس میں سیاسی گہما گہمی کا ماحول دیکھنے میں آ رہا ہے۔
طلبہ کی جانب سے چند روز قبل آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں متفقہ طور پر اپنے بل بوتے پر طلبہ یونین انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد مختلف طلبہ گروپوں نے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور کیمپس میں پمفلٹس، بینرز اور وال چاکنگ کے ذریعے امیدواروں اور نظریات کی تشہیر جاری ہے۔
طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جامعہ کشمیر سٹی کیمپس میں 19 مئی 2026 کو پولنگ کا دن مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔
طلبہ کے مطابق یہ انتخابات نہ صرف طلبہ کے نمائندہ کردار کی بحالی کی کوشش ہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں جمہوری روایات کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم بھی تصور کیے جا رہے ہیں۔
تاہم انتخابی سرگرمیوں کے دوران طلبہ کو مختلف مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
جامعہ کشمیر کے شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کاشگل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ طلبہ کی جانب سے دیواروں پر لگائے گئے انتخابی پمفلٹس جامعہ انتظامیہ نے پھاڑ دیے، جس کے بعد طلبہ نے وال چاکنگ کا راستہ اختیار کیا۔
طلبہ رہنماؤں نے جامعہ انتظامیہ کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر جامعہ کے ملازمین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف یونینز قائم کر سکتے ہیں تو طلبہ کو بھی اپنی نمائندہ تنظیم بنانے اور جمہوری عمل میں حصہ لینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
سیاسی و سماجی حلقے جامعہ کشمیر میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جبکہ طلبہ اس عمل کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ 19 مئی کو ہونے والی پولنگ کے حوالے سے طلبہ میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور کیمپس میں انتخابی ماحول دن بہ دن مزید سرگرم ہوتا جا رہا ہے۔
Share this content:


