بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث دارالحکومت کوئٹہ میں 30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق دفعہ 144 کے تحت موٹرسائیکل پر ڈبل سواری، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات، جلسے، جلوس، دھرنے اور ریلیاں ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ شہریوں کو چہرہ مفلر، ماسک یا کسی بھی ذریعے سے چھپانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ادھر محکمہ ریلوے نے بلوچستان سے اندرونِ پاکستان ٹرین سروس دو روز کیلئے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس 18 اور 19 مئی کو منسوخ رہے گی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی ٹرین جیکب آباد تک محدود رہے گی اور وہیں سے واپس کردی جائے گی۔ بولان میل اور چمن پسنجر پہلے ہی معطل ہیں۔
اسی دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں فورسز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ضلع کیچ کی تحصیل زامران کے علاقے جبشان میں سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی دھماکے میں کم از کم 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
دھماکے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ضلع کیچ کی تحصیل مند کے علاقے سوارپ بارڈر پر پاکستانی فوج کے مورچوں پر مسلح افراد کا حملہ کیا گیا، جس میں 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ایک صوبیدار حملے میں محفوظ رہے جبکہ مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
ضلع مستونگ کے علاقے دشت کے ڈگاری کراس میں فوج کی رسد لے جانے والی ایک گاڑی کو قبضے میں لے کر نذرِ آتش کردیا گیا، جبکہ ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں فوجی کیمپ کیلئے راشن لے جانے والی گاڑی کو بھی مسلح افراد نے روک کر قبضے میں لے لیا۔
حکام نے دونوں واقعات کی تصدیق کی ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
Share this content:


