گلگت بلتستان: موسمیاتی تبدیلی اور برفانی تودوں کے خطرات کے باعث کوہ پیمائی کا سیزن شدید متاثر

گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید خراب موسم کی وجہ سے قراقرم کی چوٹیوں پر حالات انتہائی خطرناک ہو گئے ہیں، جس کے باعث اس سال سمر کوہ پیمائی سیزن کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، مسلسل طوفان، شدید برف باری، برف کے تودے (Avalanches) گرنے اور پتھر کھسکنے کے خطرناک واقعات کے باعث اس موسمِ گرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (K2) اور گاشربرم-ون پر کوئی بھی کوہ پیما سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے علاوہ گاشربرم-ٹو، براڈ پیک اور نانگا پربت پر بھی تقریباً 40 غیر ملکی کوہ پیماؤں کی مہمات ناکام رہیں۔

تور آپریٹرز اور الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس سیزن میں 200 سے زائد کوہ پیماؤں نے کے ٹو، براڈ پیک اور گاشربرم کی چوٹیوں پر جانے کی کوشش کی، مگر خراب موسم کی وجہ سے ٹیموں کو بیس کیمپوں تک محدود رہنا پڑا۔

30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے سانحے میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کے بعد کے ٹو اور دیگر چوٹیوں پر موجود کئی ٹیموں نے اپنی مہمات منسوخ کر دیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شامل ہو گئیں۔

صرف تین غیر ملکی گروپس گاشربرم-ٹو، ایک مقامی ٹیم براڈ پیک اور دو ٹیمیں سیزن کے آغاز (جون) میں نانگا پربت کو سر کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور درجہ حرارت میں اضافے نے صدیوں سے قائم موسمی پیٹرن کو بدل دیا ہے، جس کے باعث قراقرم کے 8 ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں پر کوہ پیمائی انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ہو چکی ہے۔ قراقرم کی چوٹیوں پر سمر کوہ پیمائی کا سیزن اب باقاعدہ ختم ہو چکا ہے اور کوہ پیما ناکام مہمات کے بعد واپس لوٹ رہے ہیں۔

Share this content: