قصہ دو انتہاؤں کا ۔۔۔ محمد عامر حسینی

پاکستان میں ایک پوری نسل ایسی دانشوروں، پروفیسرز، ادیبوں اور سیاسی تبصرہ نگاروں کی موجود ہے جو ایک زمانے میں مارکسزم، سوشلزم، طبقاتی جدوجہد، سامراج مخالف سیاست، روشن خیالی اور عقلیت پسندی کی اصطلاحوں میں گفتگو کیا کرتی تھی۔ ان کی تحریروں، تقریروں اور نجی محفلوں میں ہونے والی بحثوں کو یاد کیا جائے تو کہیں یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ خرد افروزی، سائنسی شعور، ملائیت کی مخالفت، مذہبی پیشوائیت پر تنقید اور توہم پرستی کے خلاف مؤقف اختیار کرنا کسی “لبرل” شناخت کا محتاج ہے۔ اُس زمانے میں تو یہ سب کچھ خود مارکسی، سوشلسٹ اور ترقی پسند روایت کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا تھا۔

میں نے کم از کم نوّے کی دہائی کے ابتدائی برسوں تک ان میں سے اکثر کے منہ سے “لبرل ازم” کی اصطلاح تک نہیں سنی تھی۔ وہ خود کو لیفٹسٹ، سوشلسٹ یا ترقی پسند کہتے تھے۔ مگر پھر عالمی سیاست کا موسم بدلا۔ سوویت یونین ٹوٹا، دیوارِ برلن گری، اور واشنگٹن سے لے کر یورپ تک سرمایہ دارانہ فتح کا ایک شور بلند ہوا کہ اب تاریخ ختم ہوچکی، مارکسزم دفن ہوچکا، اور لبرل جمہوریت ہی انسانیت کی آخری منزل ہے۔

اسی لمحے پاکستان کے بہت سے پیٹی بورژوا کمپراڈور دانشوروں کے لہجے، زبانیں اور وفاداریاں بدلنے لگیں۔ کل تک جو سامراج، سرمایہ داری اور امریکی بالادستی پر تنقید کرتے تھے، وہی اچانک “گلوبل سول سوسائٹی”، “لبرل ورلڈ آرڈر” اور مغربی جغرافیائی سیاست کے قصیدہ خواں بن گئے۔ خاص طور پر وہ طبقہ جو 70ء اور 80ء کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر موجود بائیں بازو کی روایت سے وابستہ تھا، اس کی ایک بڑی تعداد نے نظریاتی پسپائی کو “جدیدیت” کا نام دے دیا۔

آج یہی لوگ خود کو مارکس وادی یا لیفٹسٹ کہلوانے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں مگر “لبرل” کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کی فکری حالت دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی کہ کس طرح ایک پوری نسل نے سرمایہ دارانہ عالمی غلبے کے سامنے نظریاتی ہتھیار ڈال دیے۔ ان کی عقل پرستی بھی اب وال اسٹریٹ کی منڈی سے منظور شدہ ہے، ان کی انسان دوستی بھی نیٹو کے بمبار طیاروں کی حدود تک محدود ہے، اور ان کی روشن خیالی بھی تل ابیب پہنچ کر دم توڑ دیتی ہے۔

ایسے میں جب کوئی شخص ارشد محمود جیسے نیولبرل پاکھنڈیوں کے فکری ڈھونگ کو بے نقاب کرنے والی تحریر کو “ایک انتہا” قرار دے کر خود کو “درمیانی راستے” کا نمائندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے مجبوراً اس سے چند تاریخی سوالات پوچھنے پڑتے ہیں۔

1971ء میں جب پاکستانی ریاستی مشینری نے مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے قتل عام، جبر اور اجتماعی ریپ کا بازار گرم کیا تھا، اُس وقت آپ کہاں کھڑے تھے؟ کیا آپ نے کبھی اس ریاستی بربریت کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا آپ نے یہ کہنے کی جرأت کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف غلط تھا؟ جبکہ اُس وقت پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بھی بھٹو کی پالیسی کی تائید کی تھی۔ کیا آپ نے تب اختلاف کیا؟ کیا آپ نے بعد میں کبھی اپنی خاموشی کو مجرمانہ خاموشی قرار دیتے ہوئے بنگالی عوام سے معافی مانگی؟

معاف کیجیے گا ڈاکٹر صاحب! آپ آج بھی بلوچستان پر ویسی ہی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جیسی 1974ء سے 5 جولائی 1977ء تک اختیار کیے رکھی تھی۔ اُس وقت بھی ریاستی جبر پر آپ کی زبان گنگ تھی، اور آج بھی لاپتہ افراد، فوجی آپریشنوں، سیاسی جبر اور بلوچ عوام کے زخموں پر آپ کی “لبرل انسان دوستی” خاموش ہے۔

اس لیے ہمیں یہ وعظ نہ دیجیے کہ “دونوں انتہائیں غلط ہیں”۔ تاریخ میں ہمیشہ سب سے خطرناک کردار اُن لوگوں نے ادا کیا ہے جو ظلم اور مزاحمت کے درمیان کھڑے ہوکر خود کو غیر جانب دار کہتے رہے، مگر عملی طور پر طاقتور کے ساتھ کھڑے تھے۔

آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو بلوچستان ایک اور حقیقی ترقی پسند، روشن خیال، انسان دوست، امن پسند شاعر، ادیب اور استاد سے محروم کردیا گیا ہے۔ بروہی زبان کے سچے شاعر اور دانشور پروفیسر غمخوار حیات کو ایک بار پھر اُن ہی “نامعلوم مگر سب کو معلوم” ہاتھوں نے قتل کردیا ہے جو برسوں سے بلوچستان کی مزاحمتی دانش، تنقیدی شعور اور قومی حافظے کو خاموش کرانے میں مصروف ہیں۔

غمخوار حیات کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں، یہ بلوچستان کے فکری وجود، اس کی مزاحمتی روایت، اس کی زبان، اس کی ثقافت اور اس کے حقِ سوال پر حملہ ہے۔ اسی لیے بلوچ سماج کی مزاحمتی دانش آج سوگوار بھی ہے، غم زدہ بھی، اور اس قتل کے پسِ پشت موجود قوتوں پر شدید برہم بھی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گولی صرف جسم کو نہیں مارتی، گولی ایک سماج کے شعور کو خوفزدہ کرنے کے لیے چلائی جاتی ہے۔

مگر ڈاکٹر صاحب! آپ کی وال پر نہ بلوچستان کے مقتولوں کا ذکر ہے، نہ گلگت بلتستان کے محرومیوں کا، نہ خیبرپختونخوا کے لاپتہ نوجوانوں کا، نہ ریاستی جبر کے خلاف کوئی لفظ، نہ مقتدرہ کی پالیسیوں پر کوئی سوال۔ آپ کی “انسان دوستی” کا قلم ہمیشہ وہاں خشک ہوجاتا ہے جہاں ریاستی بیانیہ شروع ہوتا ہے۔

آپ سے تو پاکستان اکادمی ادبیات جیسے ادارے کی مذمت بھی نہ ہوسکی، جو ادیبوں اور شاعروں کی قدر و قیمت ان کی تخلیقی عظمت سے نہیں بلکہ ریاستی وفاداری کے پیمانے سے طے کرتا ہے۔ جو اُس ادیب کو “محب وطن” مانتا ہے جو خاموش رہے، سر جھکائے، سوال نہ کرے، اور مقتدرہ کے بیانیے سے باہر نہ نکلے۔ مگر جو شاعر جبر کے خلاف لکھے، جو ادیب محکوم قوموں کے دکھ بیان کرے، جو استاد نوجوانوں کو سوال کرنا سکھائے، وہ فوراً مشکوک، غدار یا ناقابلِ قبول قرار پاتا ہے۔

تو پھر بتائیے ڈاکٹر صاحب! کیا یہی آپ کا “اعتدال” ہے؟ کیا یہی وہ درمیانی راستہ ہے جسے آپ دو انتہاؤں کے بیچ دانشمندی قرار دیتے ہیں؟

یعنی ظالم کے خلاف خاموش رہو، مقتول کا نام نہ لو، لاپتہ افراد پر زبان بند رکھو، قتل ہونے والے شاعروں پر ماتم نہ کرو، ریاستی جبر پر سوال نہ اٹھاؤ، اور پھر خود کو “غیر جانب دار” کہلواؤ؟

تاریخ گواہ ہے کہ ایسی خاموشی کبھی غیر جانب داری نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ طاقت کے حق میں کھڑی خاموشی ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات خاموشی، ظلم کے حق میں بولے گئے سب سے بلند نعرے سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔

“میرے نزدیک دونوں انتہائیں غلط ہیں” کہنا بظاہر بڑا معتدل، دانشمندانہ اور “غیر جانب دار” جملہ محسوس ہوتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہاں “دونوں انتہائیں” آخر ہیں کیا؟

کیا ایک طرف غزہ میں ہزاروں بچوں، عورتوں اور شہریوں کا قتلِ عام، نسل کشی، قبضہ گیری، بمباری اور سامراجی جارحیت ہے، اور دوسری طرف اُس ظلم کے خلاف مزاحمت اور تنقید؟ اگر یہی “دونوں انتہائیں” ہیں تو پھر یہ محض اعتدال نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم کو ایک ہی ترازو میں تولنے کی خطرناک اخلاقی گمراہی ہے۔

یہ وہی مصنوعی “غیر جانب داری” ہے جو تاریخ میں ہمیشہ طاقتور کے حق میں کھڑی ہوئی۔ جب نوآبادیاتی طاقتیں ایشیا اور افریقہ کو لوٹ رہی تھیں تو بھی کچھ لوگ کہتے تھے “دونوں طرف غلطی ہے”۔ جب جنوبی افریقہ میں نسل پرستی تھی تو بھی کچھ لوگ “اعتدال” کا درس دیتے تھے۔ جب فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ ہوا، لاکھوں لوگ بے گھر کیے گئے، غزہ کو کھلی جیل بنایا گیا، تب بھی یہی طبقہ کہتا رہا: “دونوں جانب تشدد غلط ہے۔”

مگر سوال یہ ہے کہ قابض اور مقبوضہ، حملہ آور اور محکوم، ٹینک اور ننگے پاؤں بچے، ایف 16 اور ملبے تلے دبی لاشیں — کیا یہ واقعی برابر کی “انتہائیں” ہیں؟

اصل مسئلہ یہی جعلی مرکزیت ہے جس میں ہر واضح اخلاقی مؤقف کو “انتہا” بنا دیا جاتا ہے۔ اگر آپ فلسطینی نسل کشی کے خلاف بولیں تو آپ “شدت پسند” قرار پاتے ہیں، لیکن اگر کوئی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کو “حقِ دفاع” کہے تو وہ “معتدل” کہلاتا ہے۔ گویا طاقتور کی حمایت عقل مندی ہے اور مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا انتہا پسندی۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ “دونوں انتہائیں غلط ہیں” کہنے والے اکثر کبھی سامراج، اسرائیلی قبضے، امریکی جنگوں، یا مغربی طاقتوں کی تباہ کاریوں کو اُسی شدت سے موضوع نہیں بناتے جس شدت سے وہ مزاحمت پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کی غیر جانب داری ہمیشہ عجیب طور پر طاقتور کے حق میں جھک جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو ایک ہی اخلاقی سطح پر رکھ دینا خود ایک سیاسی مؤقف ہے، اور اکثر اوقات یہ مؤقف جبر کے نظام کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اگر ایک شخص قاتل اور مقتول دونوں کو برابر قصوروار کہے تو وہ دراصل قاتل کے جرم کو ہلکا کر رہا ہوتا ہے۔

یہاں مسئلہ “انتہا” کا نہیں بلکہ تاریخی اور سیاسی سچائی کا ہے۔ ارشد محمود جیسے نیولبرل دانشور صرف ایک رائے نہیں دے رہے، بلکہ وہ سامراجی بیانیے، صہیونی جواز اور مغربی طاقت کی اخلاقی بالادستی کو پاکستانی سماج میں نارمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں خاموش رہنا یا “دونوں طرف غلطی” کہہ کر نکل جانا دراصل طاقت کے موجودہ توازن کو قبول کرنا ہے۔

دنیا میں ہر عہد میں کچھ لوگ “اعتدال” کے نام پر ظالم اور مظلوم کے درمیان کھڑے ہوئے، مگر تاریخ نے اکثر انہیں غیر جانب دار نہیں بلکہ status quo کے محافظ کے طور پر یاد رکھا۔

٭٭٭

Share this content: