کشمیر بحران: مظاہرین کاپاکستانی فوج کا مبینہ خفیہ ایجنٹ پکڑنے کا دعویٰ، پروپیگنڈے کا خدشہ

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک اور شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال آج گیارہویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔

خطے میں بدترین کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ اور فون سروسز کی بندش کے باعث کشمیر بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ اسی دوران، عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ کی جانب سے ایک مبینہ خفیہ فوجی کارندے کو پکڑنے اور بعد ازاں اسے بحفاظت والد کے حوالے کرنے کا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز احتجاجی مظاہرین نے دلاور نسیم کیانی نامی ایک شخص کو پکڑا، جس کے بارے میں کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی فوج کا خفیہ کارندہ ہے۔ کمیٹی کے مطابق، مذکورہ شخص نے اعتراف کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے لیے کام کرتا ہے اور جاری عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے، ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر و دیگر پر فائرنگ کرنے، اور شاہزیب نامی شہری سمیت دیگر مظاہرین کے قتل عام کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غداری اور سنگین جرائم کے اعتراف کے باوجود، کمیٹی کے ذمہ داران نے دلاور نسیم کیانی کو مشتعل مظاہرین کے تشدد سے بچایا اور بحفاظت اس کے والد نسیم کیانی کے حوالے کر دیا۔

کمیٹی کے مطابق، مستقبل کے کسی بھی پروپیگنڈے یا قانونی تنازع سے بچنے کے لیے اس پوری کارروائی کی باقاعدہ دستاویزات تیار کی گئیں اور والد کے حوالے کرنے کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ (ڈاکومنٹیشن) کی گئی تاکہ سند رہے۔

کمیٹی نے اپنے بیان میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب دلاور نسیم کیانی کے والد نسیم کیانی پریس کانفرنس کر کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا بیٹا غائب یا لاپتہ ہے، اور اس کا الزام عوامی ایکشن کمیٹی پر ڈالا جا رہا ہے۔

ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ "یہ سیکیورٹی اداروں کی ایک گہری چال ہے تاکہ عوامی تحریک کو متنازع اور بدنام کیا جا سکے۔ مذکورہ ایجنٹ کے پاس سے ہماری تحریک کے خلاف کام کرنے کے واضح شواہد برآمد ہوئے تھے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ فوج یا سیکیورٹی ادارے خود اسے قتل کر کے اس کی ذمہ داری کمیٹی پر ڈال سکتے ہیں، لیکن ہمارے پاس اسے زندہ اور سلامت اس کے والد کے حوالے کرنے کی پختہ ویڈیوز اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔”

خطے کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے کشمیر کے تمام داخلی راستوں کو مکمل طور پر سیل کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش ، بچون کی دود ھ اور زندگی بچانے والی ادویات کی ترسیل بالکل بند ہو چکی ہے اور خطے میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے اب تک درجنوں افراد قتل ہو چکے ہیں، جن کی لاشوں تک رسائی بھی کمیٹی اور سوگوار خاندانوں کو نہیں دی جا رہی۔ مزید برآں، ہسپتالوں پر فورسز نے قبضہ کر رکھا ہے، جہاں سینکڑوں زخمی زیرِ علاج ہیں اور علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکومتی کریک ڈاؤن کے دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے عوامی تحریک سے وابستہ 150 سے زائد سرگرم افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) یا نو فلائی لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، خطے سے اب تک 171 افراد کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ جبری گمشدگی رپورٹ ہو چکی ہے، جن کے ٹھکانوں اور حالت کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور مقامی انتظامیہ مکمل پروپیگنڈے اور طاقت کے بل بوتے پر اس جائز عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہی ہے، لیکن عوام اپنے حقوق کے لیے پرعزم ہیں۔

Share this content: