کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا 13واں روز، عوام شدید مشکلات کا شکار

مظفرآباد/پونچھ/میرپور / کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری مکمل لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال آج تیرہویں روز میں داخل ہو گئی۔ ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں جبکہ شہریوں کو خوراک، ادویات، سفری سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر احتجاجی حلقوں سے وابستہ رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور جائیدادوں کی سیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

متعدد رہنماؤں کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور بعض مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے احتجاجی تحریک کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کے لیے تقریباً 150 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے ہیں جبکہ مزید افراد کے نام بھی اس فہرست میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے جاری کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا طاقت کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک پرامن ہے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں جمہوری اور سیاسی انداز میں آواز بلند کر رہے ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ "حقوق کے حصول کے لیے آخری بچے تک لڑیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں، ہم گولی کا جواب بھی سفید جھنڈا اٹھا کر دیں گے، لیکن اپنے حق اور انصاف کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”

سیاسی و سماجی حلقوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ خطے میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔

Share this content: