بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6316ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کی جانب سے جبری لاپتہ بلوچ خواتین رافیعہ بی بی، تانیہ اور جوریہ کے کیسز لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن کے ہیڈ آفس اسلام آباد، بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو، محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان (ہوم ڈیپارٹمنٹ) اور لاپتہ افراد کمیشن بلوچستان چیپٹر کے ڈپٹی رجسٹرار عبدالحمید کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کیسز کی فراہمی کا مقصد متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانا اور خواتین کی جلد بازیابی کے لیے عملی اقدامات کی درخواست کرنا ہے۔
واضح رہے کہ رافیعہ بی بی، تانیہ اور جوریہ، جن کا تعلق نیچاری قبیلے سے ہے، 30 جولائی کو سہ پہر تقریباً 3 بجے ضلع مستونگ کے لک پاس ایف سی چیک پوسٹ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دی گئی تھیں۔
ان کے اہلِ خانہ کے مطابق تاحال نہ تو ان کے مقامِ موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی حراست کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے امید ظاہر کی کہ لاپتہ افراد کمیشن اور بلوچستان حکومت رافیعہ بی بی، تانیہ اور جوریہ کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان خواتین پر کسی قسم کا کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کی بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔
Share this content:


