پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 12 روز سے نظام زندگی مفلوج ہے۔
خطے کی تاریخی تالا بند اور ویل جام ہڑتال بارویں روز بھی جاری ہے۔
انٹرنیٹ سروس معطلی کو دو ہفتے سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد میں ایشیائے خوردونوش کی شاپس کھلی ہیں جبکہ دیگر کاروباری سرگرمیاں بدستور معطل ہیں۔
ایف سی اور مقامی پولیس کی جانب سے اندرون شہر فلیگ مارچ آج کے روز بھی جاری رہے۔
گذشتہ 12 روز سے فورسز ہاتھوں نہتے مظاہرین پر فائرنگ سے 24 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے ۔
خطے کی غذائی ناکہ بندی بھی جاری ہے ، ادویات اور بچوں کی دودھ کی ترسیل بھی بند ہے ۔
بد ترین کریک ڈائون جاری ہے ۔سینکڑوں افراد گرفتار کئے گئے اور 171 جبری لاپتہ ہیں جن کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
راولا کوٹ اور دیگر علاقوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور تاریخی اجتماع جاری ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں ۔
عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار دینے ے بعد ریاست انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے ، عوامی تحریک کے قیادت کے جائیداد ضبط اور کاروباری مراکز کوبند کررہا ہے۔
ڈیڑھ سے زائد افراد کے نام اسے سی ایل میں ڈال دیئے گئے۔گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن دوسری جانب ایکشن کمیٹی کی منظم تحریک جاری ہے جسے عسکری حکام مختلف حربوں سے سبوتاژ کرنے میں ناکام ہے۔
Share this content:


