حکومتِ پاکستان نے ملک کے ممتاز سیاسی و اپوزیشن رہنماؤں — پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر وفد — کو پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے ان اہم قومی رہنماؤں کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے کے قائدین سے مذاکرات اور ثالثی کے لیے کشمیر جانے کی خبریں زیرِ گردش تھیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق، حکام نے بظاہر ‘سیکیورٹی خدشات’ کو جواز بنا کر ان رہنماؤں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی، تاہم بادی النظر میں اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ حکومت پاکستان مظاہرین سے پرامن مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور وہ سیاسی حل کے بجائے طاقت کے بل بوتے پر اس عوامی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ذرائع کے مطابق، ملک کے سینیئر ترین رہنماؤں کو کشمیر جانے سے روکنے کا اصل مقصد انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی طویل بندش کی آڑ میں خطے کے اندر جاری بدترین کریک ڈاؤن، جبری گمشدگیوں، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا ہے، کیونکہ ان رہنماؤں کی موجودگی سے وہاں کے حقیقی حالات عالمی میڈیا کے سامنے آ سکتے تھے۔
کشمیر کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اس وقت وہاں صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک سنگین ہو چکی ہے۔ پاکستانی فورسز کی براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 24 افراد کے قتل کی تصدیق ہو چکی ہے۔کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 171 افراد کی جبری گمشدگی رپورٹ ہو چکی ہے، جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا رہیں۔ عوامی تحریک کو دباؤ میں لانے کے لیے 150 سے زائد سرگرم رہنماؤں اور شہریوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (نو فلائی لسٹ) میں ڈال دیے گئے ہیں۔ خطے کی معاشی اور ادویات کی سپلائی لائنز مکمل طور پر بلاک ہیں، جس کے باعث ہسپتالوں میں ادویات اور بازاروں میں راشن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
سخت ترین سیکیورٹی محاصرے، مواصلاتی بلیک آؤٹ اور نامور پاکستانی رہنماؤں کے داخلے پر پابندی کے باوجود کشمیر بھر میں احتجاجی دھرنے اور مظاہرے پوری قوت سے جاری ہیں۔ تحریک کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اب خواتین اور معصوم بچے بھی بڑی تعداد میں گلیوں اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں "سفید جھنڈے” اٹھا رکھے ہیں، جو امن اور ریاستی جبر کے خلاف پرامن مزاحمت کی علامت کے طور پر لہرائے جا رہے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کو روکنے کے اس حکومتی فیصلے نے جہاں اسلام آباد اور مظفرآباد کے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے، وہاں اس سے عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔
Share this content:


