کشمیر میں بدترین کریک ڈائون، ہڑتال اور معاشی ناکہ بندی کی آڑ میں الیکشن کی تیاریاں بھی جاری

پاکستان زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی فورسز کی بدترین کریک ڈائون،جبری گمشدگیوں ،قتل عام ، شٹردائون و پہیہ جام ہڑتال اور معاشی ناکہ بندی کی آڑ میں الیکشن کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

14 روز سے جاری تالا بند ویل جام ہڑتال نے پورے کشمیر بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

خطے میں انٹرنیٹ سروس 16 روز سے غائب ہے۔

دارالحکومت مظفرآباد میں شہریوں کو پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کا سامنا ہے۔

شہریوں کو پٹرول و ڈیزل کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے ۔

حکومت کی جانب سے کلعدم قرار دی جانے والی والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ضلع راولاکوٹ میں متعدد احتجاجی دھرنے لگا رکھے ہیں۔

مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق دریک کے مقام پر جیک کے دھرنے میں آج کے روز ہزاروں کی تعداد میں خواتین موجود ہیں۔

جیک نے گزشتہ روز جاری اپنے اعلامیے میں 23 جون تک حکومت کو ایلٹی میٹم دیا تھا۔

دارالحکومت مظفرآباد میں امن و امان و کی صورتحال تا حال براقرار ہے تاہم چوکوں چوراہوں میں ایف سی کی جگہ مقامی پولیس اہلکاروں تعنیات کیا گیا ہے۔

خطے کے وزیراعظم اور اراکین اسمبلی غائب ہیں جبکہ دفاتر ویران ہیں۔

دوسری جانب عام انتخابات کو لے کر امیدوار اسمبلی کاغذات نامزدگی جمع کروا رہے ہیں یاد رہے الیکشن کمیشن کی جانب سے 23 جون کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ مقررکر رکھی ہے۔

Share this content: