فرحان طارق
کبھی کبھی جغرافیے نقشوں پر نہیں بنتے، وہ انسانوں کے ذہنوں میں تراشے جاتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے میں طبقے، ذاتیں اور مفادات کی دیواریں موجود رہی ہیں، مگر ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں جمہوریت نے عوام کی خواہش سے نہیں بلکہ تصادم، خوف اور خاموشیوں کے درمیان آنکھ کھولی۔
کہانی شروع ہوتی ہے ایک ایسے سرکاری عہدہ دار سے، جو نوآبادیاتی تقسیم کے زمانے میں ایک ڈویژن کا کمشنر تھا۔ کہتے ہیں اس نے اقتدار کے ایوانوں میں ایک ایسی اینٹ رکھی جس پر بعد میں جمہوریت کی عمارت تعمیر ہوئی اور بڑے بڑے غازیوں اور مجاہدوں نے جنم لیا، مگر اس بنیاد میں عوام کی آواز سے زیادہ ریاستی نظم و پراکسزز کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔
وقت گزرا تو اس جمہوریت نے اپنے اندر دو نئی علامتی کاسٹیں پیدا کر لیں۔ پہلی وہ جنہیں لوگ "برہمن” کہنے لگے؛ طاقت، اختیار اور فیصلوں کے مالک۔ دوسری وہ جو "شودر” قرار پائے؛ تعداد میں زیادہ مگر حقوق سے محروم۔
داستان گو کہتے ہیں کہ برہمن صرف ایک طبقہ نہیں تھے بلکہ ایک ذہنیت تھی۔ ان کے ہاتھوں میں قانون بھی تھا، روایت بھی اور طاقت بھی۔ دوسری طرف شودر وہ تھے جنہوں نے انہی کو اپنا رہنما مانا، انہی کے نعروں کو اپنی تقدیر سمجھا اور انہی کے سائے میں اپنی شناخت تلاش کرتے رہے۔
وقت کی دھول بیٹھتی گئی مگر طاقت کا ترازو ایک ہی طرف جھکتا رہا۔ برہمن فولاد بنتے گئے اور شودر ریت کی دیوار۔ ہر نئی صبح طاقتور کے قلعے کو مضبوط کرتی اور ہر نئی شام کمزور کی امید کو توڑ دہتی اور بکھر دیتی۔
پھر ایک دن ہوا کا رخ بدلا۔
کہتے ہیں کہ خاموشی بھی ایک حد تک خاموش رہتی ہے۔ جب دہائیوں کی خاموشیاں بولتی ہیں تو ان کی آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر گونجتی ہے۔ شودر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہوئے۔ پہلی مرتبہ انہیں احساس ہوا کہ تعداد اگر شعور سے مل جائے تو طاقت کی تعریف بدل سکتی ہے۔
مگر اقتدار کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اشرافیہ اپنی گرفت آسانی سے نہیں چھوڑتی۔ روایت ہے کہ برہمنوں نے اپنیے حصول اقتدار کے لیے ایک لشکر بلایا تھا ایسا لشکر جو نہ صرف جسموں سے نہیں جنگ لڑتا تھا بلکہ خوف، افواہوں اور تقسیم کا ماحول پیدا کیا۔ میدان میں صرف ہتھیار نہیں تھے، بیانیے بھی تھے، الزام بھی تھے اور خاموشی بھی۔ اور آج پھر اپنی بقا کے لیے برہمنوں کا ایک لشکر جنگ میں مصروف ہے۔
آج اس فرضی سرزمین میں جنگ صرف دو طبقوں کے درمیان نہیں، بلکہ دو تصورات کے درمیان ہے۔ ایک تصور جو طاقت کو حق سمجھتا ہے اور دوسرا جو حق کو طاقت بنانا چاہتا ہے۔
شاید اس داستان کا انجام ابھی لکھا جانا باقی ہے۔ ممکن ہے کل کے مورخ اسے بغاوت کہیں، ممکن ہے کوئی اسے اصلاح کا آغاز لکھے، اور ممکن ہے کوئی اسے صرف ایک طویل تصادم کا باب قرار دے۔
مگر ایک سوال ہمیشہ زندہ رہے گا: کیا وہ معاشرہ، جس کی بنیاد خوف، طبقاتی تقسیم اور طاقت کے عدم توازن پر رکھی جائے، کبھی حقیقی جمہوریت بن سکتا ہے؟ یا پھر وہ ہمیشہ نئی کاسٹیں، نئی کلاسیں اور نئے کلیشز ہی پیدا کرتا رہے گا؟
شاید اس سوال کا جواب آنے والا وقت لکھے گا، کیونکہ تاریخ کا قلم ہمیشہ فاتح کے ہاتھ میں نہیں رہتا؛ کبھی کبھی اسے وہ لوگ بھی اٹھا لیتے ہیں جنہیں صدیوں تک صرف خاموش رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔
٭٭٭
Share this content:


