جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا ہے جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سنگین اور کشیدہ صورتحال، فورسز کی شیلنگ و فائرنگ سے ہونے والے جانی نقصان، اور دو ماہ سے جاری کرفیو و لاک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
خط میں علاقے میں امن و استحکام کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے 14 نکاتی فوری اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
خط پر کور کمیٹی کے نمائندوں بشمول سردار عمر نذیر کشمیری، امتیازی اسلم، خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ، سعد انصاری ایڈووکیٹ، سردار ارباب ایڈووکیٹ اور راجہ غلام مجتبیٰ کے دستخط موجود ہیں۔
وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی نے اس سے قبل بھی 7 جولائی 2026 کو مکتوب کے ذریعے آزاد کشمیر کے حالات سے آگاہ کیا تھا لیکن عوام دشمن اور پرتشدد حالات کے خاتمے کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
خط کے مطابق 27 جولائی کو پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے بزرگ شہری، قائم مقام یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر اسامہ جمیل (پی ایچ ڈی اسکارلر) اور دیگر افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر میں اسپتال فورسز کے زیرِ قبضہ ہیں، ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، اور انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام پچھلے دو ماہ سے معطل ہے۔ حکومت کی جانب سے 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے سے عوام میں عدم اعتماد گہرا ہوا ہے۔
خط کے ساتھ منسلکہ 14 نکاتی چارٹر میں حکومت سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے:
1۔بین الاقوامی غیر جانبدار کمیشن کا قیام: مئی 2023 سے 05 جون 2026 تک آزاد کشمیر میں ہونے والی شہادتوں، زخمیوں، جبری گمشدگیوں، اور پرامن مظاہرین پر لگے الزام تراشیوں کی تحقیقات کے لیے عالمی و قومی غیر جانبدار شخصیات پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جو 30 دن میں رپورٹ پیش کرے۔
2۔مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ: 04 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 غیر قانونی نشستوں کو فوری ختم کیا جائے۔
3۔مراعات کا خاتمہ: حکمران طبقے، بیوروکریسی اور اشرافیہ کی ناجائز مراعات کا خاتمہ کر کے بچت شدہ رقم صحت اور تعلیم پر خرچ کی جائے۔
4۔عبوری حکومت اور نیا الیکشن کمیشن: موجودہ الیکشن کو لغو قرار دیتے ہوئے JKJAAC کی نمائندگی میں غیر جانبدار عبوری حکومت قائم کی جائے جو 6 ماہ کے اندر شفاف انتخابات کرائے۔
5۔کارروائیوں اور مقدمات کا خاتمہ: 04 جون 2026 سے قبل کی پوزیشن بحال کی جائے، تمام فوجی و نیم فوجی اقدامات واپس لیے جائیں، جانی و مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے، اور گرفتار شدگان و اسیران کو بلا مشروط رہا کیا جائے۔
6۔پاور پروجیکٹس اور لوڈشیڈنگ: آزاد کشمیر کے تمام ہائیڈل پاور پروجیکٹس کا نیشنل گرڈ اسٹیشن قائم کیا جائے اور نيپرا (NEPRA) سے الگ کر کے لوڈشیڈنگ فری زون قرار دیا جائے۔
7۔کشمیر ایکسپریس و سڑکیں: نیلم تا بھیمبردھند وے (کشمیر ایکسپریس) کی تعمیر اور دیگر اہم شاہراہوں کو جلد مکمل کیا جائے۔
8۔صحت کی سہولیات (PIMS اور RIC طرز): آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز میں پمز اور راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC) کی طرز پر جدید اسپتال قائم کیے جائیں اور تمام DHQ و THQ اسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے۔
9۔میرپور ایئرپورٹ: میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی 2026 کے مالی سال میں فزیبلٹی مکمل کر کے تعمیر شروع کی جائے۔
10۔بجلی اور آٹا معاہدہ: بجلی کی قیمتوں پر 13 مئی 2024 کا نوٹیفکیشن اور آٹے پر معاہدے کی پابندی کی جائے۔
11۔یکساں نظامِ تعلیم: یکساں نصابِ تعلیم اور مفت ثانوی و ہائر سیکنڈری تعلیم فراہم کی جائے۔
12۔ہائی کورٹ فیصلہ: ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
13۔ٹینڈرز کا اجراء: آزاد پتن تا سدھنوتی سڑکوں کی تعمیر کے لیے این ایچ اے (NHA) سے ٹینڈرز جاری کیے جائیں۔
14۔ٹائم فریم کا تعین: تسلیم شدہ تمام مطالباتی چارٹر پر عملدرآمد کے لیے محدود ٹائم فریم مقرر کیا جائے اور سرکاری وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔
Share this content:


