پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لئے گذشتہ 2 ہفتوں سے جاری عوامی تحریک کے خلاف ریاستی کریک ڈائون میں تیزی آرہی ہے ۔
سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔171 افراد کی جبری گمشدگی کی رپورٹ ہوئی ہے جبکہ 150 سے زائد افراد کے نام اٰ ی سی ایل میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
ریاستی فورسز کی جانب سے تحریک سے جڑے افراد کی جائیدادوں کی ضبطی ،نوکریوں سے برخاستگی جیسے انتقامی کارروائیوں کے باوجود کئی علاقوں میں عوامی احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہیں جن میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
ریاستی انتقامی کارروائیوں اور جبر کے باوجود تحریک کو سبوتاژ کرنے کے حکومتی خواب شرمندہ تعبیرہونے میں ناکام ہے ۔
اب صحافیوں اور اکٹیوسٹ کی گرفتاری اور لاپتہ کرنے کی خبریں رپورٹ ہور رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی صحافی سردار اویس گزشتہ تین روز سے لاپتہ ہیں، جس پر صحافتی اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ سردار اویس کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے، تاہم تاحال ان کی گرفتاری کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی گرفتاری کی وجوہات سامنے آ سکی ہیں۔
اہل خانہ اور ساتھی صحافیوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سردار اویس سرکاری تحویل میں ہیں تو ان کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات اور قانونی حیثیت فوری طور پر واضح کی جائے۔
Share this content:


