کوئٹہ / کراچی ( کاشگل نیوز)
بلوچستان اور کراچی میں ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل کی کراچی رہائش گاہ سے ان کے عملے کے 11 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے دیگر 11 نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب گوادر کے علاقے جیونی سے ایک ماہ قبل لاپتہ کیے گئے 2 بزرگ شہری باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ رات کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے قریب عملے کے لیے کرائے پر لیے گئے ایک اپارٹمنٹ پر انٹیلی جنس اداروں نے چھاپہ مارا، جہاں موجود تمام 13 افراد پر تشدد کیا گیا اور موبائل فون ضبط کر لیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 13 میں سے 11 افراد بشمول ان کے مینیجر حاجی رجب اور سیکیورٹی گارڈ احمد کو تاحال رہا نہیں کیا گیا اور وہ لاپتہ ہیں، جبکہ صرف 2 افراد کو بعد ازاں رہا کیا گیا۔
اختر مینگل نے اسے نسلی پروفائلنگ اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی سے اپنے لاپتہ عملے کی فوری باحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
اختر مینگل کی رہائش گاہ کے علاوہ کراچی اور بلوچستان سے مزید 11 نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کرنے کی تفصیلی اطلاعات بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے جاری کی ہیں۔
کراچی کے علاقے ماڑی پور سے سیکیورٹی فورسز نے 5 اگست 2026 کو رات 8:00 بجے 28 سالہ دکاندار عامر ولد عبد الوحید کو ان کے گھر سے، 6 اگست کو رات 8:30 بجے 28 سالہ مزدور صابر ولد عزیز کو، اور 7 اگست 2026 کو رات 2:00 بجے گھر پر چھاپے کے دوران 30 سالہ مزدور عبد العزیز ولد نور داد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں 6 اگست 2026 کو صبح 3:30 بجے کے قریب سیکیورٹی فورسز نے کور پشت بٹ سے 18 سالہ مزدور یاسر ولد حاجی نیک سال اور 24 سالہ مزدور سیف اللہ ولد ظهور احمد کو اٹھایا، جبکہ دمبانی بٹ سے 20 سالہ طالب علم شے حق ولد بشیر احمد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے بھی کمسن بچوں اور نوجوانوں کو اٹھائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سریاب روڈ لوہار کاریز سے 24 جولائی 2026 کو صبح 5:00 بجے دو کمسن 14 سالہ طالب علموں صفی اللہ بلوچ ولد مہرو اللہ بلوچ اور مدثر بلوچ ولد شیر دل بلوچ کو حراست میں لیا گیا۔ موسیٰ کالونی سریاب سے 28 جولائی کو صبح 4:00 بجے 19 سالہ دکاندار مزمل ولد عبد المجید اور 7 اگست کو صبح 6:00 بجے 17 سالہ دکاندار جلیل ولد سلیم کو لاپتہ کیا گیا، جبکہ کلی برازئی سے 7 جولائی کو رات 2:00 بجے 19 سالہ مزدور نجیب اللہ بلوچ ولد سرور بلوچ کو حراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب ایک مثبت پیش رفت کے تحت گوادر کے علاقے پانوان جیونی سے 11 جولائی 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے دو بزرگ شہری محمد بلوچ ولد حبش اور اعظم بلوچ ولد احمد 7 اگست 2026 کو باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں، جس پر ان کے اہلخانہ نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
عوامی و سیاسی حلقوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ان تشویشناک واقعات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا بنیادی ہدف طالب علم اور کمسن نوجوان ہیں جس سے پورا خطہ انسانی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔
تنظیموں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ فوجی آپریشنز اور جعلی مقابلوں میں جن مسلح افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثر وہی جبری طور پر لاپتہ افراد ہوتے ہیں جنہیں دورانِ حراست قتل کر دیا جاتا ہے، جبکہ عالمی برادری اس تمام صورتحال پر مکمل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
Share this content:


