پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان میں دریائے سندھ کے کناروں سے سونا نکالنے کے لیے دیوہیکل (ہیوی) مشینوں کے بے دریغ استعمال نے نہ صرف مقامی آبادی کی زمینوں اور روزگار کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، بلکہ خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے، پلوں اور دیامر بھاشا و تربیلا جیسے قومی آبی منصوبوں کی عمر اور کارکردگی کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ضلع ہنزہ اور نگر سمیت مختلف علاقوں کے رہائشی دریائی کناروں پر ہیوی مشینری کی مدد سے جاری مائننگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
ضلع ہنزہ کی تحصیل ناصر آباد کے علاقے ‘شینا’ میں مقامی ویلیج کونسل کے مطابق اب تک شہریوں کی کم از کم 40 کنال قابلِ کاشت زمین دریا برد ہو چکی ہے۔
سونا نکالنے کے لیے ڈمپرز اور ہائیڈرولک مشینوں کے ذریعے قدرتی کناروں کو کھود کر گہرے گڑھوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے دریا کا بہاؤ متاثر ہو رہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ‘سونے وال’ قبائل صرف بیلچے اور گنتی کی مدد سے ہاتھ سے سونا نکالتے تھے جس سے ماحول کو نقصان نہیں پہنچتا تھا، تاہم اب ہیوی مشینری کے انبار کی وجہ سے تباہی کا آغاز ہو چکا ہے۔
بی بی سی کی حاصل کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق گلگت بلتستان کے انتظامی اور تکنیکی ادارے خود اس مائننگ پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات اور مقامی انتظامیہ کی رپورٹس کے مطابق بنجی سسپینشن بریج، بنجی آر سی سی پل اور تھلاچی پل کے بالکل قریب (250 سے 300 فٹ کے فاصلے پر) چینی و مقامی کمپنیوں کی جانب سے مائننگ کی جا رہی ہے۔
یہ پل عام شہریوں کے علاوہ نادرن لائٹ انفنٹری (NLI) کی نقل و حرکت، تجارتی راستوں اور ہنگامی خدمات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مائننگ کے ملبے اور کٹاؤ سے ان پلوں کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
30 اپریل 2026 کو واپڈا (دیامر بھاشا ڈیم انتظامیہ) نے گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کو خط لکھ کر متنبہ کیا ہے کہ بسری سے رائیکوٹ کے درمیان جاری مائننگ سے نکلنے والی اضافی مٹی اور ریت بہہ کر تربیلا اور مجوزہ دیامر بھاشا ڈیم کے ذخیرہ آب تک پہنچ رہی ہے۔
اس اضافی مٹی کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی گنجائش کم ہونے، بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں کے متاثر ہونے اور قومی آبی منصوبوں کی مجموعی عمر گھٹنے کا شدید خدشہ ہے۔
ای پی اے کا کہنا ہے کہ خطہ پہلے ہی گلیشیئرز پگھلنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہے، ایسے میں غیر قانونی اور غیر متوازن مائننگ سے جھیلیں بننے اور زیریں علاقوں میں تباہ کن سیلاب آنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
محکمہ معدنیات کے مطابق اب تک سونے کی مائننگ کے 77 لیز معاہدے (بشمول 5 غیر ملکی کمپنیوں) کے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ غیر قانونی مائننگ بھی جاری ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیرِ ماحولیات راجہ ناصر نے اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان خدشات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس کا سدباب ترجیحات میں شامل ہے۔
"ہم ایک نیا طریقہ کار اور اتھارٹی تشکیل دے رہے ہیں۔ آئندہ ہیوی مشینوں کے ذریعے مائننگ کی اجازت صرف ان مقامات پر ہو گی جہاں کسی انسانی آبادی، انفراسٹریکچر یا ماحولیات کو خطرہ نہ ہو۔ اس کے ساتھ روایتی انداز میں ہاتھ سے سونا نکالنے والے ‘سونے وال’ قبائل کی بھی حوصلی افزائی کی جائے گی۔”
Share this content:


