پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بی بی سی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ اور پلندری کے سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ چار حلقوں میں پولنگ اپنے شیڈول کے مطابق 10 اگست کو منعقد ہو گی۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ملتوی کیے جانے والے حلقوں سے متعلق حتمی فیصلہ مختلف درخواستوں اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
واضح رہے کہ ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کے ایک حلقے میں انتخابی مقابلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک موجودہ وزیراعظم اور دو سابق وزرائے اعظم میدان میں ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو مختلف علاقوں کی مجموعی صورتحال سے متعلق متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں انتخابات کے التوا کی استدعا کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق موصول ہونے والی درخواستوں اور متعلقہ اداروں سے حاصل کی گئی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد بعض حلقوں میں انتخابی عمل ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ دیگر حلقوں میں پولنگ شیڈول کے مطابق 10 اگست کو کرائی جائے گی۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے آئینی و قانونی ذمہ داریوں کے مطابق اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام فیصلے عوامی مفاد اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے ووٹرز، امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی اور انتخابی عمل میں تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔
یاد رہے کہ ریاست کشمیر میں گذشتہ دو مہینوں سے لاک ڈائون ہے، انٹر نیٹ بندہے ، ریاست ، پاکستانی فورسز کی محاصرے میں ہے ، معاشی ناکہ بندی سے اشیائے خوردو نوش اور دویات کی شدید قلت سے کشمیری عوام متاثر ہے ،ایک سنگین انسانی بحران نے جنم لیا ہے ۔
مختلف علاقوں میں بنیادی حقوق کے حصول کے لئے عوامی دھرنے جاری ہیں ،100 سے زائد مظاہرین سیکورٹی فورسز کی جارحیت سے ہلاک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں جبری لاپتہ کئے گئے ہیں ۔
اس سنگین اور عدم استحکام سیکورٹی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر حکومت پاکستان عام انتخابات کروارہی ہے تاکہ اپنے من پسند نتائج حاصل کرسکے ۔جبکہ عوام نے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا ہواہے ۔
Share this content:


