مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جاری تحریک کے دوران پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ایک سرگرم تحریکی کارکن کی ہمشیرہ نے ایکشن کمیٹی کے ممبران کے نام ایک انتہائی جذباتی اور پُرعزم خط لکھا ہے۔
یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہید کا جسدِ خاکی گزشتہ چار ہفتوں سے فورسز کی حراست میں ہے، تاہم اس طویل ترین جدوجہد اور ذاتی صدمے کے باوجود شہید کی بہن کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔
شہید کی ہمشیرہ نے خط میں پوری قوم کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ظالم اور جابر قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا۔
انہوں نے لکھا کہ اپنے جوان بھائی کی عظیم قربانی دینے کے بعد بھی وہ اپنی آنے والی نسلوں کی بقا، آزادی اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی مالی و جانی قربانی دینے کو تیار ہیں، کیونکہ ان کے لیے ذاتی مفادات سے بڑھ کر نسلوں کا مستقبل اہم ہے۔
تحریکی ذرائع کے مطابق، آج یہی کیفیت اور جذبہ پورے آزاد کشمیر کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا ہے جو اس فسطائیت، ظلم اور جبر کے خلاف میدانِ عمل میں ہیں اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور تحریکی قیادت نے شہید کی بہن کی ہمت، بے مثال جذبے اور استقامت کو زبردست الفاظ میں سلام پیش کرتے ہوئے عہد کیے کہ کشمیری قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور استحصال و جبر کا یہ سیاہ دور اب ختم ہونے کو ہے۔
ایکشن کمیٹی کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ گرفتاریوں، بدترین تشدد، گولیوں اور شہادتوں کے باوجود یہ عوامی تحریک اپنے بنیادی حقوق کے مطالبات پر مکمل عملدرآمد ہونے تک پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری رہے گی۔
تحریکی ساتھیوں نے عہد کیا ہے کہ شہداء کا مقدس خون کبھی رائگاں نہیں جائے گا اور یہ قربانیاں جلد رنگ لائیں گی۔
تحریکی قیادت کاکہنا تھا کہ ہم سچے جذبوں کی قسم کھا کر یہ عہد کرتے ہیں کہ شہداء کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، آخری فتح حق و سچ کی ہوگی اور جیت بالآخر عوام کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، ان شاء اللہ
Share this content:


