کشمیر میں تاجر رہنما ناصر ارباب کے مبینہ اغوا اور تشدد کےحقائق سامنے آ گئے

باغ/ کاشگل خصوصی تحقیقاتی رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل ارجہ میں انجمن تاجران ارجہ کے جنرل سیکرٹری سردار ناصر ارباب کے مبینہ اغوا اور تشدد کے واقعے کے حوالے سے حقائق سامنے آگئے۔

باوثوق ذرائع اور مقامی سطح پر کی جانے والی تحقیقات کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سردار ناصر ارباب کو چند روز قبل سول کپڑوں میں ملبوس اسلحہ سے لیس 15 سے 20 افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں ایک قریبی علاقے میں چھوڑ کر چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد انتظامیہ فورسز و بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس حملے کے پیچھے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان ملوث ہیں۔ تاہم، مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار ناصر ارباب خود عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اور تحریک کے اہم کرداروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ انہیں تحریک سے الگ کرنے کے لیے انتظامیہ و فورسز کی جانب سے مختلف نوعیت کا دباؤ اور مبینہ بلیک میلنگ کی گئی، لیکن انکار پر انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں واقعے کا الزام عوامی ایکشن کمیٹی پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

تحقیق کے دوران بعض ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مختلف فورسز سے وابستہ افراد کو سول لباس اور اسلحہ کے ساتھ مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، جن کا مبینہ مقصد تحریک سے وابستہ متحرک افراد کو نشانہ بنانا، ان پر تشدد کرنا اور بعد ازاں ان واقعات کا الزام عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد کرنا ہے تاکہ تحریک کو بدنام کیا جا سکے اور عوام میں خوف و ہراس پیدا ہو۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی ارجہ کے متحرک اراکین نے ان تمام دعوؤں کے تناظر میں کہا ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر پرامن، آئینی اور عوامی مطالبات کے حصول کے لیے جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک کو بدنام کرنے اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایسے مبینہ ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔

Share this content: