تحریر: خواجہ کبیر احمد
عوامی تحریکیں محض جذبات، نعروں اور ہجوم کے بل بوتے پر اپنی منزل حاصل نہیں کرتیں۔ بلکہ وہی تحریکیں دیرپا نتائج دیتی ہیں جن کے مقاصد واضح ہوں، قیادت ذمہ دار ہو، کارکن نظم و ضبط کے پابند ہوں اور ہر فرد اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماعی مقصد پر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جب کوئی تحریک اپنے اصل ہدف سے ہٹ کر مختلف آوازوں اور متضاد بیانیوں کا مجموعہ بن جائے تو اس کی طاقت کمزور پڑنے لگتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک اس لحاظ سے ایک منفرد مثال ہے کہ اس نے ابتدا ہی سے اپنے مطالبات واضح رکھے ہیں۔ یہ تحریک عوام کے بنیادی حقوق، سستی بجلی، منصفانہ ٹیکس نظام، شفاف حکمرانی، احتساب، عوامی وسائل پر عوام کے حق اور ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کے قیام کے لیے ہے جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرے۔ اس تحریک کا اس سے آگے کوئی خفیہ، نظریاتی یا سیاسی ایجنڈا نہیں۔ اسی وضاحت نے عوام کا اعتماد حاصل کیا اور اسی نے اس تحریک کو ایک وسیع عوامی تائید فراہم کی۔
یہی وجہ ہے کہ اس تحریک سے وابستہ ہر فرد پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و فعل کو اسی مقصد تک محدود رکھے۔ کسی بھی ایسے نعرے، تقریر یا عمل سے گریز کیا جانا چاہیے جو تحریک کے بنیادی مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دے یا یہ تاثر پیدا کرے کہ اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا کارفرما ہے۔ تحریک کی غیر مشروط حمایت کا مطلب کسی شخصیت، گروہ یا نظریے کی حمایت نہیں بلکہ ان عوامی مطالبات سے وابستگی ہے جن پر یہ پوری جدوجہد قائم ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سی جائز عوامی تحریکیں اپنے مخالفین کی طاقت سے نہیں بلکہ اپنے اندر پیدا ہونے والی بے احتیاطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتی رہی ہیں۔ چند غیر ذمہ دار افراد کے اشتعال انگیز بیانات، غیر اخلاقی زبان یا ذاتی ایجنڈے پوری تحریک کے مؤقف کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے مواقع مخالفین کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور اصل مطالبات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
کشمیری معاشرے کی شناخت دلیل، وقار اور شائستگی ہے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو گالم گلوچ، تحقیر یا ذاتی حملوں میں بدل دینا نہ کشمیری روایت کا حصہ ہے اور نہ ہی اس سے کسی عوامی جدوجہد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بلند آواز ہمیشہ مضبوط دلیل کی علامت نہیں ہوتی، اور نہ ہی سخت زبان کسی مؤقف کو مضبوط بناتی ہے۔
خاص طور پر بیرونِ ملک ہونے والے اجتماعات میں اس بات کا خیال رکھنا ناگزیر ہے کہ عوامی پلیٹ فارم کو صرف ان افراد کے لیے مخصوص رکھا جائے جو تحریک کے متفقہ مؤقف، اس کے نظم و ضبط اور اس کے وقار کا احترام کرتے ہوں۔ ہر شخص کو مائیک دے دینا اظہارِ رائے کی آزادی ضرور ہو سکتی ہے، لیکن کامیاب تحریکیں آزادیِ اظہار کے ساتھ ذمہ داری کو بھی لازم سمجھتی ہیں۔ ایک غیر ذمہ دار تقریر یا نامناسب نعرہ برسوں کی محنت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیر کے معاملے پر مختلف سیاسی قوتوں نے مختلف ادوار میں اپنے اپنے مفادات کے مطابق مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس لیے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوامی حقوق کی اس تحریک کو کسی جماعتی وابستگی، شخصی پسند و ناپسند یا بیرونی سیاسی کشمکش کا حصہ بنانے کے بجائے اس کی اصل روح کے مطابق صرف عوامی حقوق کی تحریک رہنے دیا جائے۔ یہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
ایک اور اہم پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، وہ ہر احتجاج کے اختتام پر آئندہ کے لائحۂ عمل کا واضح اعلان ہے۔ کامیاب تحریکیں اچانک فیصلوں کے بجائے باہمی مشاورت، منصوبہ بندی اور مرحلہ وار حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھتی ہیں۔ اس لیے ہر احتجاج کے اختتام پر عوام کو واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ اگلا قدم کیا ہوگا، کب اٹھایا جائے گا، کہاں اٹھایا جائے گا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی۔ اس سے ایک طرف کارکنوں اور عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، دوسری طرف بے یقینی، افواہوں اور غیر ضروری قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ منظم تحریکیں ہجوم کے جذبات پر نہیں بلکہ واضح منصوبہ بندی اور مسلسل رہنمائی کے ذریعے اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کرتی ہیں۔
اسی لیے احتجاج کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اجتماع سے قبل آئندہ مرحلے کے تمام اہم امور باہمی مشاورت سے طے کر لیا کریں اور انہیں اپنے باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ بنائیں۔ احتجاج کا اختتام صرف تقاریر یا نعروں پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک واضح، قابلِ عمل اور متفقہ لائحۂ عمل کے اعلان پر ہونا چاہیے۔ جب عوام کو یہ معلوم ہو کہ اگلا مرحلہ کب، کہاں، کس طریقۂ کار کے تحت اور کن مقاصد کے لیے ہوگا تو ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے، تنظیمی نظم برقرار رہتا ہے اور تحریک مسلسل، منظم اور مؤثر انداز میں اپنی منزل کی جانب آگے بڑھتی ہے۔
آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریک سے وابستہ ہر شخص یہ سمجھے کہ وہ صرف اپنی نمائندگی نہیں کر رہا بلکہ پوری تحریک کا چہرہ ہے۔ اس کے الفاظ، اس کا رویہ اور اس کی ذمہ داری اس جدوجہد کی ساکھ پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جذبات وقتی جوش پیدا کر سکتے ہیں، لیکن منزل تک پہنچنے کے لیے تحمل، حکمت، نظم و ضبط اور مقصد سے وفاداری ناگزیر ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام کی یہ جدوجہد اپنے واضح مقاصد، اخلاقی برتری اور منظم طرزِ عمل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو نہ صرف عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا بلکہ اس کے مطالبات کی قوت بھی بڑھے گی۔ کامیاب تحریکوں کی پہچان نعروں کی گونج نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی، قیادت کی بصیرت اور کارکنوں کے نظم و ضبط سے ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو ہر عوامی جدوجہد کو وقتی ہجوم سے نکال کر تاریخ ساز تحریک بنا دیتا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


