ماں اپنے بچوں پر لشکر نہیں چڑھاتی، ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے

تحریر: خواجہ کبیر احمد

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان جنگ کے میدان میں نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے اپنے شہری اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر کھڑے ہوں۔ ایک ذمہ دار حکومت وہ نہیں جو ہر اختلاف کو طاقت سے کچل دے، بلکہ وہ ہے جو غصے، احتجاج اور اختلاف کے باوجود اپنے عوام کو اپنا ہی خاندان سمجھے۔

آج پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جو صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے، وہ کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔ جب ایک خطہ مسلسل محاصرے، خوف، بے یقینی اور کشیدگی کی کیفیت میں چلا جائے تو سب سے پہلے حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، نہ کہ اپنی طاقت کا مزید مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ریاست ماں ہوتی ہے۔ بچے کبھی ناراض بھی ہوتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں، شکایت بھی کرتے ہیں، لیکن کوئی ماں اپنے ناراض بچوں کے خلاف لشکر نہیں بھیجتی۔ ماں انہیں گلے لگاتی ہے، ان کی بات سنتی ہے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ اگر ریاست اپنے ہی شہریوں کے سامنے طاقت کی علامت بن جائے اور شفقت کی نہیں، تو پھر ریاست اور رعایا کے درمیان اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

اگر حکومت نے جلدبازی میں ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے کشیدگی میں اضافہ ہوا، تو عظمت اس میں نہیں کہ ان فیصلوں پر اڑی رہے، بلکہ عظمت اس میں ہے کہ انہیں واپس لے۔ ضد حکومتوں کو مضبوط نہیں کرتی، بلکہ کمزور کرتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔ باہر سے منگوائی گئی فورسز کو فوری واپس کیا جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف جاری کیے گئے تمام نوٹیفکیشنز واپس لیے جائیں جو مذاکرات کے دروازے بند کرتے ہیں، شہید ہونے والے افراد کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کی جائیں تاکہ انہیں مذہبی اور سماجی روایات کے مطابق باوقار تدفین نصیب ہو، زخمیوں کو فوری علاج فراہم کیا جائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے، جبکہ خوراک، ادویات، بچوں کے دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔

اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ حکومتیں عوام سے بنتی ہیں، عوام کے لیے ہوتی ہیں اور عوام ہی ان کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ اگر عوام ہی خوف، محرومی اور بے اعتمادی کا شکار ہو جائیں تو اقتدار کی عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔

ریاست کے تمام اداروں کے لیے بھی یہ لمحۂ غور ہے۔ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ اعتماد انصاف، مکالمے اور احترام سے پیدا ہوتا ہے، طاقت سے نہیں۔

یہ وقت انا کا نہیں، دانشمندی کا ہے۔ یہ وقت طاقت دکھانے کا نہیں، زخم بھرنے کا ہے۔ اگر حکومت واقعی اس بحران کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے پہل کرنا ہوگی، کیونکہ پہل ہمیشہ طاقت ور اور ذمہ دار فریق کرتا ہے۔

آنیوالی نسلوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہو گی کہ حکومت کے پاس کتنی فورس تھی، کتنے اختیارات تھے یا کتنے نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے تھے۔ بلکہ آپ کے کردار کو وہ صرف یہ اس زاوئیے سے دیکھیں گی کہ جب اپنے ہی شہری مشکل میں تھے تو ریاست نے ماں کا کردار ادا کیا یا ڈائن کا۔

اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، کشیدگی کم کرے، اعتماد بحال کرے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور انسانی جانوں کو ہر سیاسی مصلحت پر مقدم رکھے۔ یہی ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور عوام دوست ریاست کا شیوہ ہے۔

٭٭٭

Share this content: