تحریر: صابر حسین
میں بحیثیت ایک جموں و کشمیر کا شہری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنی گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ صرف سیاسی اختلاف یا وقتی احتجاج تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک سنگین انسانی، سماجی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس نے پورے خطے کو بے یقینی، خوف اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق پچھلے پندرہ دنوں میں 24 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں اور کئی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی صورتحال کے بارے میں غیر یقینی میں مبتلا ہیں۔ ساتھ ہی تحریک چلانے والوں پہ فورتھ شیڈول لگا کر عام انسان کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، سڑکوں کی ناکہ بندی اور کاروباری سرگرمیوں کے تعطل نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے، مزدوروں، طلبہ اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو پہنچا ہے جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
یہ ایک اہم سوال ہے کہ آخر لوگ احتجاج کیوں کرتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ یہی بتاتی ہے کہ عوام اس وقت سڑکوں پر نکلتے ہیں جب ان کی آواز نہیں سنی جاتی، ان کے مسائل حل نہیں ہوتے اور انہیں اپنے ہی نظام میں انصاف اور نمائندگی کا احساس نہیں ہوتا۔ آزاد کشمیر میں بھی عوامی احتجاج کی بنیادی وجوہات میں بہتر حکمرانی، شفاف نظام، بنیادی سہولیات کی کمی، صحت اور تعلیم کے ناکافی ڈھانچے، روزگار کے محدود مواقع اور انصاف تک مشکل رسائی شامل ہیں۔ جب عوام کو بار بار یہ احساس ہو کہ ان کی بات نہیں سنی جا رہی تو ان کے لیے پُرامن احتجاج ہی اپنی آواز بلند کرنے کا واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جو کہ ہر مہذب اور جمہوری معاشرے میں ایک بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ بعض علاقوں میں ریاستی طاقت کے استعمال، فائرنگ، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کچھ خاندانوں کی جانب سے رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپوں، عورتوں اور بچوں کی ہراسانی اور مبینہ جبری گمشدگیوں کے سنگین خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کے حوالے سے نہایت حساس اور سنگین معاملات ہیں جن کی فوری، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ہونا ضروری ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آزاد کشمیر آج بھی کئی بنیادی مسائل کا شکار ہے جہاں انفراسٹرکچر کی کمی، صحت اور تعلیم کے ناکافی نظام، روزگار کے محدود مواقع اور عام شہری کی فیصلہ سازی میں کم شرکت جیسے مسائل عوامی احساسِ محرومی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ طبقاتی فرق کا احساس بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے کیونکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عوام کے اندر یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ طاقتور طبقہ مختلف مراعات سے فائدہ اٹھا رہا ہے جس سے معاشرتی فاصلے مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔
اسی دوران سیاسی بیانات اور سخت زبان بھی حالات کو مزید کشیدہ بنا رہے ہیں کیونکہ جب اختلافِ رائے کو دشمنی یا جرم کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے اعتماد کے بجائے خوف اور تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں قیادت کی اصل ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرے نہ کہ اسے بڑھائے۔
اسی طرح میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور عوام کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ زمینی حقائق مکمل طور پر سامنے نہیں لائے جا رہے جس سے افواہیں اور غیر مصدقہ معلومات زیادہ پھیلتی ہیں۔ ایک ذمہ دار میڈیا کا کام غیر جانبداری کے ساتھ حقیقت کو عوام تک پہنچانا ہوتا ہے تاکہ اعتماد قائم رہے اور معاشرہ درست معلومات پر آگے بڑھ سکے۔
اس تمام صورتحال میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی، آئینی اور جمہوری حق ہے۔ عوام کو دشمن کے طور پر نہیں بلکہ اپنے ہی نظام کا حصہ سمجھ کر ان کی آواز کو سننا چاہیے، کیونکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ طاقت اور جبر وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتے ہیں مگر پائیدار امن کبھی نہیں لا سکتے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا بھر میں بھی کشمیری کمیونٹی نے برطانیہ، برسلز، جنیوا، کینیڈا اور امریکہ میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے کیے ہیں جہاں لوگوں نے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، گرفتاریوں، تشدد اور بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی اداروں سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ مسئلہ اب ایک بین الاقوامی انسانی توجہ کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں خوراک، ادویات اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور پاکستانی ادارے انٹری پوائنٹس پرکھانے پینے کی اشیاء تک ضبط کر رہے ہیں جس کے ویڈیو ثبوت سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں یہ صورتحال عام شہریوں، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔بنیادی انسانی ضروریات کو کسی بھی صورت دباؤ یا انتظامی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
آخر میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے عوام کسی دشمنی کے لیے نہیں بلکہ اپنے حقوق، عزت، انصاف اور بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ اگر واقعی ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ قائم کرنا ہے تو اس کا واحد راستہ طاقت کا استعمال نہیں بلکہ مکالمہ، شفاف تحقیقات، بنیادی انسانی حقوق کا احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہے، کیونکہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہوتا اور جبر کے ذریعے کبھی بھی پائیدار استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
٭٭٭
Share this content:


