کشمیر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کو 29 روز مکمل، انٹرنیٹ سروس 33 روز سے معطل،دھرنے جاری

مظفرآباد/کاشگل خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری پہیہ جام، شٹر ڈاؤن احتجاج اور دھرنوں کو 28 روز مکمل ہو گئے ہیں جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کو 33 دن گزر چکے ہیں۔ مسلسل احتجاج اور ہڑتال کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں اور معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ حکومت تاحال عوامی مطالبات تسلیم کرنے سے انکاری ہے، جس کے باعث عوام نے اپنے مطالبات کی منظوری تک پہیہ جام، شٹر ڈاؤن، دھرنوں اور احتجاجی سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی گرفتاری کو کئی روز گزر نے کے باوجود، تاہم انہیں تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس صورتحال کو قانون اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ریاستی اداروں کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور مبینہ طور پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق شوکت نواز میر سمیت تقریباً ہزاروں افراد اس وقت فورسز کی تحویل میں ہیں اور ان میں سے متعدد کو کئی روز گزرنے کے باوجود عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

احتجاجی رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر آئین اور قانون کی پاسداری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو زیرِ حراست افراد کو قانونی تقاضوں کے مطابق عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور عوامی مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

Share this content: