کلگری، البرٹا / کاشگل نیوز ڈیسک
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کینیڈا برانچ کے زیر اہتمام 3 جون 2026 کو ایک عوامی اجتماع منعقد ہوا، جو کینیڈا کے شہر کلگری میں نئے آنے والے ان سیاسی کارکنوں کے اعزاز میں تھا جن کو کینیڈا میں رہنے کے لیے عارضی رہائش رکھنے کی منظوری دی گئی۔
پروگرام کے آغاز سے پہلے محنت کشوں کا عالمی ترانہ اور کئی دوسرے انقلابی گیت بجائے گئے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز پارٹی کے سینئر رہنما حبیب رحمان نے کیا اور پروگرام کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بدترین ریاستی تشدد کا شکار ہیں: بیرسٹر ولید بابر
اس کے بعد بیرسٹر ولید بابر نے پہلے مقرر کے طور پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج ریاست جموں کشمیر کرب اور اذیت سے گزر رہی ہے۔ خصوصی طور پر پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان بدترین ریاستی تشدد اور جبر کا شکار ہیں۔ عوام کا چاروں طرف سے محاصرہ کر لیا گیا ہے، ان کے قومی، معاشی اور سیاسی حقوق غصب کر لیے گئے ہیں۔ وہ ایک قیدی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں ہم وہ تمام لوگ جو پاکستان کے قبضے سے باہر دنیا کے مختلف ملکوں میں رہ رہے ہیں، کو زیادہ متحرک اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے، اور بین الاقوامی سطح پر اداروں، حکومتوں، سیاست دانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ روابط بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی تشدد بھری پالیسیوں، عوام پر مسلط جبر اور ریاستی قتل و غارت گری کو روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 9 جون 2026 کو عوامی مزاحمتی تحریک کے احتجاج کو کچلنے کے لیے پاکستان کی فورسز اور آزاد جموں کشمیر کی طفیلی انتظامیہ عوام کا قتل عام کرنے کے لیے انتظامات کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ہم سب کو متحد ہو کر اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر سطح پر مالی، سیاسی اور سفارتی کردار ادا کرنا ہے۔
اس کے بعد جے کے پی این پی کینیڈا برانچ کے پبلسٹی سیکریٹری عدیل احمد نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان ریاست کی تقسیم کا مجرم ہے: زاہد خان
ممتاز آزادی پسند رہنما زاہد خان نے ریاست کی تقسیم کے پس منظر پر بات رکھتے ہوئے کہا کہ دھوکہ دہی اور دروغ گو رہنما اس کے ذمہ دار ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف مذہب کی بنیاد پر عوام کا قتل عام کروایا گیا بلکہ ریاست کو ہی توڑ پھوڑ کر برباد کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ریاست کے عوام بے توقیر اور دربدر ہو گئے۔ انہوں نے پاکستان کو ریاست کی تقسیم کا مجرم قرار دیا اور ایک متحد و مشترک جدوجہد کو لازمی قرار دیا کہ یہی واحد راستہ ہے جو ریاست کو دوبارہ متحد کر سکتا ہے۔
عوامی مزاحمت نصف صدی کی محنت کا نتیجہ ہے: عبیداللہ
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کینیڈا برانچ کے سیکریٹری عبیداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہم سب کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ جے کے پی این پی اور جے کے نیپ نظریاتی طور پر بہت حد تک ہم آہنگ ہیں۔ باہمی تعاون، جو پہلے سے بھی موجود ہے، کو مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ عوامی مزاحمت تنہا اور فوری پیدا نہیں ہوئی بلکہ نصف صدی کی محنت اور مشقت کا نتیجہ ہے، اور ہم ہر سطح پر چاہے وہ ریاست کے اندر ہو یا بین الاقوامی سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
عالمی تناظر اور تارکینِ وطن کے مسائل: عابد خورشید اور ریشی ناگر
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دور اندیش مستقبل پر نظر رکھنے والے معروف صحافی عابد خورشید نے کہا کہ پاکستان کے کنٹرول والے ریاست کے حصے میں عوام بری طرح پامال ہو رہے ہیں اور مزاحمتی عوام انتہائی پرامن اور عدم تشدد پر عمل پیرا ہیں، جو عظیم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ نارتھ امریکہ میں بڑھتے ہوئے دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے امیگرنٹس، خاص طور پر جنوبی ایشیا کا پس منظر رکھنے والے امیگرنٹس کو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے اور متحد ہو کر ان قوتوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔
ممتاز بھارتی پنجاب کے معروف صحافی ریشی ناگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی تقسیم نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔ ہم سب کو اس تقسیم سے بالاتر ہو کر اتحاد کے ساتھ رہنا ہوگا، تب ہی ہم مل کر ان نفرتوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر کا ہر شہری ہمارے اٹھائے گئے سوالات پر سڑکوں پر ہے: پروفیسر سکندر اعظم
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے بانی رکن پروفیسر سکندر اعظم جو اپنی انتہائی خراب صحت کے باوجود پروگرام میں شریک ہوئے، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں جے کے پی این پی کے بانی ارکان میں شامل ہوں۔ اپریل 1985 میں جب ہم نے پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اگرچہ وہ انتہائی مشکل وقت تھا، لیکن ہم نے ایک نئی سوچ، سماج کو بدلنے اور غلامی سے چھٹکارے کے لیے ایک انقلابی پروگرام پیش کیا۔ مجھے آج بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جو مطالبات اور سوالات ہم نے ابتدائی طور پر اٹھائے تھے، آج پاکستان کے زیر قبضہ آزاد جموں کشمیر کا ہر شہری سڑک پر کھڑا ہو کر انہی سوالات کو اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے جے کے میں عوامی مزاحمتی تحریک ایک منصفانہ تحریک ہے، جو ساری دنیا میں اختیار اور وقار کے لیے کی جانے والی مزاحمت کا حصہ ہے، جہاں عوام اور ممالک اپنی بقا اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور سامراج سے قبضہ چھڑانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف ہماری ریاست کی تقسیم کا بنیادی ذمہ دار ہے بلکہ اس نے ہماری ریاست کے بے شمار معصوم شہریوں کا بے پناہ قتل بھی کیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاست کے تمام باشندوں کو بہت زیادہ سمجھ سے کام لینے اور تیاری کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کسی بھی وقت ہمارے عوام کا قتل عام کر سکتا ہے۔
غیر طبقاتی سماج کے لیے مشترکہ جدوجہد: ماجد اشفاق
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کینیڈا کے سابق صدر ماجد اشفاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ جے کے پی این پی اور جے کے نیپ کی جدوجہد مشترکہ ہے۔ ہم پیپلز نیشنل الائنس پی این اے کے پلیٹ فارم پر جبر کے خلاف مل کر لڑتے رہے ہیں۔ آئندہ بھی ہمارا باہمی تعاون ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام اور ایک منصفانہ معاشرے پر مبنی آزاد وطن کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔
کینیڈین ارکانِ اسمبلی کا اظہارِ یکجہتی: دلوندر برار اور عرفان صابر
کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی قانون ساز اسمبلی کے رکن دلوندر برار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر اس مظلوم کے ساتھ ہیں جو جبر و ظلم سہہ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں کینیڈا کے اصل باشندوں پر کیے گئے ظلم اور نسل کشی کو بھی یاد رکھنا چاہیے، جو اس کا شکار ہوئے۔ انہوں نے جے کے پی این پی کا شکریہ ادا کیا اور ساحر لدھیانوی کی نظم سے بھی شرکاء کو محظوظ کیا۔
البرٹا کے سابق صوبائی وزیر اور رکن قانون ساز اسمبلی عرفان صابر نے بھی خطاب میں منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور فیض احمد فیض کی پنجابی نظم "ربا سچیا توں کہہ اکھیا سی، جا او بندیا توں جگ دا شاہ اے” سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
زنجیر سے شمشیر کا سفر طے کرنا ہوگا: عدنان یعقوب
جے کے پی این پی کینیڈا برانچ کے صدر عدنان یعقوب نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
"میرے دیش واسیو! میں نے اپنے پاؤں کی زنجیر سے ایک شمشیر بنا لی ہے۔ زنجیر سے شمشیر کا یہ سفر بنیادی طور پر کمزوری سے طاقت کا سفر ہے، جو ہم سب نے مل کر طے کرنا ہے۔ اسی سفر میں ہم آج یہاں بیٹھے ہیں اور ہماری یہ بیٹھکیں جاری رہیں گی۔”
پروگرام کے آخر میں پارٹی کے سینئر رہنما حبیب رحمان نے ایک قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
متفقہ طور پر منظور شدہ قرارداد کا مکمل متن:
آج کا یہ اجلاس تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان اے جے کے میں جاری عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے مسلح فوجی دستے بھیج رہا ہے، جو معصوم اور نہتے عوام کا قتل کریں گے۔ ماضی میں بھی وہ ایسا کئی بار کر چکا ہے۔ آج کا یہ اجلاس اے جے کے میں عوام کی مزاحمت کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے اور ہم 9 جون 2026 کو دی گئی احتجاجی کال میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اجلاس پاکستان کی ان پرتشدد پالیسیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ عوام کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان کے آباؤ اجداد ریاست جموں کشمیر کے آبائی شہری ہیں۔ ان سے ان کی شہریت کوئی نہیں چھین سکتا، لیکن ان کی نشستوں کے نام پر پاکستان ایک ڈھونگ رچاتا چلا آیا ہے، جس کے ذریعے وہ سیاسی نظام پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہے۔
مہاجرین مقیم پاکستان کو آزاد جموں کشمیر میں رہنے کا پورا حق ہے اور آزاد کشمیر میں ان کا اسٹیٹس مہاجر کا نہیں بلکہ ریاست کے باشندۀ اول کے طور پر برابر کے شہریوں کا ہے۔ ان کی آزاد کشمیر میں آبادکاری کے انتظامات کیے جائیں، نشستوں کے نام پر فراڈ اور دھوکے بازی بند کی جائے۔ عوام فراڈ اور دھوکے بازی برداشت نہیں کریں گے۔
Share this content:


