سابق سینیٹر مشتاق احمد کا دورہ کشمیر ، آنکھوں دیکھی صورتحال اور سی ایم ایچ کا احوال

اسلام آباد /کاشگل نیوز ڈیسک

پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (آزاد جموں و کشمیر) کے شہر راولاکوٹ کا ہنگامی دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت، مقامی انتظامیہ اور رینجرز حکام سے ملاقاتیں کر کے ریاست اور مظاہرین کے درمیان جاری شدید ڈیڈ لاک اور ممکنہ خونریزی کو روکنے کی کوششیں کی ہیں۔

ان کے اس اہم دورے کی تفصیلی روداد اور تلخ حقائق ان کی زبانی درج ذیل ہیں:

غیر حکومتی قیادت سے رابطے اور راولاکوٹ روانگی

ایک طرف حکومت اس بات پر ڈٹ چکی ہے کہ وہ ہر صورت میں اپنی رٹ قائم کر کے رہے گی، خواہ کتنا ہی جانی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔ دوسری طرف، دھرنے کے شرکاء اور آزاد کشمیر کے عوام کا موقف ہے کہ جب تک ان سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اور حالیہ حکومتی فیصلے واپس نہیں لیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔

دونوں اطراف کی اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے پاکستان میں غیر حکومتی لیڈرشپ سے رابطوں کا فیصلہ کیا، جس کے تحت میں نے راجہ علامہ ناصر عباس اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ راولاکوٹ چل کر صورتحال کا جائزہ لیں اور ایکشن کمیٹی کی لیڈرشپ سے مل کر بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

دونوں رہنماؤں نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے پیر کے روز راولاکوٹ جانے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے میں نے اپنا دورہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا۔ اتوار کی شام دوبارہ ملاقات میں تفصیلات طے پائیں، مگر اگلی صبح ان کا پیغام موصول ہوا کہ عاشورہ (محرم الحرام) کی مصروفیات کے باعث وہ اب 10 محرم کے بعد جائیں گے۔ اس اچانک تبدیلی کے بعد، میں اپنے چند ساتھیوں کو لے کر خود راولاکوٹ کے لیے روانہ ہو گیا۔

دھرنے کے اسٹیج پر آمد اور ایکشن کمیٹی سے مذاکرات

راولاکوٹ پہنچنے پر ہمارے گائیڈ نے ہمیں مختلف راستوں سے گزارتے ہوئے دھرنے کے مقام اور براہِ راست اسٹیج پر پہنچا دیا، جہاں ہماری ملاقات عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران اور ایکشن کمیٹی کے دیگر مرکزی رہنماؤں سے ہوئی۔ اسٹیج سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو خطاب کی دعوت دی گئی، جہاں ہم نے حاضرین سے گفتگو کی۔ میری گفتگو شاید کچھ زیادہ طویل اور سخت تھی، جس پر بعد میں سرکاری حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور اب مجھے اس حوالے سے مختلف پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں۔

اس دوران ہمیں معلوم ہوا کہ دو روز قبل اسٹیج سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ 23 جون کو ہو گا۔ ہم نے ایکشن کمیٹی کی لیڈرشپ سے درخواست کی کہپاکستا ن کی نازک صورتحال اور محرم الحرام کے احترام میں اس لانگ مارچ کو عاشورہ گزرنے تک ملتوی کر دیا جائے۔ ہماری اس درخواست پر، عمر نذیر کشمیری صاحب نے محرم تک تو نہیں، البتہ مارچ کو 23 کے بجائے 25 جون تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

بحران کے پرامن حل کے لیے تجاویز

دھرنے کے بعد، ہم نے بھمبر، میرپور، کوٹلی، باغ اور پونچھ سے تعلق رکھنے والے کور کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ایک تفصیلی اور الگ ملاقات کی، جہاں ہم نے انہیں مذاکرات کے ذریعے اس بحران کا پرامن حل نکالنے کا مشورہ دیا۔ ہم نے درج ذیل تجاویز ان کے سامنے رکھیں:

دھرنا بے شک جاری رکھا جائے، مگر خیر سگالی کے طور پر مظفرآباد مارچ کے پروگرام کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔

عام عوام کی سہولت کے لیے دکانیں کھولنے اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کیا جائے تاکہ خوراک اور دیگر اشیاءِ خوردونوش کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

ہم نے انہیں یقین دلایا کہ اگر آپ کی طرف سے یہ مثبت پیش رفت ہوتی ہے، تو اس کے جواب میں ہم حکومت پر دباؤ ڈال کر کچھ رعایتیں لینے کی کوشش کریں گے۔

اس پر ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا: "ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور ہمیں طاقت سے کچلنا چاہتی ہے، لیکن ہم اپنے حقوق کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہیں”۔ تاہم، انہوں نے ان تجاویز پر اپنے ساتھیوں سے صلاح مشورہ کر کے حتمی جواب دینے کا یقین دلایا۔ ہم نے انہیں یہ بھی تجویز دی کہ وہ مظفرآباد کی طرف مارچ کو 10 محرم تک ملتوی کر کے مذاکرات کے لیے اپنی ایک کمیٹی نامزد کر دیں۔ انہوں نے اس پر بھی مشاورت کے بعد جواب دینے کا وعدہ کیا۔

خفیہ ایجنسی کی اطلاع اور رات کی بے چینی

ہم نے رات راولاکوٹ میں ہی قیام کیا۔ راستے میں ہمارے مہمانوں نے ایک کھوکھا تلاش کیا جہاں کھانے میں کچھ کچی روٹیاں اور چنے دستیاب تھے۔ وہاں ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس کا تعلق ایک خفیہ ایجنسی سے تھا۔ اس نے ہمیں چونکا دینے والی خبر دی کہ "کل رات دھرنے والوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن ہونے والا ہے”۔

اس شخص کی بات سن کر، اور دھرنے میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد اور ان کا بے پناہ جذبہ دیکھ کر میری رات کی نیند اڑ گئی۔ مجھے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر آپریشن ہوا تو ایک خوفناک تصادم ہو گا جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اسی فکر اور پریشانی کے باعث میں رات 2 بجے تک سو نہ سکا، اور صبح 5 بجے سے پہلے ہی دوبارہ آنکھ کھل گئی۔ باقی وقت اسی سوچ میں گزرا کہ اب آگے کیا حکمتِ عملی ہونی چاہیے۔

سی ایم ایچ (CMH) کا دورہ اور جانی نقصان کی تفصیلات

اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد، میں نے کمشنر پونچھ، ڈی آئی جی پونچھ اور رینجرز کے کمانڈرز سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں، دھرنے میں جا کر مظاہرین کے حق میں تقریر کرنے کے فوراً بعد انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز سے ملنا ایک انتہائی مشکل اور حساس فیصلہ تھا، مگر انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے یہ ضروری تھا۔

ذرائع کے ذریعے ڈی آئی جی کے اسٹاف آفیسر سے رابطہ ہوا اور ہم نے سی ایم ایچ (CMH) کا دورہ کرنے اور حکام کا نکتہ نظر جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسٹاف آفیسر اپنے اعلیٰ حکام سے اجازت لے کر خود ہمیں لینے آئے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ "ہم آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کل آپ دھرنے میں گئے اور وہاں سخت تقریر بھی کی، مگر ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھانا چاہتے ہیں”۔ میں نے جواب دیا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں، لیکن پہلے ہمیں سی ایم ایچ لے جایا جائے تاکہ ہم زخمیوں اور لاشوں کی صورتحال خود دیکھ سکیں۔

جب ہم باہر نکلے تو پورا شہر سو فیصد بند تھا اور کرفیو جیسی صورتحال کی وجہ سے سڑکوں پر دو سے زیادہ لوگ نظر نہیں آ رہے تھے۔ جس راولاکوٹ میں ہر وقت ہزاروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں پورے شہر میں درجن بھر لوگ بھی موجود نہیں تھے۔

ہم سی ایم ایچ پہنچے تو ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (DMS) ڈاکٹر جواد کیانی نے ہمارا استقبال کیا اور مختلف وارڈز کا دورہ کرایا۔ اکثر وارڈز 99 فیصد خالی تھے۔ وہاں صرف 2 زخمی پولیس اہلکار زیرِ علاج تھے؛ ایک کا تعلق پنجاب سے تھا جس کی ٹانگ زخمی تھی، اور دوسرے کا تعلق نیلم سے تھا جس کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔

اس کے بعد ہم سی ایم ایچ کے کمانڈر بریگیڈیئر عصمت اللہ خان اور ڈی ایم ایس ڈاکٹر جواد کے دفاتر میں گئے، جہاں انہوں نے ہمیں زخمیوں اور لاشوں کی آفیشل فہرست دکھائی۔

اس فہرست کے مطابق:

کل زخمی: 133 افراد
کل لاشیں: 15 لاشیں

جب ہم نے تفصیلات مانگیں تو انہوں نے بتایا کہ دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ باقی تمام زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ لاشوں کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کچھ لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں جنہیں کہیں امانت کے طور پر دفنا دیا گیا ہے اور حالات سازگار ہوتے ہی ورثا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

بریگیڈیئر عصمت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں جو کوئی بھی آئے، اس کا علاج ان کا فرض ہے، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اور ان کا عملہ ہر وقت الرٹ رہتا ہے۔ تاہم، ہم نے سی ایم ایچ کو بالکل ویران پایا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ جہاں او پی ڈی (OPD) میں روزانہ ہزاروں مریض آتے تھے، اب وہاں تعداد درجنوں میں بھی نہیں ہے اور جو آ رہے ہیں وہ بھی سیکیورٹی فورسز کے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے، جب شہر میں کرفیو ہو گا تو عام لوگ ہسپتال کیسے پہنچیں گے۔

رینجرز اور سول ایڈمنسٹریشن سے ملاقاتیں

سی ایم ایچ کے بعد ہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گئے جہاں ہماری ملاقات رینجرز کے سینئر کمانڈرز سے ہوئی۔ ہم نے ان پر واضح کیا کہ یہاں مزید طاقت کا استعمال حالات کو قابو سے باہر کر دے گا، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ مقامی انتظامیہ کے ماتحت ہیں اور انہی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

اس کے بعد ہماری ملاقات کمشنر، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل کمشنر سے ہوئی جو لگ بھگ دو گھنٹے جاری رہی۔ یہ تینوں افسران صورتحال پر انتہائی افسردہ تھے اور مذاکرات کی کامیابی کے خواہشمند تھے۔ انہوں نے شروع سے لے کر اب تک کی تمام تفصیلات ہمارے ساتھ شیئر کیں۔ ہم نے بیوروکریسی کا روایتی نکتہ نظر بھی سنا، کیونکہ ان کا کام روزمرہ کی صورتحال سے نمٹنا اور حکامِ بالا کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوتا ہے، انہیں معاملات کو بڑے سیاسی یا سٹرٹیجک تناظر میں دیکھنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

میں نے انتظامیہ کو تفصیل سے سمجھایا کہ:

طاقت کے استعمال سے مزید جانی نقصان ہو گا، جس سے پورے آزاد کشمیر میں شدید بدامنی پھیل جائے گی۔

آزاد کشمیر میں بدامنی اور جانی نقصان کے اثرات عالمی ہوں گے، جو کشمیر کی تحریکِ آزادی اور پاکستان کے اصولی موقف پر گہرے منفی اثرات مرتب کریں گے۔

چونکہ آزاد کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، اس لیے بھارت اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لہذا، حکومت اور انتظامیہ کو اس مسئلے کو محض چند لوگوں کی تقاریر یا رویوں کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔

میں نے انہیں مزید بتایا کہ عام مظاہرین اور شاید جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو بھی اس بین الاقوامی تناظر کا ادراک نہیں ہے، اس لیے ریاست کو بڑے کینوس پر دیکھنا چاہیے اور کسی بھی ایسے تصادم سے بچنا چاہیے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ چونکہ ہم معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اس لیے وہ 10 محرم تک کسی بھی قسم کے آپریشن سے مکمل اجتناب برتیں۔ انتظامیہ نے ہماری کوششوں کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ اگر مظاہرین نے مظفرآباد کی طرف مارچ شروع نہ کیا، تو وہ اپنی طرف سے کوئی آپریشن نہیں کریں گے۔

اختتامی تاثرات: "دوسرا سرینگر”

ملاقات کے بعد، ڈی آئی جی کے اسٹاف آفیسر ہمیں شہر کی حدود سے باہر نکالنے کے لیے گاڑی کے آگے چلتے رہے۔ راستے میں راولاکوٹ کے دو سینئر صحافیوں سے بھی مختصر ملاقات ہوئی، جن کے چہروں پر گہری اداسی اور مایوسی لکھی تھی۔ وقت کی قلت کے باعث ہم زیادہ بات نہ کر سکے اور اسلام آباد واپسی کا راستہ لیا۔

راولاکوٹ کے بازاروں اور ویران سڑکوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ اس پرامن اور خوبصورت وادی کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اقتدار کے نشے میں دھت سیاستدانوں نے صرف اپنی حکومتیں بچانے اور بنانے کے لیے اس پرامن شہر کو "دوسرا سرینگر” بنا دیا ہے۔

Share this content: