باغ/مظفرآباد /کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف ایک بار پھر الزامات اور پروپیگنڈے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بھی عوام اپنے جائز حقوق کے لیے منظم ہوتے ہیں تو حکمران طبقہ اصل مسائل حل کرنے کے بجائے توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے بیانیے تراشنے لگتا ہے۔
حال ہی میں بعض میڈیا رپورٹس میں عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو بھارتی ایجنڈے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جسے عوامی حلقے حقائق کے منافی اور عوامی شعور کی توہین قرار دے رہے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی، بے روزگاری، ٹیکسوں کے بوجھ اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت کے پاس عوامی مطالبات کا جواب موجود ہے تو وہ مذاکرات اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو مطمئن کرے، مگر مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے تحریک کو متنازع بنانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران طبقہ عوامی دباؤ سے پریشان ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج کا شہری پہلے جیسا نہیں رہا۔ عوام حکمرانوں کی سیاسی چالوں، الزام تراشی اور کردار کشی کی مہمات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پروپیگنڈے کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت میں کمی آنے کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ الزام کون لگا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ عوام کے مطالبات کب مانے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ "مطالبات مانو یا گھر جاؤ” کا نعرہ آج بھی عوامی جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے اور لوگوں کی توجہ اب الزامات کے بجائے اپنے بنیادی حقوق پر مرکوز ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کی سیاست ترک کرکے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے، کیونکہ شعور یافتہ عوام کو افواہوں اور الزامات کے ذریعے زیادہ دیر تک گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔
Share this content:


