امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے اورپھر سے بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو چلائے گا‘ اور دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔‘
انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے رات بھر ایران میں فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ نے گزشتہ رات ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم نے انھیں قابو کر لیا ہے۔ وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان کا زیادہ تر سامان ختم ہو چکا ہے۔ ان کا فضائی دفاعی نظام بھی ختم ہو چکا ہے۔‘
اس سے قبل پیر کے روز برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی محفوظ بحری راہداری قائم کی ہے جو ’تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں سے پاک‘ ہے۔ تاہم سفارت خانے کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ آبی گزرگاہ ’انتہائی خطرناک علاقے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا: ’آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی کھلی رہے گی۔‘
’ہم ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے، تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’آج کے بعد امریکہ کو ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔‘
تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک ’انتہائی غیر مستحکم حصے میں سلامتی اور تحفظ‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کو تمام کارگو پر ’20 فیصد‘ ادائیگی کی جائے گی۔
’اس عمل اور اس کے نظام کی تشکیل فوری طور پر شروع کی جائے گی۔‘
Share this content:


