تحریر: حارث قدیر
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر 9 جون سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ اگرچہ احتجاج پورے خطے میں پھیلا ہوا ہے، مگر اس کی سب سے واضح اور شدید جھلک پونچھ ڈویژن میں دکھائی دیتی ہے۔ ڈویژن کے صدر مقام راولاکوٹ کے چاروں اطراف ہزاروں افراد احتجاجی دھرنوں میں موجود ہیں۔ میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کے بیشتر چھوٹے بڑے شہر سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں، لیکن پونچھ ڈویژن میں منظر مختلف ہے۔ یہاں ریاست اور عوامی کمیٹیوں کی متوازی عمل داری سڑکوں پر صاف دکھائی دیتی ہے۔ ضلع سدھنوتی مکمل طور پر، جبکہ پونچھ کے بیشتر تحصیل ہیڈکوارٹرز، قصبے، بازار اور مرکزی شاہراہیں عوامی کمیٹیوں کے زیرِ انتظام ہیں۔ راولاکوٹ شہر البتہ اب بھی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
راولاکوٹ میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال 6 جون سے جاری ہے۔ 7 اور 8 جون کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے اور خونریز آپریشن کے بعد شہر کا کنٹرول سنبھالا اور اس کے فوراً بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ تب سے سائرن بجاتی فورسز کی گاڑیوں کے مسلسل فلیگ مارچ، ہر چوک پر قائم ناکے، مسلح اہلکاروں کی چوکیاں اور جگہ جگہ تلاشی کا عمل اس شہر کی نئی شناخت بن چکے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جو مزاحمت، سیاسی شعور اور عوامی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران احتجاج میں شریک افراد کے خلاف جس نوعیت کی تادیبی کارروائیاں کی گئی ہیں، ان کی مثال اس خطے کی حالیہ تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے، املاک اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، دفاتر کو نقصان پہنچانا، جائیدادیں ضبط کرنا، بینک اکاؤنٹس اور فون نمبر بند کرنا، حتیٰ کہ اہل خانہ کو ہراساں کرکے رہنماؤں کو سرنڈر پر مجبور کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
5 جون سے بند کی گئی انٹرنیٹ سروس آج تک بحال نہیں ہو سکی۔ راولاکوٹ میں موبائل فون سگنلز بھی شدید حد تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ دھرنوں کے مقامات پر رابطہ کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ تاہم مظاہرین نے ان پابندیوں کا بھی توڑ نکال لیا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود وہ کسی نہ کسی طرح انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرکے اپنی ویڈیوز، تصاویر اور تحریریں دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔
راولاکوٹ کو بظاہر خصوصی طور پر جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس ناکوں پر عمر کی تمیز کے بغیر شہریوں کو روکا جاتا ہے، ان کے موبائل فون کھنگالے جاتے ہیں، اور اگر کسی فون میں احتجاج، جلسے یا کسی سیاسی سرگرمی سے متعلق تصویر یا ویڈیو مل جائے، یا محض ہمدردی کا شبہ پیدا ہو، تو متعلقہ شخص کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ متعدد افراد کو سڑکوں پر ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر تھانوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
آہستہ آہستہ شہر کے تمام داخلی راستے اور رابطہ سڑکیں سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں آ چکی ہیں۔ شہر کے اندر نقل و حرکت تقریباً مفلوج ہے۔ راولاکوٹ کی بڑی آبادی دیہات یا دوسرے شہروں کا رخ کر چکی ہے، جبکہ جو لوگ کہیں جانے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ راتیں جاگتے ہوئے گزرتی ہیں، ہر دستک یہ اندیشہ لیے ہوتی ہے کہ شاید اب کسی گھر پر چھاپہ پڑنے والا ہے یا کسی قریبی دھرنے پر حملہ ہونے والا ہے۔
گرفتاریوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کئی تھانوں کے لاک اپ ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ پولیس اسٹیشنوں کے برآمدوں میں بھی زیر حراست افراد کو فرش پر بٹھایا جا رہا ہے۔ سینکڑوں نوجوان مختلف تھانوں میں قید ہیں، جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ بالخصوص راولاکوٹ پولیس اسٹیشن میں گرفتار افراد پر تشدد، تضحیک اور تحقیر کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
راولاکوٹ کے باسیوں نے شاید پہلی بار اپنے شہر کو اس صورت میں دیکھا ہے۔ ایک ایسا شہر جو کبھی زندگی، رونق، احتجاج، کھیلوں اور سیاسی سرگرمیوں سے آباد رہتا تھا، آج محصور، خاموش اور اجڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ خود کو ایک مفتوحہ شہر کے باشندے سمجھنے لگے ہیں۔
تاہم اس تمام جبر کے باوجود ریاست جس خوف کو معاشرے پر مسلط کرنا چاہتی تھی، وہ خوف رفتہ رفتہ اپنی تاثیر کھو رہا ہے۔ نوجوان، مرد اور خواتین اس خوف کو شکست دے چکے ہیں۔ عورتیں میلوں پیدل چل کر روزانہ دھرنوں میں پہنچتی ہیں۔ نوجوان گرفتاری اور تشدد کے خدشات کے باوجود گھروں سے نکلتے ہیں اور احتجاج کا حصہ بنتے ہیں۔ ہر سرکاری کارروائی کے بعد پورا معاشرہ مزید مضبوطی کے ساتھ مزاحمت کی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
دھرنوں کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے شب و روز پہرے دیے جاتے ہیں۔ درجنوں جانوں کی قربانیوں اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے باوجود نوجوان بے خوف ہو کر گولیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور ہر حملے کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مزاحمت نے واضح کر دیا ہے کہ طاقت سے جسموں کو تو زخمی کیا جا سکتا ہے، مگر اجتماعی ارادے کو شکست دینا آسان نہیں۔
راولاکوٹ، جو کبھی ہڑتالوں، سیاسی جلوسوں، تماشائیوں سے بھرے کھیل کے میدانوں اور زندگی سے بھرپور بازاروں کے لیے پہچانا جاتا تھا، آج اپنی ہی خاموشی میں گم ہے۔ اس کے گرد و نواح میں احتجاج کی صدائیں بلند ہیں، دھرنے آباد ہیں، مزاحمت جاری ہے، مگر شہر کے اندر سناٹا اتر آیا ہے۔ اس کی گلیاں ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، اور فضا پر ایک انجانا بوجھ طاری ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا شہر ایک طویل محاصرے کے اندر سانس لے رہا ہو، ایک ایسا محاصرہ جو صرف سڑکوں کا نہیں، بلکہ انسانوں کی روزمرہ زندگی، ان کی نفسیات اور ان کی اجتماعی یادداشت کا بھی ہے۔
٭٭٭
Share this content:


