پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات اور بدھ کی صبح پاکستانی فورسزکی جارحیت اورنہتے مظاہرین کے خلاف کریک ڈائون کے دوران فائرنگ و شیلنگ سے مزید 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ، تین کی حالت نازک ہے جبکہ حالات شدید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ کشمیر میں ایک مہینے سے زائد عرصے سے فورسز کی ناکہ بندی و کریک ڈائون سے اب تک 30 سے زائد افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جسے نسل کشی کی ایک ریاستی حکمت عملی قرار دی جارہی ہے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ گرفتار ولاپتہ ہیں اور متعدد علاقوں میں عوامی دھرنے جاری ہیں ۔
کاشگل نیوز نمائندے کے مطابق نہتے مظاہرین کی ہلاکتیں سدھنوتی کی تحصیل بلوچ اور راولاکوٹ میں بس ٹرمینل کے دھرنے کی طرف فورسز کی پیش قدمی کے دوران شدید جارحیت کی وجہ سے ہوئے۔
سرکاری سطح پر تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق کوٹلی سرساوہ سے فورسز کے کانوائے بلوچ کی طرف مارچ کر رہے تھے، مقامی شہریوں نے سراں اور بلوچ میں ان فورسز کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں امیدوار قانون ساز اسمبلی زاہد یاسین، ظفر مغل، ارسلان کبیر، احسان اللہ کی موقع پر گولی لگنے سے موت واقع ہو گئی۔
فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے رقیب عابد اور اعجاز شدید زخمی ہیں۔ رقیب عابد کو دو گولیاں لگی ہیں اور انہیں راولپنڈی ریفر کر دیا گیا ہے۔
دوسرا واقعہ راولاکوٹ میں بس ٹرمینل میں جاری احتجاجی دھرنے کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران پیش آیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں واجد حیات ساکن سون ٹوپہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق اس دوران بھاری اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں دو نوجوان زخمی ہوئے۔
دوسرے زخمی نوجوان ناصر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پلندری ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ ان واقعات کے بعد پونچھ ڈویژن میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
سرکاری سطح پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق تراڑکھل میں بھی کرفیو لگا دیا گیا۔
مختلف مقامات پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز شہروں میں گشت کر رہی ہیں۔ متعدد علاقوں میں آمد و رفت بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تاحال حکومت، ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ہلاکتوں اور دیگر واقعات کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کل 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
علاقے میں انٹر نیٹ گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے بند ہے ،فورسز کی جانب سے علاقے کی مکمل ناکہ بندی سے اشیائے خوردو نوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
Share this content:


