جموں کشمیرمیں دھرنوں اور لاک ڈاؤن کے 38 روز، آگے کیا ہوگا؟

حارث قدیر/عمیر خورشید

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ تین سال کے تسلسل سے جاری عوامی حقوق تحریک کے دوران گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ میں غیر معمولی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس وقت14جولائی کو راولاکوٹ میں لاک ڈاؤن کو 38روز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ریاست گیر لاک ڈاؤن کو 34روز مکمل ہو چکے ہیں۔ فورسز کی کارروائیوں اور حملوں کے مختلف واقعات میں اب تک کم از کم 50افراد کی جان چلی گئی ہے، سینکڑوں زخمی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔9جون کو بھمبر سے چلنے والا مارچ راولاکوٹ سے چند کلومیٹر فاصلے پر پڑاؤ کی صورت میں 34روز سے موجود ہے۔ اس مرکزی احتجاجی دھرنے کے ساتھ ساتھ راولاکوٹ کے چار اطراف 5مزید احتجاجی دھرنے قائم ہیں۔بس ٹرمینل گوئیں نالہ روڈ پر پونچھ کو اسلام آباد سے ملانے والی مرکزی سڑک پر دھرنا قائم ہے، پونچھ کو باغ سے ملانے والی سنگولہ روڈ پر بھی احتجاجی دھرنا قائم ہے، پونچھ کو مظفرآباد سے ملانے والی شاہراہ پر مجاہد آباد اور پانیولہ کے مقام پر دو احتجاجی دھرنے قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح راولاکوٹ کو باغ سے ملانے والی شجاع آباد روڈ پر پوٹھی مکوالاں ہائی سکول کے قریب بھی احتجاجی دھرنا قائم کیا گیا ہے۔ قیادت نے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت 15جولائی کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ ریاست ہر دو صورتوں میں لانگ مارچ کو روکنے کے لیے کمربستہ ہے۔ اسی سلسلے میں 14جولائی کی صبح بس ٹرمینل کے دھرنے پر فورسز نے حملہ کیا۔ بلوچ کے راستے فورسز کی بھاری نفری مرکزی دھرنے کی عقب سے ناکہ بندی کرنے کے لیے منتقل کی جا رہی تھی،جسے پہلے بلوچ میں اور بعد ازاں بیٹھک اعوان آباد میں روک دیا گیا۔ ان واقعات میں کم از کم 8افراد کی جان چلی گئی ہے، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

ریاست کا فیصلہ اور کریک ڈاؤن

ریاست نے تحریک کو کچلنے کا حتمی فیصلہ کر کے لانگ مارچ کے آغاز سے 4روز قبل 5جون کو ہی کریک ڈاؤن شروع کر دیاتھا۔ قبل ازیں مذاکرات کے مختلف ادوار ہوئے، حتمی مذاکرات 30مئی کو مظفرآباد میں پاکستان کی وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ کیے گئے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد جب تحریک کی قیادت نے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھا تو ریاست نے بھی فیصلہ کن کارروائی کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔

5جون کو پہلے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا گیا، اس کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ہی 14ہزار فورسز کی نفری بھی حکومت پاکستان سے منگوائی گئی، بعد ازاں مزید 8ہزار سے زائد نفری پر مبنی فورسز کو پاکستان سے جموں کشمیر میں بھیجا گیا۔ 5جون کی ہی شب انٹرنیٹ سروسز بند کر کے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا۔ مختلف شہروں میں چھاپے مارکر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مرکزی قیادت کے 27اراکین کو گرفتار کرنے کی کوششوں میں ناکہ بندیاں کی گئیں۔ اسی دوران ایک خفیہ اطلاع پر تحریک کے اہم رہنما عمر نذیر کشمیری کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔ اس دوران فورسز کی فائرنگ سے تحریک کا ایک اہم رہنما شاذیب حبیب سر میں گولی لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ عمرنذیر کشمیری بھی کان اور چہرے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔

فورسز کی اس کارروائی کے خلاف 6جون سے ہی راولاکوٹ میں لاک ڈاؤن شروع ہو گیا تھا۔ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال(سی ایم ایچ) کے سامنے شاذیب حبیب کی لاش رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا گیا۔ 7جون کی شب کو رینجرز نے آپریشن کے ذریعے اس دھرنے کو منتشر کیا۔ اس دوران کم از کم 24افراد کی جان گئی، جبکہ 7فورسز اہلکار بھی جان سے گئے۔ تاہم حتمی اموات کی حقیقی تعداد اس لیے معلوم نہیں ہو سکی کہ شاذیب حبیب سمیت دیگر مارے جانے والوں کی میتیں پولیس نے امانتاً دفن کر دیں۔ حالات پرامن ہونے کے بعد ہی اصل تعداد کی معلومات ہو سکتی ہے۔

ریاست نے ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے راولاکوٹ میں کرفیو نافذ کر دیا۔دیگر شہروں میں بھی آپریشن جاری رکھے گئے۔ اس دوران تحریک کے ساتھ شامل کارکنوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ، ایکشن کمیٹیوں اور سیاسی تنظیموں کے دفاتر کو سیل مہر کرنے اور ان کے اندرتوڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ شہریوں کی گاڑیاں، موٹرسائیکل اور دیگر سازو سامان کو بھی تباہ کیا گیا۔ راولاکوٹ میں فورسز نے کم از کم 7دکانوں کے شٹر توڑکر ان کے اندر لوٹ مار کی، جبکہ ایک پٹرول پمپ کو بھی لوٹا گیا۔

راولاکوٹ شہر میں مختلف مقامات پر اسلام آباد پولیس ناکے لگا کر آنے جانے والے شہریوں کی شناخت پریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون چیک کر رہی ہے۔ موبائل فون میں کسی بھی نوعیت کے احتجاج کی تصویر یا ویڈیو نظر آنے پر شہریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس اسٹیشن منتقل کیا جاتا ہے۔

مختلف شہروں میں سینکڑوں شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک بڑی تعداد کم عمر لڑکوں کی بھی ہے۔ تھانوں میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا معمول ہے۔ مقامی پولیس کو صرف نگرانی پرمقرر کیا گیا ہے، مظاہروں اور دھرنوں کومنتشر کرنے کا کام رینجرز کے سپرد ہے، ناکوں پر تلاشیاں، گرفتاریاں اور تشدد اسلام آباد پولیس کے ذریعے جاری ہے۔ دوسرے لفظوں میں جموں کشمیر کے لوگوں کو احتجاج کرنے کی پاداش میں اجتماعی سزا دینے کا عمل جاری ہے۔ تھانوں میں انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جہاں تشدد اور تضحیک و تذلیل ایک معمول ہے۔ کئی نوجوانوں کو زخمی حالت میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے زیر حراست رکھا گیا ہے۔

ریاستی اعداد و شمار کے مطابق425افراد کو شیڈول فور میں شامل کیا گیا ہے، 194سے زائد مقدمے درج کیے گئے ہیں اور450سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

مقامی پولیس افسران ہزاروں اور لاکھوں روپے رشوت لے کر گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا احسان کر رہے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے ریاست کی اس پالیسی کو کمائی کا ایک بہترین ذریعہ بنا رکھا ہے۔

انتقامی کارروائیاں

احتجاج میں شرکت سے شہریوں کو روکنے کے لیے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔ کاروباری حضرات کے اکاؤنٹس منجمد کرنے، ان کی پراپرٹیاں ضبط کرنے جیسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اس درجنوں پراپرٹیاں ضبط، سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے قانون کے مطابق شیڈول فور میں شامل کیے گئے افراد کے نام پر رجسٹرڈ موبائل فون نمبرز بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔

100سے زائد سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ کو احتجاجی دھرنوں میں شرکت کے شک کی وجہ سے ملازمتوں سے معطل کر دیے گئے ہیں۔ 90سے زائد ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن بند کر دی گئی ہے، جبکہ کم از کم 7حاضر فوجی اہلکاران کے خلاف بھی کارروائی کی تحریک کر دی گئی ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کو بھی خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اپنے طلبہ کو احتجاج میں شرکت سے روکیں، بصورت دیگر تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔

گرفتار تحریکی قائدین سمیت مختلف تحریک کے ساتھ جڑے لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد رہائی کے عوض کمیٹی سے لاتعلقی کے ویڈیو بیانات لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے

اسلام آباد سے جموں کشمیر جانے والے راستوں پر پنجاب پولیس کی کڑی نگرانی موجود ہے۔ مال بردار گاڑیوں کو تو مکمل روکے رکھا گیا ہے، تاہم پرائیویٹ گاڑیوں میں بھی راشن یا روز مرہ ضروریات کی اشیاء لے جانے والے مسافروں کو روک دیا جاتاہے۔ ان سے اشیائے ضروریہ چھین کر انہیں سفر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے خطے میں اشیاء خورونوش اور ادویات کی شدیدقلت موجود ہے۔

مذاکراتی عمل

ریاستی سطح پر تحریک کو کرش کرنے کے فیصلے کے بعد براہ راست مذاکرات کے لیے تاحال کوئی دعوت نہیں دی گئی۔تاہم مذاکرات کے حوالے سے ثالثی کے مختلف ادوار ہو چکے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، کور کمانڈر گوجرانوالہ کے نمائندگان کا دعویٰ رکھنے والے علماء حضرات، بارکونسل کے وفد، راولاکوٹ سے میئر، چیئرمین ضلع کونسل اور صدر بار کی قیادت میں وفد، کمشنر پونچھ اور اعلیٰ سول ایوارڈ یافتہ ایک کاروباری شخصیت سمیت مختلف لوگوں نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے تحریک کی میسر قیادت سے مذاکرات کے مختلف سیشنز کیے ہیں۔

اس دوران بااختیار حکومت کی طرف سے رکھی گئی ایک ہی شرط کو مختلف طریقوں سے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنا غیر مشروط ختم کرنے کی صورت میں ریلیف فراہم کرنے کی پیش کش کی جا رہی ہے۔ تاہم کمیٹی کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن ختم کرنے، سروں کی قیمتیں واپس لینے، مقدمات ختم کرنے، گرفتار شدگان کو رہا کرنے، مقتولین کی لاشیں واپس کیے جانے سمیت دیگر مطالبات پورے ہونے کی صورت میں مذاکرات کا حصہ بننے کی شرط عائد کی جاتی رہی ہے۔

میڈیا اور دانشور

روایتی میڈیا میں اس تحریک کو لے کر ریاستی پروپیگنڈے کو جس طرح یکطرفہ انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کی بھی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ تحریک اور قیادت کی بجائے مجموعی طور پر سابقہ نوآبادیاتی روش کو برقرار رکھتے ہوئے پوری کشمیری قوم کو ہی غدار اور باغی قرار دے دیا گیا۔ کشمیریوں کے خلاف نفرت اور تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔ اس پرالمیہ یہ ہے کہ اس عمل کی سرکاری سرپرستی کی گئی۔

ریاستی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی مرکز کی نفسیات کا ہی غلبہ رہا ہے۔ جموں کشمیر کے اندر حقوق کی مانگ کوپاکستان سے بغاوت قرار دینے کا عمل ایسے قرار دیا جا رہا ہے، جیسے صرف مرکز میں بیٹھے سیاستدانوں، دانشوروں اور میڈیا ستاروں کی تشریح پرپورا اترنے والا ہی اس خطے میں زندہ رہنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ تاثر بھی بھرپور طریقے سے دیا گیا کہ جیسے ریاست کو جموں کشمیر کی زمینوں اور وسائل سے ہی غرض ہے، آبادی اور انسانوں سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہے۔

اسی پروپیگنڈہ کے نتیجے میں ہی جموں کشمیر کے اندر مرکز سے بھیجی گئی فورسز نے بھی احتجاج کی گستاخی کرنے پر ایک قوم یا سیاسی اکائی کو اجتماعی سزا دینے کی روش پر ہی کاربند رہنا درست سمجھا۔ یوں دانشور حلقوں نے حقوق مانگنے کے عوض ایک پوری سیاسی اکائی کو غداراور بھکاری قرار دے کر قتل عام کرنے کی صرف وکالت ہی کی ہے۔ جموں کشمیر میں رونما ہونے والے ان تاریخی واقعات اور اوورسیز کشمیریوں کے تاریخ ساز احتجاجوں کو بین الاقوامی میڈیا میں بھی کوئی خاطر خواہ جگہ نہیں مل سکی ہے۔

عوامی قربانیوں کی لازوال داستان

پانچ جون کے بعد جموں کشمیر کے اس حصے میں عوامی اتحاد، یکجہتی اورسیلف آرگنائزیشن کی لازوال تاریخ دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک ماہ سے زائد مکمل ہڑتال اور احتجاجی دھرنوں نے معلوم انسانی تاریخ میں ایک انوکھی مثال قائم کی ہے۔ 9جون کو لانگ مارچ بھمبر سے شروع ہواتھا۔ لانگ مارچ کے شرکاء نے اس خطے میں اتحاد اوریکجہتی کی بے نظیر تاریخ مرتب کی ہے۔ مارچ کے شرکاء نے دریک میں غیر متوقع پڑاؤ لگایا، تاہم چند گھنٹوں میں اس دھرنے کو کئی ماہ تک قائم رکھنے کے انتظامات کر لیے گئے۔ ایسا ہی دیگر5دھرنوں کے مقامات پر بھی کیا گیا۔ شہریوں نے خود رو انداز میں ہی دھرنوں کے مقامات اور ارد گرد اپنے زیر اثرعلاقوں میں سکیورٹی کا ایک بے مثال طریقہ کاراپنایا اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا۔ دھرنوں کی سکیورٹی اور قیادت کی نگرانی کے فرائض بھی ایسے سرانجام دیے جا رہے ہیں کہ جس سے کسی عظیم مقصد کے لیے انسانوں کی اجتماعی قربانیوں اور کاوشوں کی لازوال تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ خوراک کی ترسیل کے لیے بھی جو اقدامات کیے گئے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی۔ تمام شہروں میں لاک ڈاؤن اور راستوں پر پہروں کے باوجود عوام نے راشن کا انتظام کرنے میں چند ساعتوں کا وقت بھی نہیں لیا۔

جب مشکل وقت آیا تو خواتین نے ریاستی جبر اور فورسز کی فائرنگ کے خوف کو شکست دیتے ہوئے جس طاقت کے ساتھ احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں میں شرکت کی، اس کی بھی جموں کشمیر کی تاریخ میں شاید کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ خواتین کئی کئی میل پیدل چل کر احتجاجی پروگراموں کا حصہ بن رہی ہیں اور بچوں سمیت رات گئے تک احتجاجوں میں موجود رہ کر ماضی کے تمام تر تعصبات کو بھی شکست دے رہی ہیں، بلکہ ریاست کو بھی مجبور کر رہی ہیں کہ ریاستی اہلکار روایتی اور رجعتی حملے سرکاری پریس کانفرنسوں کے ذریعے کرتے ہوئے خواتین کی شرکت سے ریاستی خوف کا اظہار کررہے ہیں۔

قیادت کی حکمت عملی

اس تحریک کی موجودہ قیادت اور اس کی حکمت عملی کو محض چند افراد کے فیصلوں کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کی تشکیل خود تحریک کی سماجی اور سیاسی ساخت سے ہوئی۔ اس تحریک کی بنیاد رکھنے میں ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اہم کردار ادا کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ٹریڈر یونینوں کا کردار زیادہ نمایاں ہوتا گیا۔ اس خطے کی سیاست میں یہ یونینیں ہمیشہ سے اہم رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالوں کے ذریعے معمولات زندگی اور کاروبار کو معطل کرنے کی عملی صلاحیت موجود ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان تنظیموں کی قیادت کا ایک حصہ پہلے ہی قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں سے مختلف سطحوں پر وابستہ تھا، اس لیے ان کے لیے تحریک کے اندر فیصلہ کن مقام حاصل کرنا نسبتاً آسان ثابت ہوا۔

یہ صورت حال اپنی جگہ ایک قوت بھی تھی او ر اسی کے اندر اس کی حدود بھی پوشیدہ تھیں۔ ٹریڈ ریونین سیاست بنیادی طور پر منظم عوامی دباؤ پیدا کرکے ریاست یا سرمایہ دار طبقے سے رعایتیں اور مراعات حاصل کرنے کے گرد تشکیل پاتی ہے۔ اس طرزسیاست میں ہڑتال، شٹر ڈاؤن، دھرنا اور معاشی دباؤ بنیادی ہتھیار ہوتے ہیں۔ لیکن یہی طریقہ کار اپنی فطری حدود بھی رکھتا ہے۔ یہ کسی طویل سیاسی کشمکش، بدلتی ہوئی معروضی صورتحال، یا ریاست کے ساتھ مسلسل تصادم کے لیے ازخود کوئی ہمہ گیر سیاسی پروگرام فراہم نہیں کرتا۔ چنانچہ جب یہی رجحان ایک وسیع عوامی تحریک کی قیادت میں غالب آتا ہے تو دباؤ بڑھانا خود حکمت عملی بن جاتا ہے، جبکہ اس دباؤ کے بعد کی سیاسی سمت نسبتاً غیر واضح رہ جاتی ہے۔

تحریک کے ابتدائی مراحل میں یہی طریقہ کار موثر بھی ثابت ہوا۔ عوام کی بے مثال شرکت، مسلسل مزاحمت اور قربانیوں نے ریاست کو متعدد مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ یہی کامیابی اس تصور کو مزید مضبوط کرتی گئی کہ ہر اگلے مرحلے میں بھی زیادہ شدید عوامی دباؤ، طویل دھرنے اور لانگ مارچ ہی مطلوبہ نتائج پیدا کریں گے۔ تاہم ہر کامیاب حکمت عملی ایک مرحلے کے بعد اپنی حدود سے بھی ٹکراتی ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اگر حکمت عملی بھی تبدیل نہ ہو تو وہ اپنی سابقہ کامیابیوں کے باوجود جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔

اسی تناظر میں مذاکرات بھی بنیادی طور پر طاقتور ریاستی حلقوں کے ساتھ ہوتے رہے۔ ان مذاکرات کی تفصیلات، سیاسی اختلافات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر عوامی سطح پر کھلی بحث کو زیادہ فروغ نہ مل سکا۔ دوسری طرف تحریک کے اندر ان آوازوں کے لیے بھی گنجائش محدود ہوتی گئی جو اسے ایک وسیع سیاسی پروگرام، تنظیمی توسیع یا مختلف میدانوں میں جدوجہد کی طرف لے جانا چاہتی تھیں۔ اکثر یہ موقف اختیار کیا گیا کہ تحریک کو ”غیر سیاسی“ رکھا جائے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے ساتھ ہر بڑے تصادم میں خود ریاست کی جبر آمیز مداخلت ہی عوامی تحریک کو سیاسی بنا دیتی ہے۔ عوامی جدوجہدکی تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی تحریک صرف اپنے ابتدائی مطالبات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ریاست کے ردعمل کے نتیجے میں بھی سیاسی شکل اختیار کرتی ہے۔

تحریک کے اندر ایک اور رجحان بھی بتدریج مضبوط ہوتا گیا جس نے اس کی سیاسی سمت کو متاثر کیا۔ ترقی پسند قوتوں کے کمزور پڑنے کے ساتھ ساتھ قوم پرستانہ رجحانات کو نسبتاً زیادہ جگہ ملتی گئی۔ اس رجحان کے تحت یہ تصور ابھرتا گیا کہ ریاست کو بنیادی طور پر انتخابی عمل، انتظامی سرگرمیوں یا علامتی سیاسی بحرانوں کے موقع پر زیادہ موثر دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں انتخابات کے بائیکاٹ کا تاثر قائم کرنے، بعض آئینی شقوں کے خاتمے اور دیگر سیاسی مطالبات کو تحریک کے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔ تاہم ان مطالبات کی سیاسی منطق، ان کے عملی مضمرات اور انہیں حاصل کرنے کی حکمت عملی عوام کے سامنے کبھی پوری وضاحت کے ساتھ نہیں رکھی گئی۔

نتیجتاً ایک تضاد پیدا ہوا۔ ایک طرف ایسے نعرے اختیار کیے گئے جن کے دور رس سیاسی معنی تھے، دوسری طرف جب ریاست نے انہی نعروں کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈہ کیا تو ان کی بار بار وضاحتیں پیش کی گئیں یا ان سے فاصلہ اختیار کیا گیا۔ یہ کیفیت کسی بھی عوامی تحریک کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی مطالبہ درست ہے تو اسے عوام کے سامنے پوری سیاسی وضاحت کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، اور اگر اس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا تو پھر اسے تحریک کی حکمت عملی کا حصہ ہی نہیں بننا چاہیے۔ سیاسی ابہام کبھی خلا میں باقی نہیں رہتا، ریاست ہمیشہ اس خلا کو اپنے بیانیے سے بھر دیتی ہے۔

انتخابات کے سوال پر بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر ہونے والے انتخابات مکمل طور پر آزاد، منصفانہ یا عوامی اقتدار کے حقیقی اظہار نہیں ہیں۔ ریاستی مداخلت، انتظامی اثرورسوخ اور غیر مساوی سیاسی میدان اس پورے نظام کا حصہ ہیں۔ اس حقیقت سے لیکن یہ نتیجہ خودبخود اخذ نہیں ہوتا کہ عوامی تحریک کے لیے انتخابی میدان ہمیشہ اور ہر حالت میں ناقابل استعمال ہے۔

عوامی تحریکیں صرف ریاست پر دباؤ نہیں ڈالتی بلکہ وہ خود سیاسی امکانات کو بھی تبدیل کرتی ہیں۔ غیر معمولی عوامی متحرکیت ایسے مواقع پیدا کرتی ہے جو معمول کے حالات میں موجود نہیں ہوتے۔ اگر لاکھوں لوگ سڑکوں پر موجود ہوں، اگر سیاسی ماحول عوامی دباؤ سے تشکیل پا رہا ہو، اور اگر ریاست ہر محاذ پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو، تو انتخابات بھی اسی جدوجہد کا ایک میدان بن سکتے ہیں۔

اس کا مطلب پارلیمانی سیاست پر اعتماد کرنا یا انتخابات کو تبدیلی کا بنیادی ذریعہ سمجھنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب بلکہ یہ ہے کہ جہاں ریاست ایک میدان فراہم کرتی ہے، وہاں عوامی تحریک کو بھی اس میدان کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تحریک اپنی تنظیمی قوت، مسلسل عوامی موجودگی اور سڑکوں پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے انتخابی عمل میں مداخلت کرتی، اگر عوام خود اپنے ووٹ اور مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے متحرک ہوتے، تو کم از کم ان آئینی اصلاحات اور بنیادی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکتا تھا جنہیں خود تحریک آئینی دائرے کے اندر ممکن قرار دیتی رہی ہے۔

اسی کے ساتھ قیادت کی جانب سے تحریک کی پوری توانائی بار بار ایک ہی طریقہ کار، یعنی لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن اور دھرنوں پر مرکوز رہی ہے۔ ان طریقوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن کوئی بھی حکمت عملی اس وقت اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے جب وہ خود مقصد بن جائے۔ ہر نئی سیاسی صورتحال کا جواب اگر وہی پرانا طریقہ کار ہو تو تحریک آہستہ آہستہ اپنے مخالف کو سیکھنے، تیاری کرنے اور اپنے جبر کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

ریاست ہر تصادم سے سبق سیکھتی ہے۔ وہ اپنی انٹیلی جنس بہتر بناتی ہے، اپنے انتظامی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیتی ہے، جبر کے نئے طریقے اختیار کرتی ہے اور اگلے مرحلے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہو کر سامنے آتی ہے۔ اگر تحریک اپنی حکمت عملی کو اسی رفتار سے تبدیل نہ کرے تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کی قوت برقرار رہنے کے باوجود اس کے سیاسی امکانات محدود ہونے لگتے ہیں۔

اسی لیے کسی بھی عوامی تحریک کی اصل طاقت صرف اس کے جذبے یا قربانی میں نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مسلسل ازسرنو تشکیل دینے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس پر موجودہ مرحلے میں سب سے زیادہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی حکمت عملی، اقوامِ متحدہ اور اقتدار کا سوال

موجودہ مرحلے میں تحریک کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کسی مقامی اتھارٹی کے قیام یا بین الاقوامی مداخلت کے ذریعے سیاسی حل کی تجاویز بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ تجاویز بظاہر موجودہ تعطل سے نکلنے کا راستہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کا سنجیدہ جائزہ خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ موجودہ عالمی طاقتوں کے توازن اور بین الاقوامی سیاست کی ٹھوس حقیقتوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ مسئلہ جموں کشمیر اقوامِ متحدہ میں موجود ہے، اس لیے بین الاقوامی ادارے کسی نہ کسی مرحلے پر ایک مقامی انتظامیہ یا عبوری سیاسی بندوبست کے قیام میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ استدلال خود کئی بنیادی سوالات کو نظرانداز کرتا ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی حیثیت اس کی قراردادوں سے کم اور اس کے پیچھے موجود طاقت کے توازن سے زیادہ متعین ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ تاریخ میں کبھی بھی عالمی طاقتوں سے آزاد کوئی غیر جانبدار سیاسی قوت نہیں رہی۔ جہاں بڑی ریاستوں کے مفادات براہ راست موجود ہوں، وہاں اس کا کردار انہی مفادات کے دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔

مسئلہ صرف اقوامِ متحدہ کی تاریخی نوعیت کا بھی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اہم سوال موجودہ عالمی صورتحال ہے۔اتنی طویل عوامی مزاحمت، مسلسل ریاستی جبر، سیکڑوں گرفتاریاں، اظہار رائے پر پابندیاں اور عوامی قربانیوں کے باوجود یہ تحریک عالمی ذرائع ابلاغ میں وہ مقام حاصل نہیں کر پاتی جو اس درجے کی عوامی جدوجہد کو حاصل ہونا چاہیے۔ اس کی ایک وجہ یقیناًمقامی صحافیوں اور ذرائع ابلاغ پر موجود شدید ریاستی دباؤ ہے، جس نے آزادانہ رپورٹنگ کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔تاہم اگر سارا مسئلہ صرف مقامی سنسرشپ ہوتا تو عالمی ذرائع ابلاغ اس خلا کو کسی حد تک ضرور پر کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا بھی مکمل طور پر ریاستوں کے باہمی تعلقات سے آزاد نہیں ہوتا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی ترجیحات بھی بڑی حد تک موجودہ سفارتی، عسکری اور معاشی طاقت کے توازن سے متاثر ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں پاکستانی ریاست خطے میں سامراجی طاقتوں کے لیے ایک اہم تذویراتی کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی کردار نے اس کی بین الاقوامی سفارتی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ ایسے حالات میں نہ صرف بڑی ریاستیں بلکہ ان سے وابستہ بین الاقوامی ادارے اور ذرائع ابلاغ بھی پاکستان کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے وسیع عوامی بحران کے باوجود نہ تو مسلسل بین الاقوامی دباؤ پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی اس نوعیت کی سفارتی مداخلت سامنے آتی ہے جس پر بعض حلقے اپنی حکمت عملی استوار کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ ایسی اتھارٹی وجود میں کیسے آئے گی؟ کون سی سیاسی قوت پاکستان کو اس پر آمادہ کرے گی؟ کون سا بین الاقوامی اتحاد اس مطالبے کو نافذ کرے گا؟ اور موجودہ عالمی توازن میں کون سی طاقت اس کے لیے اپنی سیاسی یا سفارتی قیمت ادا کرنے پر تیار ہے؟ ان سوالات کے واضح جواب دیے بغیر ایسی تجاویز سیاسی حکمت عملی کی بجائے خواہشات معلوم ہوتی ہیں۔

اس سے بھی اہم سوال اس اتھارٹی کی بقا کا ہے۔ فرض کر لیا جائے کہ کسی غیر معمولی صورتحال میں ایسی کوئی مقامی اتھارٹی قائم بھی ہو جاتی ہے، تو اس کی قانونی حیثیت، بین الاقوامی قبولیت، معاشی وسائل اور سیاسی بقا کا انحصار کس پر ہوگا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی اہم ریاست پاکستان کی رضامندی کے بغیر ایسی کسی سیاسی اتھارٹی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ کسی بھی سیاسی بندوبست کی زندگی صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کی بین الاقوامی قبولیت اور عملی حمایت سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب یہ دونوں عوامل موجود نہ ہوں تو ایسی تجاویز تحریک کو ایک قابل عمل راستہ فراہم کرنے کی بجائے اسے ایک ایسے افق کی طرف لے جاتی ہیں جس کے حصول کے ذرائع ہی متعین نہیں۔

اسی طرح تحریک کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے ریاستی اقتدار پر قبضے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ اس سوال کو بھی نعرے کی سطح پر نہیں بلکہ عملی سیاست کی سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ریاستی اقتدار کا سوال کسی بھی عوامی تحریک کا سب سے سنجیدہ سیاسی سوال ہوتا ہے۔ اس پر محض نعرے یا خواہشات کی بنیاد پر گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ اقتدار صرف کسی عمارت، دفتر یا انتظامی مرکز پر کنٹرول حاصل کرنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ وسائل، پیداوار، مالیات، انتظامیہ، قانونی جواز، عوامی رضامندی اور طاقت کے ذرائع پر عملی اختیار کا نام ہے۔

یہ سوال پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مخصوص حالات میں اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہاں صدر، وزیراعظم، اسمبلی اور دیگر ریاستی اداروں کی موجودگی بظاہر ایک خودمختار ریاست کا تاثر پیدا کرتی ہے، لیکن اقتدار کا حقیقی مرکز ان اداروں میں موجود نہیں۔ اس خطے کی آئینی، انتظامی، مالیاتی اور سلامتی سے متعلق بنیادی طاقت پاکستانی ریاست کے پاس مرتکز ہے۔ اسی لیے یہاں اقتدار کے سوال کو صرف مظفرآباد کے انتظامی ڈھانچے تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔

معاشی ساخت بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ خطے میں صنعتی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ بڑے پیمانے پر روزگار بیرون ملک محنت کشوں کی آمدنی سے وابستہ ہے، جبکہ مقامی معیشت، کاروبار اور حتیٰ کہ سرکاری مالیات بھی بڑی حد تک انہی ترسیلات پر انحصار کرتی ہیں۔ ایسی معیشت میں سیاسی اقتدار کے سوال کو معاشی وسائل کے سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی تحریک کے پاس یہ واضح پروگرام موجود نہیں کہ وہ وسائل، مالیات، پیداوار، ترسیلات اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلق کو کس بنیاد پر منظم کرے گی تو اقتدار کا سوال اپنی عملی بنیاد کھو دیتا ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست، آخری تجزیے میں، منظم جبر کے اداروں کا نام ہے۔ اس لیے اگر کوئی تحریک ریاستی اقتدار کے سوال کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی ریاست کے ساتھ پیدا ہونے والے ناگزیر تصادم کا سامنا کس سیاسی، تنظیمی اور سماجی قوت کے بل پر کرے گی۔ اس سوال کو نظرانداز کر کے صرف ”اقتدار پر قبضہ“ کا نعرہ دہرانا سیاسی حکمت عملی نہیں بنتا۔

یہ بحث جموں کشمیر کی مجموعی سیاسی حقیقت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جموں کشمیر آج ایک متحد سیاسی اکائی نہیں بلکہ مختلف ریاستی انتظامات میں تقسیم خطہ ہے۔ اس لیے کسی ایک حصے میں ہونے والی پیش رفت کو باقی حصوں سے مکمل طور پر الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر قدم سے پہلے پورے خطے یا پاکستان میں یکساں حالات پیدا ہونے کا انتظار کیا جائے، لیکن یہ بہرحال ضروری ہے کہ کسی بھی حکمت عملی کی بنیاد موجود معروضی توازن پر رکھی جائے، نہ کہ مجرد سیاسی فارمولوں پر۔

خواتین کی تحریک میں شمولیت

جس طرح تحریک کے اندر قیادت کا توازن تبدیل ہوا، اسی طرح اس کی سیاسی ترجیحات اور سماجی کردار بھی تبدیل ہوتے گئے۔ یہ تبدیلی صرف حکمت عملی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اس سوال کو بھی متاثر کیا کہ تحریک کن طبقات اور سماجی گروہوں کو اپنے فعال حصے کے طور پر دیکھتی ہے۔

جب ترقی پسند قوتیں نسبتاً زیادہ فعال تھیں، خواتین کی شرکت کو شعوری طور پر تحریک کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اسی تناظر میں خواتین کے مارچ اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ یہ تحریک صرف چند مطالبات کی جدوجہد نہیں بلکہ معاشرے کے وسیع تر طبقات کی سیاسی شرکت کا عمل ہے۔

تاہم جیسے جیسے ترقی پسند رجحانات پس منظر میں جاتے گئے اور تحریک کو”غیر سیاسی“ رکھنے کا موقف غالب آتا گیا، ویسے ویسے قدامت پسند سماجی رجحانات اور روایتی قوم پرستانہ سوچ کو بھی نسبتاً زیادہ جگہ ملتی گئی۔ ان رجحانات نے خواتین کی آزاد اور نمایاں سیاسی شرکت کو ایک مثبت پیش رفت کی بجائے ایک مسئلہ سمجھنا شروع کیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آیا کہ خواتین کو احتجاجی سرگرمیوں، لانگ مارچوں اور دھرنوں میں محدود کردار تک رکھا جائے، یا حتیٰ کہ انہیں ایسے اجتماعات سے دور رکھا جائے۔

تاہم معروضی حالات نے اس سوچ کی حدود بھی نمایاں کر دیں۔ جب ریاستی جبر اپنی شدت اختیار کرتا ہے، گرفتاریاں، محاصرے اور تشدد عام ہو جاتے ہیں تو جدوجہد خود اپنے لیے نئے سماجی کردار پیدا کرتی ہے۔ یہی اس تحریک میں بھی ہوا۔ خواتین کسی رعایت یا علامتی نمائندگی کے نتیجے میں سڑکوں پر نہیں آئیں بلکہ وہ خود اس جدوجہد کا ایک فعال حصہ بن کر ابھریں۔ انہوں نے نہ صرف احتجاج، دھرنوں اور عوامی اجتماعات میں بھرپور شرکت کی بلکہ کئی مقامات پر مزاحمت کی صف اول میں بھی نظر آئیں۔

اس پیش رفت کو محض ایک وقتی ضرورت یا ریاستی جبر کے ردعمل تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ اس تحریک کی اہم ترین سیاسی اور سماجی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ جس تحریک میں خواتین کی اتنی وسیع شرکت پیدا ہو جائے، اس کے لیے دوبارہ انہیں روایتی سماجی حدود میں محدود کرنے کی ہر کوشش درحقیقت خود تحریک کے سماجی افق کو محدود کرنے کے مترادف ہوگی۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ خواتین کی اس وسیع شرکت کی وجہ صرف یہ نہیں کہ انہیں تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کا جبر خواتین پر نسبتاً زیادہ شدت کے ساتھ اثر انداز ہوتا ہے۔ روزگار، تعلیم، صحت، نقل و حرکت، گھریلو محنت اور سماجی پابندیوں کے بوجھ کا سب سے بڑا حصہ خواتین ہی اٹھاتی ہیں۔ اسی لیے جب عوامی مزاحمت ایک وسیع سماجی تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے تو خواتین کی شرکت کوئی استثنا نہیں بلکہ ایک فطری نتیجہ ہوتی ہے۔

اس کے باوجود تحریک کے اندر آج بھی ایسے رجحانات موجود ہیں جو خواتین کی اسی فعال اور نمایاں شرکت کو محدود کرنے کے حق میں ہیں۔ یہ صرف خواتین کے حقوق کا سوال نہیں بلکہ خود تحریک کی سمت کا سوال ہے۔ جو تحریک اپنی نصف آبادی کی سیاسی شرکت کو محدود کرتی ہے، وہ اپنی اجتماعی طاقت کو بھی محدود کرتی ہے۔ اس کے برعکس خواتین کی آزاد، منظم اور مساوی شرکت نہ صرف تحریک کی سماجی بنیاد کو وسیع کرتی ہے بلکہ اسے زیادہ جمہوری، زیادہ عوامی اور زیادہ پائیدار بھی بناتی ہے۔

کیا کیا جائے؟

موجودہ وقت مذاکرات کا موقع تلاش کرنے کے لیے مزید انتظار کرنے اور اعصابی فتح کے لیے صبر اور استقامات کے ساتھ دھرنے قائم رکھنے کا راستہ ہی کسی حد تک قابل عمل دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم قیادت اور قیادت کے فیصلوں کو لفظوں کے لباس پہنانے والوں کو یہ بات ضرور ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اس خطے میں اقتدار پر قبضے اور بار بار لانگ مارچ کر کے ریاست کو چیلنج کرنے کی روش ہی دراصل تباہی کی پیامبر بن کر سب کے سرپر منڈلا رہی ہے۔ اس روش نے مزید درجنوں زندگیاں چھین لی ہیں۔

کائنات کے دیگر مظاہر کی طرح سیاست بھی سادہ سے پیچیدہ کی طرف سفر کرتی ہے۔ محض ٹریڈرز یونین کی سیاست اور فرقے کی سیاست انتہائی سادہ پیمانوں پر استوار ہوتی ہے، تاہم تحریک ابھرنے اور بڑے پیمانے میں عوامی مداخلت کے نتیجے میں یہ انتہائی پیچیدہ رخ اختیار کر جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ گہری نظریاتی اور سیاسی سوجھ بوجھ کے تحت حکمت عملی مرتب کی جائے، اورسیاسی طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے۔گہرے اورپیچیدہ سیاسی مظاہر کے حل کے لیے محض مطالبات کافی نہیں ہوتے، بلکہ متبادل نظریات اور مکمل متبادل سیاسی پروگرامدرکار ہوتا ہے۔

ضروری ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے تاثر کو ختم کیا جائے،ٹکراؤ کی حکمت عملی کو ترک کیا جائے، اور سب سے بڑھ کر مستقبل میں سیاسی حکمت عملی بنانے کی طرف بڑھا جائے۔ وقتی طور پر فتح یا سافٹ لینڈنگ ملنے کی صورت میں سینگوں کو مٹی لگا کر تمام سیاسی قیادتوں میں چڑھ دوڑنے کی بجائے بڑے مشاورتی عمل سے گزرتے ہوئے متبادل سیاست کی تعمیر کے لیے عملی حکمت عملی اپنائی جائے۔

کور ممبران کے سرنڈر اور وعدہ معاف گواہ بننے جیسے اقدامات سے سیکھتے ہوئے رجعتی، ریاستی مفادات کے محافظ اور حکمران اشرافیہ کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس تحریک سے دور کیا جائے۔ مزاحمتی سیاست کرنے والے عناصر کو گنجائش مہیا کی جائے تاکہ ایک بہتر اورقابل عمل سیاسی حکمت عملی مرتب کی جائے۔

مطالبات

فوری طور پر جموں کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام حصے میں بھیجی گئی تمام فورسز واپس بلائی جائیں۔ گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔ مقتولین کی لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں۔پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر ایکشن کمیٹیوں کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دینے والا نوٹیفکیشن فوری واپس لیتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام سے سرکاری سطح پر معافی مانگی جائے۔ عمر نذیر اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کر کے شاذیب حبیب کو قتل کرنے والے فورسز کے نامعلوم اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تشدد، گرفتاریوں، قتل عام اور لوٹ مار میں ملوث اہلکاروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت لگانا انتہائی گھٹیا اورسامراجی نوعیت کا اقدام ہے، جسے فوری واپس لیا جائے۔ تمام جعلی مقدمات کو فوری خارج کیا جائے۔ تمام متاثرین کو معاوضے ادا کیے جائیں۔ انتخابات کو فوری موخر کرتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کے بعد انتخابی شیڈول دوبارہ جاری کیا جائے اور تمام سیاسی کارکنوں کو انتخابی عمل کا حصہ بننے کا حق دیا جائے۔ کئی بار منظور کیے گئے مطالبات پر فوری عملدرآمد کیاجائے۔

سب سے بڑھ کر اس نوآبادیاتی ڈھانچے کو ختم کرتے ہوئے بااختیار اور آئین ساز حکومت سازی کرنے کا حق اس خطے کے عوام کو دیاجائے، تاکہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل تک انتظامی اور مالیاتی معاملات کو چلانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ عوام کے منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے از سر نو معاہدے کیے جا سکیں اور اس خطے کے عوام کو غلام اور تحقیر آمیز زندگی سے نجات دیتے ہوئے ایک باوقار انسان کی حیثیت سے اپنے وسائل کو اس خطے کے اجتماعی عوامی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے قابل بنایا جا سکے۔

٭٭٭

Share this content: