امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ’17 جولائی کو رات کے وقت ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات ہونے والی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔‘
اس سے قبل جمعے کی شب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ ’اس کی افواج نے ایران پر حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔‘ سینٹ کام نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ امریکی حملوں کی مسلسل ساتویں رات ہے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ’کارروائیوں کے دوران نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ان حملوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر فوجی وسائل کا استعمال کیا گیا۔‘
سینٹکام نے مزید کہا کہ ’صدر کے احکامات کے مطابق ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔‘
بیان کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔
امریکی حملون کے حوالے سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب سے ہونے والے امریکی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا تھا کہ جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نو بچے شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک 18 برس سے کم عمر نوجوان شامل ہے۔
حکام کے مطابق 47 افراد اب بھی ایران کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ چھ جولائی کو آبنائے ہرمز میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ایران جوابی حملے کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف خطے میں امریکی مفادات اور اڈے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا اور صوبائی حکام نے بتایا کہ جمعرات کی شب حملوں سے کئی پل، ایک ٹرین سٹیشن اور ایک ہوائی اڈہ متاثر ہوا۔ بی بی سی ویریفائی نے صوبہ ہرمزگان میں ایک پل پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم امریکہ نے ایرانی الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد فضائی حملوں کی تازہ ترین لہر میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں جن میں فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی شامل تھا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہوئی ہے تاکہ تہران کو 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر واپس آنے پر مجبور کیا جا سکے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں یا شہری علاقوں پر حملہ کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم بعض حالات میں، شہری انفراسٹرکچر جیسے پل یا پاور پلانٹ اگر جنگی سرگرمیوں میں مدد کے لیے استعمال کیے جائیں تو وہ نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔
Share this content:


