عثمان کاشر
آج پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کی گلی گلی، بازار، پہاڑوں کی چوٹیوں سے ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے:”ملک میں تم دیکھنا انقلاب آئے گا!”
یہ تحریک اب بجلی کے بل اور آٹے کی سبسڈی تک محدود نہیں رہی۔ یہ معاشی نعرے سے اٹھ کر ایک مکمل انقلابی جدوجہد بن چکی ہے۔ یہ اس قوم کی چیخ ہے جو دہائیوں سے اپنے ہی وسائل، اپنے پانی، اپنی محنت کی کمائی سے محروم رکھی گئی۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں آج کشمیری قوم دنیا بھر میں جاگ چکی ہے۔ ہماری جدوجہد اپنے وطن پر اپنے وطن کے وسائل پر آئینی اور جمہوری حق مانگنا اور چھین کر لینا ہے!
طاقتور حلقوں نے سمجھا تھا گولی سے خوف آئے گا۔
انہوں نے سمجھا تھا انٹرنیٹ بند کر کے آواز دب جائے گی۔
انہوں نے سمجھا تھا رکاوٹیں لگا کر یہ لاوا تھم جائے گا۔
انہوں نے سمجھا تھا لاشیں گرا کر یہ لاوا ٹھنڈا ہو جائے گا۔
لیکن تاریخ گواہ ہے! ماں کی گود اجڑی، جوان لہو میں نہائے، بزرگ لاٹھی ٹیک کر سڑک پر آ کھڑے ہوئے مگر کوئی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا۔ یہ سیسہ پلائی دیوار ہے۔ اسے نہ گولی توڑ سکتی ہے نہ آنسو گیس۔
سب سے بڑا سوال؟ اسمبلی کی وہ 12 متنازع نشستیں!
یہ نشستیں ہمارے سیاسی وجود پر ڈاکہ ہیں۔ غیر مقامیوں کو ہمارے گھر کے فیصلے کرنے کی اجازت؟ نہیں! اب یہ ظلم مزید برداشت نہیں ہوگا۔ مقامی کا حق مقامی کو! آج سڑکیں گواہ ہیں۔ 40 روز سے شٹر ڈاؤن کی گواہی ہے۔ لاکھوں کا سمندر گواہ ہے۔
یہ ہڑتال نہیں، یہ اعلان ہے۔ اعلان حق حکمرانی، حق ملکیت، حق انصاف ، انقلاب کا اعلان!
یہ تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں کشمیری قوم نے قلم خود اٹھا لیا ہے۔اب فیصلے اسلام آباد میں نہیں، مظفرآباد کی سڑکوں پر ہوں گے۔ اب تقدیر کسی دوسرے کے ہاتھوں میں دیکھنے کے بجائے ہم اپنے ہاتھوں سے لکھیں گے۔
خبردار!
ہم پرامن ہیں مگر کمزور نہیں۔
ہم محب وطن ہیں مگر غدار نہیں۔
ہمارے وسائل پر ہمارا حق تسلیم کرو، ورنہ یہ انقلاب ہر زنجیر توڑ دے گا!
حق ملکیت و حق حکمرانی کشمیری قوم کے حوالے کرنا ناگزیر ہے!
٭٭٭
Share this content:


