شخصی حاکمیت کے خلاف پنپتی جمہوریت میں مستری، منتری اور گدھے کا کردار

تحریر: فرحان طارق

شخصی حاکمیت کے خلاف پنپتی جمہوریت میں پانچ سالہ اقتدار کی پہلی اینٹ سے آخری پتھر تک مستری، منتری اور گدھے برابر کے شریک ہیں۔

علمِ سیاست میں پڑھا تھا عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے۔ لیکن حکومتی درباروں اور انصاف کی دکانوں کے بیچ سے گزرتی پکی شاہراہ پر سرکار بنانے، عوامی حکومت کو لانے اور ہٹانے کی جدوجہد میں گدھے بھی پیش پیش دکھائی دیے۔

سات دہائیاں قبل ان راستوں پر بھی گدھے ایسے ہی رقص کرتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اُس وقت گدھوں کے لیے بنائی جانے والی گزرگاہوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے، مگر وہ تب تھا جب گدھے کبھی کبھار خود کو گھوڑوں کی نسل شمار کیا کرتے تھے۔ کئی دہائیوں کے بعد آج انہی پرانی شاہراہوں پر نئے اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ساتھ گدھے خوش دکھائی دیتے ہیں۔

ناقابلِ برداشت بوجھ، دن بدن بڑھتی تھکن کے علاوہ دور و پرشور ماحول میں بھی اُن کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

بھوک کے راج اور خوف کے آج میں پڑنے والا ہر چابک اُنہیں دن بدن استحصال، احساسِ محرومی اور بے چارگی کے پل سے گزرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ حکومت کے قیام کے بعد اُن کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہوتی۔ پھر خواہ وہ پکی سڑکوں، کچی پگڈنڈیوں، ایوانوں یا انصاف کی دکانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے جتنا زور سے چیخیں، کسی کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔

جانوروں کے ایک طبیب نے طویل تحقیق کے بعد بتایا کہ اس خطے کے گدھے ایک ایسے مرض کا شکار ہیں جس کا دورہ انہیں ہر پانچ سال بعد پڑتا ہے، اور وہ اپنا ماضی کھو بیٹھتے ہیں۔ انہیں مستقبل میں دی جانے والی آسائشوں کی لالچ کے سوا کوئی سبق یاد نہیں رہتا۔

مگر گزشتہ چند سالوں میں دہائیوں کا بوجھ اب اُن کے کندھوں کو جھکا چکا ہے۔ اُن کی چیخیں اب رجحانی لکیر کو چھو کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہیں اب سرکار نے اُن سے وفاداری کا تمغا بھی واپس لے لیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اُن ہی کی ایک برادری، یعنی گھوڑوں کو، آج بھی وفادار سمجھا جاتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: