امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے فوجی آپریشنز کے مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق حملوں کا مقصد یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بیان میں سینٹکام نے الزام لگایا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران، ایران نے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔
سینٹکام کے مطابق ’یہ بلا جواز حملے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اور جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔‘
امریکی فوج کی مرکزی کمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی جارحیت کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔
Share this content:


