امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
سماعت کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے کئی بار مداخلت کی، جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ دفاع اور ایک سینیٹر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
ایران کے ساتھ گذشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد کیپیٹل ہِل میں یہ ہیگستھ کی پہلی پیشی تھی۔ اس دوران خطے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اپریل میں کانگریس سے آئندہ مالی سال کے لیے پینٹاگون کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کے بجٹ کی درخواست کی تھی، جس سے جدید دور میں امریکی دفاعی اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ جائیں گے۔
منگل کو امریکہ نے مسلسل گیارہویں روز ایران پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اتحادی اہداف پر جوابی حملے کر رہا ہے۔
ہیگستھ نے اپنی بات کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’ہم ایک خطرناک دنیا میں رہتے ہیں، اور اس صورتحال میں جرات مندانہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘
مظاہرین کی مداخلت کے بعد انھوں نے کہا کہ اضافی فنڈنگ کی درخواست ایک نازک وقت میں کی جا رہی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر یہ فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو ہمیں ایسے شدید مالی خسارے کا سامنا ہوگا جو فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی، آلات اور گولہ بارود کی فوری فراہمی، اور اہم فوجی کارروائیوں کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دے گا۔‘
ہیگستھ کے مطابق منظور ہونے والا ہر ڈالر امریکی فوج کی ’جنگی صلاحیت‘ بڑھانے اور ’طاقت کے ذریعے امن‘ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔
کمیٹی کی ریپبلکن چیئرپرسن سوسن کولنز نے سوال کیا کہ اگر مطلوبہ بجٹ فراہم نہ کیا گیا تو کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا کہ موجودہ اور مستقبل کی فوجی تربیت میں کٹوتی کرنا پڑے گی۔ انھوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فوج کو مناسب فنڈنگ نہیں ملی۔
کمیٹی میں سب سے سینیئر ڈیموکریٹ رکن پیٹی مرے نے فنڈنگ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ درخواست زیادہ منطقی دکھائی نہیں دیتی۔‘
سینیٹر ڈک ڈربن کے سوال پر پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ اب تک ایران جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
تاہم دو ڈیموکریٹ ذرائع اور ایک دیگر باخبر ذریعے نے بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ اندازے میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی تعمیرِ نو جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
12 مئی کے بعد حکومت کی جانب سے جنگی اخراجات کا کوئی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت ایک سینیئر پینٹاگون اہلکار نے یہ لاگت 29 ارب ڈالر بتائی تھی۔
پینٹاگون پہلے قانون سازوں کو بتا چکا ہے کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ 11.3 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔
پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ اضافی رقم منظور ہو جاتی ہے تو یہ ایک ’نسل در نسل یا تاریخی سرمایہ کاری‘ ثابت ہوگی، جو امریکہ کو دیگر ممالک کی فوجوں کا پیچھا کرنے کی ضرورت سے بچائے گی۔
اگرچہ ایران اور امریکہ نے اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور گزشتہ ہفتے دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔
سماعت کے دوران نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے ’بمباری کے لیے لامحدود رقم‘ مانگ رہی ہے، جبکہ امریکی عوام اپنے خاندانوں کے لیے خوراک تک خریدنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے سوال کیا کہ جب صدر پہلے ہی جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کر چکے ہیں تو پھر مزید دسیوں ارب ڈالر کیوں درکار ہیں؟
سماعت کا اختتام اس وقت شدید تنازع پر ہوا جب ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔
پیٹرز نے ہیگستھ کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک اور ’لامتناہی جنگ‘ شروع کر چکی ہے۔
اس پر پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘ اور مزید کہا کہ سینیٹر ’ٹرمپ سے غیر معمولی نفرت‘ کا شکار ہیں۔
زیادہ تر ڈیموکریٹس اس اضافی بجٹ کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ مالیاتی قدامت پسند ریپبلکن چاہتے ہیں کہ اضافی دفاعی اخراجات کے بدلے دیگر شعبوں میں کٹوتی کی جائے۔
دوسری جانب ایوانِ نمائندگان جمعرات کو تعطیلات پر جا رہا ہے اور کانگریس کے دونوں ایوان ستمبر تک ایک ساتھ اجلاس نہیں کریں گے۔ اس لیے حتیٰ کہ اگر ریپبلکنز مطلوبہ ووٹ حاصل بھی کر لیں تو پینٹاگون کو فنڈز ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکہ کی ماضی کی طویل اور خونریز جنگوں کی ایک فہرست شیئر کی اور ان کی مدت اور ہلاکتوں کا موازنہ موجودہ ایران جنگ سے کیا۔
انھوں نے لکھا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔
منگل کے روز پینٹاگون نے عراق میں 30 سالہ امریکی فوجی سارجنٹ مائیکل ایمانوئل سوِنٹن کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ 28 سالہ سارجنٹ اینجل ریمپرساد کو اردن میں لاپتا اور غالباً ہلاک قرار دیا گیا۔
ایک روز قبل فوج نے اردن میں ہلاک ہونے والے دو دیگر اہلکاروں کی شناخت پرائیویٹ فرسٹ کلاس ازابیلا گونزالس (19 سال) اور فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر فیہان (25 سال) کے طور پر کی تھی۔
صدر ٹرمپ بدھ کے روز امریکی ریاست ڈیلاویئر کے ایک فضائی اڈے کا دورہ کریں گے، جہاں ان فوجیوں کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت وطن واپس لائے جائیں گے۔
Share this content:


