اگر عوامی آواز نہ سنی گئی تو دنیا سنے گی! اوورسیز کشمیریوں کا ممکنہ عالمی کردار

تحریر : خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں و کشمیر کی ایک بڑی آبادی دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں آباد ہے۔ برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں رہنے والے کشمیری صرف تارکینِ وطن نہیں بلکہ ان ممالک کے شہری، ووٹر اور ٹیکس دہندگان بھی ہیں۔ وہ انہی جمہوری نظاموں کا حصہ ہیں جہاں عوامی رائے، پارلیمانی نگرانی اور انسانی حقوق کے معاملات خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

دنیا کی حالیہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب کسی مسئلے پر عوامی دباؤ منظم، مسلسل اور عالمی سطح پر مؤثر ہو جائے تو حکومتیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔

فلسطین کے معاملے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، طلبہ، ٹریڈ یونینز اور سیاسی کارکنوں نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات، دفاعی تعاون اور بعض معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔ کئی ممالک میں سفارتی، سیاسی اور تجارتی سطح پر بحث شروع ہوئی اور بعض حکومتوں نے مختلف اقدامات کیے۔

اسی طرح ایران کی مثال بھی سامنے ہے، جہاں مختلف ادوار میں بین الاقوامی پابندیوں نے ایرانی معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی مالیاتی روابط کو متاثر کیا۔ ان پابندیوں نے یہ ثابت کیا کہ جب عالمی طاقتیں کسی ریاست کے اقدامات پر اجتماعی دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کریں تو اس کے اثرات کسی ملک کی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ آج کے دور میں کوئی بھی ملک مکمل طور پر عالمی نظام سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ریاستوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی تعاون اور سفارتی تعلقات عوامی رائے اور انسانی حقوق کے معاملات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی پس منظر میں اگر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے عوام کے جائز سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کے مسائل حل نہ کیے گئے، اور عوامی مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش جاری رہی، تو اوورسیز کشمیری اپنے جمہوری حقوق استعمال کرتے ہوئے اپنے ممالک میں آواز مزید بلند کر سکتے ہیں۔پھریہ آواز صرف احتجاج تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پارلیمانوں، سیاسی جماعتوں، بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی تک مزید موثر انداز میں پہنچ سکتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ انہی ممالک کے شہری ہیں جن کے پاکستان کے ساتھ بڑے معاشی، تجارتی، دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں۔
یقیناً مسلسل اور منظم عالمی دباؤ کسی بھی ملک کے لیے سفارتی، سیاسی اور معاشی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

اس لیے پاکستان کے لیے بہتر راستہ تصادم نہیں بلکہ مسائل کا سیاسی حل ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے۔

اوورسیز کشمیریوں کی طاقت ان کا ووٹ، ان کی شہریت اور ان کی جمہوری آواز ہے۔ اگر عوامی مسائل اپنے خطے میں انصاف اور مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں تو دنیا کے سامنے آواز اٹھانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آواز مسلسل نظر انداز کی جائے تو وہ آواز مزید طاقت کے ساتھ عالمی فورمز تک پہنچے گی جو پاکستان کے سیاسی ،سفارتی اور معاشی تعلقات پر اثر نداز ہو سکتی ہے جس سے پاکستان کے پچیس کروڑ سے زائد عوام متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے پاکستان ے۔ قومی اور ملکی مفاد میں یہی بہتر ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر میں عوامی آواز کو سنا جاۓ اور عوام کی ترجمان جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو عملی جامعہ پہنایا جاۓ۔

٭٭٭

Share this content: