دھرنا توختم ہو ہی جائے گا، مگر بعض صحافیوں کا کردار تاریخ کا حصہ رہے گا

تحریر: ماجد افسر

آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک بالآخر ایک دن ختم ہو ہی جائے گی۔ وقت گزر ہی جائے گا، دھرنے اٹھ جائیں گے، راستے کھل جائیں گے اور زندگی معمول کی طرف لوٹ آئے گی۔ مگر یہ تحریک اپنے ساتھ درجنوں سول و سرکاری شہریوں کے المناک دکھ، کئی خاندانوں کے ناقابل فراموش صدمات اور ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کی سیاسی و سماجی بیداری کی یادیں ضرور چھوڑ جائے گی اور شاید اس پورے منظرنامے کی ایک اور یاد بھی دیر تک باقی رہے گی کہ اس دوران صحافت سے وابستہ بعض چہروں نے کیا کردار ادا کیا، کس کے ساتھ کھڑے ہوئے، کس کی آواز بنے اور کس کی آواز سننے سے گریز کیا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہزاروں شہری مل کر بھی ریاست سے براہ راست طاقت کی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ ریاست کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے، وسائل بھی، ادارے بھی اور بیانیہ تشکیل دینے کے ذرائع بھی ہوتے ہیں۔ جدید ریاستیں صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ابلاغ اور بیانیے کے ذریعے بھی اپنی رائے عوام تک پہنچاتی ہیں۔ میڈیا اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ کسی احتجاج یا تحریک کے حق یا مخالفت میں جو بیانیہ تشکیل پاتا ہے وہ صرف احتجاج میں شریک افراد ہی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ان لاکھوں لوگوں کی رائے بھی تشکیل دیتا ہے جو خود گراؤنڈ پر موجود نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں احتجاج کرنے والوں کا مؤقف براہ راست سننے کا موقع ملتا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ احتجاجی تحریک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ تحریک جس کا آغاز تقریباً تین برس قبل 31 رکنی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران سے ہوا تھا۔ تحریک وقت کے ساتھ درجنوں سے سینکڑوں، سینکڑوں سے ہزاروں اور پھر لاکھوں لوگوں تک پھیلتی چلی گئی۔ اس تحریک کے مطالبات درست ہیں یا غلط ہیں، طریقہ کار درست ہے یا نہیں، اس پر اختلاف رائے ممکن ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن ایک بات بہرحال زیر بحث رہنی چاہیے کہ پاکستان کے قومی میڈیا میں اس تحریک کا جو مجموعی رخ پیش کیا گیا، کیا وہ واقعی مکمل طور پر آزاد اور غیر جانب دار صحافتی عمل کا نتیجہ تھا۔ پاکستان کے قومی میڈیا میں بعض ایسے بڑے نام ضرور موجود ہیں جنہوں نے کسی حد تک توازن برقرار رکھنے اور حالات کو مختلف زاویوں سے عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔

ان میں جناب اعزاز سید، جناب آصف بشیر چوہدری، محترمہ عاصمہ شیرازی، جناب سلیم صافی، جناب حامد میر اور بعض دیگر نام شامل ہیں لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی بعض بڑی صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ کئی بڑے ناموں نے محض سو، سوا سو کلومیٹر کا سفر کرکے راولاکوٹ جانے، وہاں بیٹھے عوام سے براہ راست ان کا مؤقف سننے اور پھر اپنی رائے قائم کرنے کی زحمت کیوں محسوس نہیں کی۔ کیا صحافت کا بنیادی تقاضا یہی نہیں کہ کسی بھی تحریک کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے فریقین کو سنا جائے۔

کیا صحافی کا کام صرف یہ ہے کہ اسے جو بیانیہ "اوپر” سے ملے وہ اسے آگے منتقل کر دے۔ یا صحافت کا اصل حسن یہ ہے کہ صحافی سوال اٹھائے، خود جائے، دیکھے، سنے، تحقیق کرے اور پھر عوام کو فیصلہ کرنے کے لیے تمام پہلوؤں سے آگاہ کرے۔ افسوس یہ ہے کہ اس دوران بعض لوگوں نے ریاستی بیانیے کو اس شدت کے ساتھ آگے بڑھایا کہ احتجاج میں شامل عام شہری بھی ملک دشمن، غدار، بھارتی ایجنٹ یا کالعدم قرار دیے جانے لگے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے مفادات سمیٹے، کچھ ایسے بھی نظر آئے جو جلتی پر تیل ڈالنے میں مصروف رہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک شاید صحافت کا مطلب بڑے گھر کو سکرین شاٹ بھیجنا اور اپنی دیہاڑی لگانا رہ گیا ہے۔

ہمارے دوست اور آزاد کشمیر کے نامور صحافی جناب عامر محبوب، ان کے ادارے سے وابستہ جناب راجا کفیل اور جناب شہزاد راٹھور یہ تینوں معزز صحافتی شخصیات آج اُسی دفتر اور انہی کرسیوں پر بیٹھ کر آزاد کشمیر میں جاری تحریک کو کالعدم اور ریاست دشمن قرار دیتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ گزشتہ برس یہی تحریک یہی عوام اور یہی ایکشن کمیٹی حکومت کی مبینہ کرپشن بدعنوانی اور استحصال کے خلاف عوام کی آواز قرار دی جاتی تھی۔

سوال یہ ہے کہ اگر گزشتہ برس یہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے تو آج اچانک وہی آواز ریاست دشمن کیسے بن گئی۔ کیا مطالبات تبدیل ہو گئے یا صرف حالات کا سیاسی تناظر بدل گیا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ برس کے احتجاجی بیانیے اور آج کے بیانیے کے درمیان جو نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا صحافت کا معیار اشتہارات کے کھلنے یا بند ہونے سے بدل جاتا ہے۔ حالانکہ عوام کا تو وہی 38 رکنی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ ہے جو دو حکومتوں سے تسلیم شدہ ہے اور جس کے حق میں جناب عامر محبوب اور انکی ٹیم کے درجنوں پروگرام آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ہمارے ایک اور دوست جناب خواجہ متین ہیں۔ جو لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد آزاد کشمیر کی صحافت سے بھی جڑے۔ گزشتہ دور میں جناب خواجہ صاحب وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے میڈیا سے متعلق امور کی نگرانی بلکہ دونوں ہاتھوں سے رکھوالی کرتے رہے۔ حالیہ احتجاج کے دوران جناب خواجہ صاحب کے بارے میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ پونچھ کے لوگ ہمیشہ سبسڈی کے لیے تحریکیں چلاتے ہیں۔

اگر یہ رائے واقعی ان کی ہے تو یہ بھی ایک قابل غور سوال ہے کہ گزشتہ دور میں جب یہی لوگ احتجاج کر رہے تھے تو جناب خواجہ صاحب کا مؤقف کیا تھا۔ کیا تب بھی یہی لوگ محض سبسڈی کے خواہش مند تھے یا ان کے احتجاج کو کسی اور زاویے سے دیکھا جا رہا تھا۔ اگر ایک ہی عوام ایک ہی خطہ اور ایک ہی احتجاج مختلف اوقات میں مختلف سیاسی حالات کے مطابق مختلف معنی اختیار کرنے لگے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ صحافت کا پیمانہ کیا ہے۔

میں دو ہزار چھ سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں اور اس عرصے میں میں نے جناب افضل بٹ کو آزادی صحافت کے نام پر سب سے زیادہ احتجاجی تحریکیں چلاتے دیکھا ہے۔ جناب حاجی نواز رضا کے طویل صحافتی اقتدار کے اختتام کے بعد صحافتی سیاست میں جناب افضل بٹ کا ایک نمایاں دور شروع ہوا۔ میں نے مختلف صحافتی تنظیموں کے قائدین کو اپنے معیار پر پرکھنے، جانچنے اور تولنے کے بعد ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود جناب افضل بٹ صحافی کارکنوں کی ایک توانا آواز ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ درجنوں بلکہ سینکڑوں مواقع پر ہم جیسے صحافی ان کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ لیکن آزاد کشمیر کی حالیہ احتجاجی تحریک کے بارے میں جناب افضل بٹ کا مؤقف سن کر مجھے بھی شدید حیرت ہوئی۔ جناب افضل بٹ نے بھی بعض دوسرے کئی صحافیوں کی طرح تحریک میں شامل لوگوں کے بارے میں سخت ترین الفاظ استعمال کیے اور انہیں غدار ملک دشمن یا کالعدم قرار دینے کے بیانیے کا حصہ بنتے دکھائی دیے۔

یہاں حیرت اس لیے بھی زیادہ ہوئی کہ جناب افضل بٹ کا تعلق کشمیری خاندان سے ہے۔ مظفرآباد سے اسلام آباد اور برطانیہ و یورپ تک پھیلی کشمیری برادری سے ان کے ذاتی اور سماجی روابط کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ جناب بٹ صاحب گرمیوں کا زیادہ عرصہ یورپ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں یا نیلم اور راولاکوٹ جیسے ٹھنڈے علاقوں میں گزارتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں اور عام لوگوں سے ان کے براہ راست روابط بھی ہیں۔

پھر سوال یہ ہے کہ جب قومی میڈیا کے ایک بڑے حصے میں کشمیریوں کی اس تحریک کو ملک دشمن اور اس سے وابستہ لوگوں کو غدار قرار دینے کا بیانیہ سامنے آیا تو جناب افضل بٹ نے ایک لمحے کے لیے بھی اس بیانیے سے اختلاف کرنے یا کم از کم زمینی حقائق جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ جناب افضل بٹ اس وقت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک بڑے دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔ آزادی صحافت کی بات کرنے والی ایک بڑی صحافتی تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ وہ خود راولاکوٹ جاتے وہاں کے لوگوں سے ملتے ان کے مطالبات سنتے ان کے مؤقف کو سمجھتے اور پھر دنیا کو بتاتے کہ آخر ان لوگوں کے مطالبات کیا ہیں۔

اگر مطالبات غلط ہیں تو صحافتی تحقیق اور ٹھوس ثبوتوں کے ذریعے ان کی غلطی سامنے لائی جاتی اور اگر مطالبات جائز ہیں تو ان کی آواز بھی عوام تک پہنچائی جاتی۔ اگر ریکارڈ پر جناب افضل بٹ کی ایسی کوئی گفتگو موجود ہو جس میں انہوں نے آزاد کشمیر کے لوگوں کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہو یا راولاکوٹ جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لیا ہو یا آزاد کشمیر میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہو یا وہاں شہری آزادیوں پر قدغن یا انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھایا ہو تو میں اسے ضرور دیکھنا چاہوں گا۔ کیونکہ آزادی صحافت صرف اسلام آباد کی سڑکوں پر نعرے لگانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس وقت بھی سچ بولنے کا نام ہے جب سچ بولنا آسان نہ ہو۔ آج مجھے جناب افضل بٹ کے ناقدین کی ایک بات یاد رہی ہے کہ وہ آزادی صحافت یا صحافیوں کے حقوق کی وہی تحریک زیادہ قوت سے چلاتے ہیں جس میں میڈیا مالکان، حکومت یا ریاست کی کسی نہ کسی سطح پر سرپرستی حاصل ہو۔

میں نے ہمیشہ اس رائے کو تنقید سمجھ کر نظرانداز کیا لیکن آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ کیا ہماری صحافت واقعی اصولوں کی بنیاد پر کھڑی ہے یا حالات اور مفادات کے ساتھ اس کے زاویے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یہ سوال بھی صرف جناب افضل بٹ سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے کہ صحافت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب طاقتور ہمارے ساتھ کھڑے ہوں صحافت کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب ایک عام شہری، ایک مظلوم، ایک احتجاجی، ایک کمزور یا ایک غیر مقبول آواز ہماری توجہ چاہتی ہو۔

دھرنا آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گا۔ احتجاجی تحریکیں بھی وقت کے ساتھ اپنے انجام تک پہنچتی ہیں۔ مگر صحافت کے کردار کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے۔ تاریخ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ کس نے سوال پوچھا، کس نے خاموشی اختیار کی، کس نے تحقیق کی، کس نے صرف بیانیہ پڑھ کر سنا دیا اور کس نے عوام کی آواز سننے کے لیے خود ان کے درمیان جانے کی زحمت کی۔ اور شاید آنے والے وقت میں جب کوئی آزاد کشمیر کی اس تحریک کے بارے میں تاریخ لکھے گا تو صرف یہ نہیں لکھا جائے گا کہ کتنے لوگ سڑکوں پر تھے، کتنے مارے گئے، کتنے گرفتار ہوئے اور کتنے دھرنے دیے گئے۔ یہ سوال بھی ضرور لکھا جائے گا کہ اس وقت صحافت کہاں کھڑی تھی اور تب شاید ہمیشہ کی طرح کسی احتجاج سے وہی کھوکھلے نعرے سنائی دیں گے کہ
کانے نے دیکھا،،،
شرفو نے دیکھا،،،،
اب تم بھی دیکھو،،،
زندہ ہے صحافت زندہ ہے۔۔۔۔۔

٭٭٭

Share this content: