امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم حملہ روک دیں، کیونکہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘
ٹرمپ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس درخواست کی بنیاد پر دنیا کے بہتر مستقبل اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کی بقا کے پیشِ نظر میں نے تیزی سے معاہدہ طے پانے کی شرط پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’اس عزم میں اسرائیل بھی ہمارے ساتھ شامل ہے۔ اب سب کام پر لگ جائیں اور اس معاہدے کو مکمل کریں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘
تاہم اب سے کُچھ دیر قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب سے رابطوں کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی کہ جس میں اُن کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ ’ایران، امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘
ساتھ ہی ترکی کی جانب سے بھی مذاکرات اور خطے میں دیرپا امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔
Share this content:


