برطانیہ میں کشمیری مظاہرین کا شدید ردعمل،پولیس نے جیو نیوز کے صحافی کو مجمع سے نکال لیا

برطانیہ میں کشمیری عوام کی حمایت میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کو کشمیری مظاہرین کے شدید عوامی ردعمل اور غصے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد برطانوی پولیس نے انہیں مظاہرے سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ جیو نیوز کے صحافی نے ایک متنازع ٹویٹ کے ذریعے کشمیر میں جاری عوامی تحریک کے خلاف ریاستی فورسز کی فائرنگ اور کارروائیوں کو درست قرار دیا تھا اور مظاہرین کو دہشت گرد کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی فورسز ہمارے نہتے اور معصوم لوگوں پر گولیاں چلاکر انہیں قتل کر رہی ہے اور دوسری جانب پاکستانی فوج کے پیڈ صحافی اور ایکٹیوسٹ اس بربریت کو جائز قرار دے رہے ہیں۔

مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مرتضیٰ علی شاہ سمیت سینکڑوں کی تعداد میں صحافی، سیاستدان، اور سیاسی و سماجی کارکنان پاکستانی ریاستی اداروں کی ایما پر کشمیریوں کی حقیقی اور زمین سے جڑی تحریک کو متنازع بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ریاست پاکستان کی جانب سے ان افراد کو باقاعدہ فنڈنگ کی جاتی ہے تاکہ وہ کشمیر کی عوامی تحریک کو متنازع بنائیں اور عوام کو کنفیوژ کرنے کے لیے فورسز کی کارروائیوں کو جائز قرار دیں۔

کشمیری عوام پاکستانی کنٹرولڈ میڈیا کے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے سے سخت نالاں ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو "غدار” اور "پاکستان مخالف” قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ تحریک انڈین فنڈڈ ہے، حالانکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہے۔

کشمیر میں گزشتہ دو مہینوں سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مکمل شٹر ڈاؤن ہے۔ عوامی دھرنا اور لانگ مارچ جاری ہے جس پر فورسز کی براہ راست فائرنگ اور شیلنگ سے اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں پر فورسز کا مکمل قبضہ ہے اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جن میں تحریک کے ایک ممتاز رہنما شوکت نواز میر بھی شامل ہیں، جن کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

علاوہ ازیں، فورسز نے معاشی اور ادویات کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ، دکانیں اور تعلیمی ادارے گزشتہ دو ماہ سے بند ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد مختلف علاقوں میں دھرنے دیے بیٹھی ہے۔

مظاہرین کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، مرتضیٰ علی شاہ کا تعلق ضلع باغ کے گاؤں پدر سیداں سے ہے اور وہ ماضی میں جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے سرگرم رہنما رہے ہیں۔ بعد ازاں وہ اسلام آباد چلے گئے جہاں وہ مبینہ طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے۔ اسٹوڈنٹ ویزے پر برطانیہ منتقل ہونے کے بعد ان کی زندگی میں نظریاتی اور مذہبی تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔

مقامی حلقوں کے مطابق وہ پہلے قادیانی مسلک سے وابستہ ہوئے، تاہم اپنے آبائی شہر میں اس کے خلاف ہونے والے شدید عوامی احتجاج اور جلوسوں کے بعد، انہوں نے مبینہ طور پر اہل تشیع مسلک اختیار کر کے اپنا نام مرتضیٰ الحسینی رکھ لیا۔

بعد ازاں، آزاد کشمیر کے ایک بیوروکریٹ سے خاندانی روابط کی بنیاد پر انہوں نے جنگ اور جیو نیوز گروپ میں ملازمت حاصل کی، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر مقتدر حلقوں کے منظورِ نظر بن گئے اور آزاد جموں کشمیر کے عوام کے حقوق کی تحریک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مفاد پرست عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے تحریکوں اور نظریات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

Share this content: