سعودی ولی عہد کی امریکا سے یمن میں فوجی مداخلت کی درخواست، ٹرمپ کا انکار

یمن کے ساحلی علاقوں اور عالمی سمندری گزرگاہ باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی اور اہم جزیرے پریم پر قبضے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے یمن میں حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی فوجی مدد اور حملوں کی درخواست کی ہے، جسے امریکی صدر نے مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات چیت کے دوران حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو عالمی تجارت اور سعودی آئل برآمدات کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکی فوج کی براہ راست مدا خلت پر زور دیا۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن انتظامیہ نے یمن کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے یا حملے کرنے سے فی الوقت واضح طور پر گریز کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی ولی عہد سے بات ہوئی ہے، جبکہ حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ امریکہ اس تنازع میں براہ راست مداخلت نہ کرے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن جنگ میں براہ راست تو شامل نہیں ہوگا لیکن وہ سعودی عرب کو دفاعی اور سیکیورٹی تعاون فراہم کرتا رہے گا:

سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔

تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں غیر جنگی اور دفاعی معاونت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کی پہلی ترجیح اس وقت ایران اور آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز رکھنا ہے تاکہ ایک نیا محاذ نہ کھل سکے۔

یمنی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے باب المندب (گیٹ آف ٹیئرز) کے وسط میں واقع اہم ترین جزیرے پریم پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ اس پیش قدمی اور بحیرہ احمر کی اس گزرگاہ پر اثر و رسوخ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور امریکہ میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔

سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی آئل پائپ لائن کے قریب بھی دھواں اٹھنے کی اطلاعات ملیں، جس نے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Share this content: