بلوچستان: بی ایل ایف کی خواتین یونٹ کی تشکیل اور پہلی کارروائی کے بعد تربیتی ویڈیو جاری

بلوچستان کی آزادی کے لیے متحرک مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اپنی نو تشکیل شدہ خواتین عسکری یونٹ "کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن” (کاڈ / KAAD) کی تشکیل اور پہلی عملی کارروائی کے بعد ایک منفرد اور تفصیلی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

جاری کردہ ویڈیو میں بلوچستان کے وسیع و عریض اور سنگلاخ پہاڑی سلسلہ جات میں "کاڈ” (KAAD) کے جہدکاروں کو ایک منظم اور پیشہ ورانہ فوج کی طرز پر انتہائی کٹھن اور جدید ترین عسکری تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یونٹ کے تمام ارکان جدید اور بھاری اسلحے کے استعمال کی مشقیں کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب گذشتہ روز بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو تشکیل شدہ فیمیل یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کے اعلان کے ساتھ ہی تربت کے علاقے جوسک میں پہلی کارروائی میں متعدد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

ویڈیو کے مطابق تمام خواتین اہلکار پیشہ ورانہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ہیں، جن کے بازوؤں پر بی ایل ایف کا پرچم، آفیشل لوگو اور خواتین یونٹ (KAAD) کا خصوصی تیار کردہ بیج (لوگو) نمایاں ہے۔ یہ خاص لوگو معروف شہید بلوچ سیاسی رہنما بانک کریمہ بلوچ کی تصویر کو بطور علامت بنا کر تیار کیا گیا ہے۔

تربیتی مناظر کے دوران "کاڈ” کی خواتین ارکان کو پرعزم انداز میں موٹر سائیکلیں اور دیگر گاڑیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں جہدکاروں کو مکمل طور پر جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر مارٹر گولے فائر کرنے، ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) پھینکنے، اور تیز رفتار موٹر سائیکل سواری کے دوران چلتی گاڑیوں سے ہدف پر سچائیت کے ساتھ فائرنگ کرنے کی پیشہ ورانہ مشقیں کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں خاتون کمانڈر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کاڈ” (KAAD) بلوچ مزاحمتی تحریک میں ایک نئی علامت اور بلوچ معاشرے کے لیے ایک نئی صبح کا پیش خیمہ ہے۔

کمانڈر کے مطابق "جو راستہ شہید بانک کریمہ بلوچ نے آزادی کے حصول کے لیے منتخب کیا تھا، وہی راستہ ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔ ہم اس راستے پر گامزن رہ کر ہر قسم کی قربانی سے اس جدوجہد کو مزید مستحکم کریں گے، کیونکہ کریمہ بلوچ کی عظمت اور قربانی ہماری ہمت کا سرچشمہ ہے۔”

کمانڈر کا کہناہے : "موجودہ جنگی صورتحال میں اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی گئی کہ خواتین اپنے مردوں کے شانہ بشانہ میدانِ عمل کا حصہ بنیں۔ بلوچستان کی جنگِ آزادی میں مرد اور عورت کی کوئی تفریق نہیں، سب برابر ہیں۔”

کمانڈر ویڈیو میں مزہد کہتا ہے کہ "کاڈ کے جہد کار اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہماری اس جدوجہد کا مقصد صرف سیاسی و عسکری کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار قومی شناخت تشکیل دینا ہے۔”

کمانڈر اپنے پیغام میں کہتا ہے کہ "کاڈ کے تمام ارکان آزادی کی اس جدوجہد میں اپنا مکمل حصہ ڈالتے ہوئے بی ایل ایف کے دیگر یونٹوں اور اسکواڈز کے ساتھ مل کر حتمی کامیابی تک میدانِ جنگ میں رہیں گے اور ہم ایسی شدت کے ساتھ جنگ چھیڑیں گے جو دشمن کو جڑ سے ہلا کر رکھ دے گی۔”

ویڈیو کی شروعات شہید بلوچ رہنما بانک کریمہ بلوچ کی ایک تاریخی تقریر کے آڈیو کلپ سے کی جاتی ہے۔ اس پیغام میں وہ بلوچ عوام پر زور دیتی ہیں کہ وہ بلوچ آزادی کے سرمچاروں (جنگجوؤں) کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، ان کی کٹھن، پرخطر اور مصائب سے بھری زندگی کا احساس کریں اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کریں، کیونکہ وہ اپنے شعبے اور زندگی کو قربان کر کے صرف قوم کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ویڈیو کے اختتامی حصے میں خاتون کمانڈر پاکستانی فوج اور اس کے مقامی سہولت کاروں کو کڑا پیغام اور انتباہ دیتے ہوئے کہتی ہیںکہ "اپنی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ کے رکھو، اب کاڈ (KAAD) آ رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ازیں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے خاتون کمانڈر شہناز بلوچ عرف سدو کی ویڈیو شائع کی جاچکی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی خاتون کمانڈر منظر عام پر آئی تھیں۔

Share this content: