انڈیا میں امریکی سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرگئی گور نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دیتے ہوئے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
سرگئی گور کے دو روزہ دورۂ کشمیر اور لداخ کو ان کی خصوصی حیثیت کے باعث غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں انھوں نے محتاط اور تقریباً غیر جانبدار انداز اپنایا۔
انھوں نے کہا: ’کشمیر آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، یہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ کے ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
’اس گفتگو کے موضوعات پر مجھے واشنگٹن اور نئی دلّی میں مزید بات کرنی ہے، جبکہ ہمارے مزید ملاقاتوں کے دور بھی باقی ہیں۔‘
اس موقع پر عمر عبداللہ نے ملاقات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا: ’ظاہر ہے کچھ موروثی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے آنے والے وقت میں کام کرنا ہو گا، لیکن یہ مذاکرات آگے چل کر سرگئی گور اور واشنگٹن کے علاوہ میرے اور نئی دلّی کے درمیان بھی جاری رہیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے تعلقات مزید وسیع اور گہرے ہوں گے۔‘
امریکی شہریوں پر کشمیر کے سفر سے متعلق سفری پابندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سرگئی گور نے کہا کہ ان پابندیوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ ایک بہت خوبصورت وادی ہے۔ نئی دلّی اور مقامی انتظامیہ نے حالات بہتر بنانے اور اس خطے کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ میں اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان نہیں کروں گا، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ کشمیر سے متعلق سفری پابندیوں میں نرمی ہونی چاہیے۔‘
سرگئی گور سرینگر میں رات قیام کے بعد لداخ روانہ ہوں گے۔
کسی امریکی سفیر کی کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ یہ تقریباً 15 برس بعد پہلی ملاقات ہے۔ اس سے قبل 2011 میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سرینگر میں ملاقات کی تھی۔
سرگئی گور کی صدر ٹرمپ سے قربت اور جنوبی و وسطی ایشیا میں ان کے کردار کے باعث اس دورے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما نعیم اختر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا: ’سرگئی گور نہ صرف امریکی سفیر ہیں بلکہ جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب بھی ہیں، اس لیے اس دورے کی خاص اہمیت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے کی تعریف کے بعد اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سرگئی گور کی سرینگر آمد سے چند گھنٹے قبل عمر عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: ’میں کشمیر کے مسائل پر بات نئی دلّی سے کروں گا، نہ کہ کسی بیرونی ملک سے۔ ہاں، وہ آ رہے ہیں، یہ اچھی بات ہے، لیکن میں زیادہ سنوں گا۔ ظاہر ہے وہ بات کرنے آ رہے ہیں تو ہم بھی بات کریں گے۔‘
واضح رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ایک سال بعد انڈین حکومت نے امریکہ سمیت 15 ممالک کے سفیروں کو کشمیر کے دورے کی دعوت دی تھی۔ اس دورے کے دوران حکومت نے یہ مؤقف اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد خطے کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
Share this content:


