کراچی: سی ٹی ڈی کا ایس آر اے کے 3 مبینہ کارندوں کی گرفتاری کا دعویٰ

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے ایک وفاقی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ مشترکہ کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے سندھودیش ریوولیوشنری آرمی (SRA) سے تعلق رکھنے والے 3 مبینہ جنگجوؤں کو گرفتارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گرفتار افراد پر ڈیفنس فیز 2 میں 14 گست کے موقع پر لگائے گئے سامان کے ایک اسٹال کے مالک کے قتل کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق یہ گرفتاری 18 اگست کو کورنگی کازوے کے قریب سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلی جنس ادارے کے مشترکہ آپریشن کے دوران عمل میں آئی۔

حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت ظفر علی، فراز اور سجاد احمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پولیس اور سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 3 عدد ہینڈ گرینیڈ اور ایک پستول برآمد کیا گیا ہے۔

12 اگست کو ڈی ایچ اے فیز 2 میں 14 اگست کے حوالے سے لگائے گئے ایک سامان کے اسٹال پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی تھی۔

فائرنگ کے اس واقعے میں اسٹال کا مالک امان شدید زخمی ہو گیا تھا، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ایس آر اے کے رکن ارسلان شاہ نے اس حملے کی ہدایات اور مالی معاونت (فنڈنگ) فراہم کی تھی۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تحویل میں تفتیش جاری ہے تاکہ دیگر پرتشدد واقعات میں ان کے مبینہ ملوث ہونے اور وسیع تر نیٹ ورک سے روابط کا پتا لگایا جا سکے۔

تاہم، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات اور گرفتاریوں کی ازخود یا آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رہے کہ ایس آر اے ( سندھو دیش ریولیشنری آرمی)کا موقف ہے کہ وہ سندھ کی آزادی کی مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔

Share this content: