پاکستان زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے راولاکوٹ میں اہم اجلاس کے بعد ایک جامع اعلامیہ جاری کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر بھر میں آج سے غیر معینہ مدت کے لیے مکمل لاک ڈاؤن اور یومِ سیاہ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ آزاد کشمیر حکومت اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے گزشتہ برس 4 اکتوبر کو طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے اور عہد شکنی کے خلاف کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین سالوں سے خطے کے عوام کے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ 4 اکتوبر 2025 کو ہونے والے معاہدے پر حکومت نے روایتی بدعہدی سے کام لیتے ہوئے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ مقررہ مدت ختم ہونے پر جب پُرامن لانگ مارچ کی کال دی گئی تو رواں برس 5 جون سے سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر کے تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی۔
ترجمان ایکشن کمیٹی کے مطابق اس دوران فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں سینکڑوں شہری شہید و زخمی ہوئے، جبکہ کور کمیٹی کے ممبران خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ اور عابد شاہین سمیت ہزاروں شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس تمام تر ظلم و جبر کے باوجود کمیٹی نے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی، مگر حکمرانوں نے جھوٹ اور فریب کی پالیسی برقرار رکھی۔
آج راولاکوٹ میں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، وکلاء، علماء، طلباء اور مقامی ایکشن کمیٹیز سے طویل مشاورت کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں درج ذیل اہم نکات شامل ہیں:
آزاد کشمیر بھر میں آج سے مکمل شٹ ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہے گی، جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام دیگر علاقوں اور بیرونِ ملک سیاہ پرچم لہرا کر یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔
ایکشن کمیٹی نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن کو کامیاب بنائیں اور اپنے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
تحریک میں سمندر پار (اوورسیز) کشمیریوں کے متحرک اور شاندار کردار پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ وہ آئندہ بھی اس جدوجہد میں شانہ بشانہ رہیں گے۔
ایکشن کمیٹی نے اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود عوام کے حقوق کے دفاع اور تحریک کی کامیابی تک پُرامن جدوجہد کا سلسلہ ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔
Share this content:


