’27 جولائی کا خونی دن: پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک تابعش قیوم کبھی گھر نہ لوٹ سکا

اسٹوری : فرحان طارق

"وہ روزانہ آٹھ بجے گھر آتا تھا، ہم اس کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، مگر اس روز وہ واپس نہیں آیا وہ میرا بیٹا کم اور دوست زیادہ تھا۔ مجھ سے ہر چیز شیئر کرتا تھا،”

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 27 جولائی کے لانگ مارچ کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اپر چھوٹا گلہ، راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ طالب علم تابعش قیوم بھی شامل تھے۔

تابعش جامعہ پونچھ میں بی بی اے کے آخری سمسٹر کے طالب علم تھے اور آن لائن کام بھی کرتے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ روزانہ دھرنے میں شرکت کے بعد شام کو گھر واپس آ جاتے تھے، تاہم 27 جولائی کو وہ واپس نہ لوٹے۔

تابعش کی والدہ غزالہ بی بی کے مطابق، ’’تابعش دھرنے میں گیا تھا، واپس نہیں لوٹا۔ ہم نے فون کالز کیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ وہ روزانہ آٹھ بجے گھر آتا تھا، ہم اس کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، مگر اس روز وہ واپس نہیں آیا۔‘‘

غزالہ بی بی کہتی ہیں کہ تابعش اپنے والد سے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد دونوں مل کر کاروبار کریں گے اور حالات معمول پر آنے کے بعد گاڑی خریدنے کے لیے مردان جائیں گے، لیکن یہ خواہشیں پوری نہ ہو سکیں۔

تابعش کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ
’’وہ میرا بیٹا کم اور دوست زیادہ تھا۔ مجھ سے ہر چیز شیئر کرتا تھا، گھر کا سب سے لاڈلہ بڑا بیٹا تھا‘‘

تابعش کے والد قیوم خان کے مطابق، 27 جولائی کی شام جب بیٹا گھر واپس نہ آیا تو انہوں نے اسے تلاش کرنا شروع کیا، مگر رات تین بجے تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اگلی صبح ساڑھے آٹھ بجے تابعش کی میت گھر پہنچی تو اہل خانہ کو معلوم ہوا کہ وہ رات ہی میں جان سے جا چکا تھا۔

قیوم خان کے مطابق، دیگر جاں بحق افراد کی میتیں رات کو ہی مل گئی تھیں، تاہم گولی لگنے کے بعد تابعش جھاڑیوں میں گر گیا، جس کے باعث اس کی لاش رات بھر تلاش نہیں کی جا سکی۔

تابعش کے والد نے کہا کہ ان کے خاندان کو پاکستان کے شہریوں یا پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں۔ ان کا سوال تھا کہ اگر ان کے بیٹے اور دیگر مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا گیا تو تابعش نے سرکاری تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم سے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی، ’’کیا ان اداروں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جا رہی تھی؟‘‘

واقعے کے ایک عینی شاہد کے مطابق مظاہرین کی جانب سے فائرنگ نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے وقت اندھیرے میں مظاہرین کو سنائپر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا اور چوکی محلہ، ڈریک اور عیدگاہ کے مقامات پر متعدد شہری فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

27 جولائی کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ڈریک عیدگاہ کے مرکزی دھرنے سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ اس دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں دو درجن سے زائد مظاہرین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

تابعش قیوم بھی انہی واقعات میں جان سے جانے والے نوجوانوں میں شامل تھے۔ایک ایسا طالب علم جس کے سامنے تعلیم، کاروبار اور بہتر مستقبل کے خواب تھے، مگر 27 جولائی کی شام وہ دھرنے سے گھر واپس نہ آ سکا۔

٭٭٭

Share this content: