17 سال بعد شہید بھائی کو لکھا گیا بہن کا خط جو خطے کے جاری المیے کا آئینہ دار بن گیا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رواں سال جون کی عوامی و سیاسی تحریک اور احتجاجی لہر کے دوران راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کرہلاک ہونے والے 26 سالہ فہد برکت کی بہن کا جذباتی اور آلام سے بھرا کھُلا خط منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ یہ تحریر نہ صرف ایک غمزدہ بہن کے ذاتی کرب اور ناقابلِ تلافی نقصان کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ خطے میں طاقت کے بے جا استعمال اور اس کے نتیجے میں تباہ ہونے والے خاندانوں کی تلخ حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

17 برس قبل (2009 میں) سکول کے ابتدائی دنوں کے دوران فہد نے اپنی بہن کو جو پہلا خط لکھا تھا، بہن نے وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ تاہم فہد کی شہادت کے بعد، 17 سال کی تاخیر کے ساتھ لکھا گیا یہ جواب محض ایک خاندانی یادداشت نہیں، بلکہ ایک ریاست کے جبر کے خلاف ایک خاموش، پردرد اور مضبوط استغاثہ بن چکا ہے۔

خط کا متن اور اہم اقتباسات:

مرحوم فہد کا پس منظر اور 7 جون کا واقعہ:

خط کے متن کے مطابق، فہد برکت (پیدائش: 30 جنوری 2000) جو طویل القامت، معصوم اور خاندانی لاڈلے تھے، 7 جون 2026 کی رات راولاکوٹ میں فائرنگ کا شکار ہوئے۔ خاندان کے مطابق، وہ ‘O-Negative’ بلڈ گروپ کے باقاعدہ ڈونر (خون عطیہ کرنے والے) تھے اور 7 جون کی رات سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ میں کسی زخمی کو خون دینے کی غرض سے جا رہے تھے۔ تاہم ہسپتال کے گیٹ کے قریب ہی انہیں گردن میں گولی ماری گئی، جو ان کی شہہ رگ میں لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

"فہدی، تمہاری شہادت کے 2 مہینے اور 10 دن بعد 18 اگست کی رات کو مجھے بتایا گیا کہ تم جنت کے مہمان بن چکے ہو… وہ رات جس کرب میں گزری وہ الفاظ میں نہیں بتا سکتی۔ میں خود کو یقین دلاتی رہی کہ یہ کوئی غلط فہمی ہے اور تم زندہ ہو اور کہیں قید میں ہو۔”

عوامی تحریک، کریک ڈاؤن اور خبر کو چھپانے کا صدمہ:

تحریر سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ راولاکوٹ اور گردونواح میں انٹرنیٹ کی معطلی، سخت کریک ڈاؤن اور سیکیورٹی کی شدید فضا کے باعث خاندان کو فہد کی فوری موت کی صحیح اطلاع نہیں مل سکی تھی۔ اہل خانہ کو ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ وہ زخمی یا انتظامیہ کی تحویل میں ہیں، جس کے باعث بہن مہینوں ان کی رہائی اور شفا کے لیے دعائیں اور وظائف کرتی رہی۔

"لوگ بتاتے ہیں تمہاری شہادت 1 بجے سے پہلے ہوئی۔ سی ایم ایچ کے گیٹ سے اندر جا رہے تھے، اتنے میں گولی آئی اور گردن میں لگ گئی… جس قاتل نے تمہاری گردن کا نشانہ لیا، اسے تمہاری معصومیت کا نور کیوں نظر نہ آیا؟”

عوامی ردِعمل اور ریاست سے سوال:

خط میں اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے کہ معصوم شہریوں کو بغیر کسی تفتیش یا عدالتی کارروائی کے ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر ان پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کر دیے جاتے ہیں۔ بہن نے تحریر کیا کہ 8 سالہ کمسن زمل (فہد کی بھتیجی) آج بھی اپنے چاچو کے لائے جانے والے ‘کشمیر کے پرچم’ کا انتظار کر رہی ہے۔

"آج ساری دنیا تمہاری واپسی اور انصاف کے لیے احتجاج کر رہی ہے، تمہاری تصویریں جگہ جگہ لگی ہیں۔ تم نے کہا تھا کہ شازیب بھائی ہمارے ہیرو بن گئے، اور قبولیت کی اسی گھڑی میں تمہیں بھی وہی مرتبہ ملا۔”

کاشگل نیوز کا تجزیاتی نوٹ:

فہد برکت کی بہن کا یہ خط محض ایک بہن کا اپنے بھائی کے لیے مرثیہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال، پرامن احتجاج کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر اٹھنے والا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ خط اس بات کا ثبوت ہے کہ تنازع اور ریاستی جبر کے نتیجے میں گرنے والی ہر گولی کسی نہ کسی گھر کے چراغ کو بجھا دیتی ہے اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

Share this content: