کاشگل نیوزتحقیقی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے پاکستان کے حمایت یافتہ مذہبی گروہوں کو متحرک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ یہ عناصر بتدریج اس تحریک کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ریاستی طاقت کے بے پناہ استعمال، تشدد اور متعدد نوجوانوں کی ہلاکتوں کے باوجود جب عوامی جدوجہد کو دبانے میں ناکامی کا سامنا ہوا، تو اب اس تحریک کو اندرونی طور پر کمزور اور تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں تحریک کے نمائندہ رہنماؤں، فعال کارکنوں، حامیوں اور ہمدردوں کی سلامتی ایک انتہائی سنجیدہ تشویش بن چکی ہے۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تحریک کے تمام جمہوری اور عوامی حلقے ان ممکنہ سازشوں سے ہمہ وقت باخبر رہیں، ہر قسم کے اشتعال اور تقسیم سے گریز کریں اور اپنی جدوجہد کو پُرامن، متحد اور عوامی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے آگے بڑھائیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی جب جب عوامی تحریکوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے پاکستانی مقتدرہ کی طاقت و جبر کی پالیسیاں ناکام ہوئیں اور تحاریک میں مزید شدت، استحکام اور تنظیمی نظم و ضبط دیکھنے میں آیا، تو ان کے مقابل مذہبی گروہوں کو لا کر کھڑا کیا گیا۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مذہبی گروہ پاکستانی مقتدرہ کا اثاثہ ہیں اور انہی مقاصد کے تحت ان کی سرپرستی کی جاتی ہے تاکہ بوقتِ ضرورت ان سے کام لیا جا سکے۔
عوامی تحریکوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مقتدرہ کی جانب سے مذہبی گروہوں کو استعمال کرنے کی یہ پالیسی بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان میں شدت کے ساتھ جاری ہے، جو کہ ایک انتہائی خوفناک اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
Share this content:


