تحریر: خواجہ کبیر احمد
نوٹ: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پرامن عوامی حقوق کی تحریک اور پاکستان میں سیاسی شخصیت یا سیاسی پارٹی کی سیاسی تحریک دو مختلف تحریکیں ہیں۔ بعض تجزیہ نگار پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری اس عوامی حقوق کی تحریک کا موازنہ پاکستان میں چلنے والی سیاسی جماعت کی تحریک سے کرتے ہیں یا تشبیہ دیتے ہیں، جو درست نہیں۔ اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک پاکستان میں شخصی تحریک سے کس طرح بنیادی طور پر مختلف ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جاری عوامی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس بنیادی سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ یہ تحریک آخر کس چیز کے لیے ہے۔
کیا یہ کسی فرد کو اقتدار میں لانے کی تحریک ہے؟کیا یہ کسی سیاسی جماعت کو حکومت دلانے کی تحریک ہے؟کیا یہ کسی شخصیت کی سیاسی بالادستی قائم کرنے کی کوشش ہے؟
یا یہ ان بنیادی سوالات کی جدوجہد ہے جن کا تعلق عام شہری کی زندگی، اس کے معاشی حقوق، وسائل پر اختیار، سیاسی نمائندگی، حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی سے ہے؟
اگر اس سوال کا دیانت داری سے جواب دیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کو محض احتجاج، دھرنے، بلوں کے بائیکاٹ یا سڑکوں پر دباؤ تک محدود کرنا اس تحریک کی اصل نوعیت کو سمجھنے سے انکار ہے۔
یہ کسی شخصیت کی تحریک نہیں، حقوق کی تحریک ہے۔یہ اقتدار کے حصول کی تحریک نہیں، اختیار کی تقسیم پر سوال اٹھانے والی تحریک ہے۔یہ کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم نہیں، عوامی حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کی جدوجہد ہے۔
کسی عوامی تنظیم یا تحریک کو حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کالعدم قرار دے دینا اور اس کا عوام میں کالعدم ہو جانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
ریاستی حکم کسی تنظیم کی قانونی حیثیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے، لیکن کسی عوامی مطالبے کی سماجی اور سیاسی حیثیت کو خود بخود ختم نہیں کر سکتا۔
اگر کسی تحریک کے مطالبات عوام کے حقیقی مسائل سے پیدا ہوئے ہوں، اگر لوگ ان مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلیں، اگر مختلف سیاسی وابستگیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک مشترکہ ایجنڈے پر متحد ہوں اور اگر ریاست کو مسلسل اس تحریک کا جواب دینا پڑے تو صرف اسے ’’کالعدم‘‘ کہہ دینا اس کی عوامی بنیاد ختم نہیں کرتا۔بلکہ بعض اوقات کسی تحریک کو کالعدم قرار دینا اس بات کا اعتراف بن جاتا ہے کہ اسے معمول کی سیاسی گفتگو سے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
اصل سوال اس لیے یہ نہیں کہ حکومت نے اسے کیا نام دیا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ عوام اسے کیا سمجھتے ہیں اور اس کے مطالبات کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو عمران خان یا تحریک انصاف کے احتجاجی ماڈل کے ساتھ جوڑنا سیاسی اعتبار سے ایک بنیادی مغالطہ ہے۔
کسی دو تحریکوں میں احتجاج، دھرنا، بائیکاٹ یا سول نافرمانی کا کوئی ایک طریقہ مشترک ہو سکتا ہے، مگر اس سے دونوں تحریکوں کا مقصد ایک نہیں ہو جاتا۔
عمران خان کی سیاست پاکستان میں اقتدار کے حصول اور ریاستی و حکومتی اقتدار پر سیاسی کنٹرول کے سوال کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تحریک انصاف ایک باقاعدہ سیاسی جماعت ہے، انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور اس کی سیاست کا بنیادی مقصد سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہے۔جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بنیاد کسی ایک شخصیت کو اقتدار دلانے پر نہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم کون بنے گا۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ عوام کے وسائل پر اختیار کس کا ہوگا؟سوال یہ ہے کہ عوام سے وصول ہونے والے ٹیکس اور ان کے قدرتی وسائل کا استعمال کیسے ہوگا؟سوال یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کے حصول میں عوام کے حقوق کیا ہیں؟سوال یہ ہے کہ اپنے سیاسی اور معاشی مستقبل کے فیصلوں میں عوام کا حقیقی اختیار کتنا ہے؟یہ فرق معمولی نہیں بلکہ بنیادی ہے۔ایک تحریک اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہو سکتی ہے، دوسری تحریک اقتدار کے ڈھانچے میں عوام کے حقوق اور اختیار کا سوال اٹھا سکتی ہے۔دونوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا سیاسی تجزیہ نہیں بلکہ سیاسی مماثلت پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اصل طاقت کسی ایک شخصیت میں نہیں۔یہ کسی فرد کے گرد قائم جماعت نہیں۔یہ کسی ایک خاندان کی سیاسی میراث نہیں۔یہ کسی وزارت یا عہدے کے حصول کی مہم نہیں۔اس کی اصل قوت مختلف علاقوں، طبقات اور سیاسی وابستگیوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اجتماعی اتحاد ہے۔اسی لیے اس تحریک کو شخصیات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش ناکافی ہے۔اس تحریک کا اصل کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر بنیادی عوامی مطالبات پر متحد ہوتے ہیں۔یہی اتحاد اس تحریک کی اصل طاقت ہے۔
اب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مسلسل احتجاج، شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور بائیکاٹ کے بعد تحریک کے پاس اگلا قدم کیا رہ جاتا ہے۔یہ سوال بظاہر منطقی ہے، مگر اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔
اگر ایک تحریک کے پاس صرف احتجاج کا راستہ رہ گیا ہے تو یہ سوال صرف تحریک سے نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام سے بھی پوچھنا چاہیے کہ عوامی مطالبات کو حل کرنے کے لیے دوسرے راستے کیوں مؤثر نہیں رہے؟اگر اسمبلی موجود ہے تو کیا وہ عوامی مطالبات کو حل کر رہی ہے؟اگر سیاسی نمائندگی موجود ہے تو کیا عوام کے بنیادی مسائل اس کے ذریعے حل ہو رہے ہیں؟اگر مذاکرات کا راستہ کھلا ہے تو کیا سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ہو رہے ہیں؟اور اگر مذاکرات نہیں ہو رہے تو اس کی ذمہ داری صرف احتجاج کرنے والوں پر کیسے ڈالی جا سکتی ہے؟ایک تحریک کا سڑک پر آنا ہی خود اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ معمول کے ادارہ جاتی راستے عوام کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔
پرامن احتجاج کا بنیادی مقصد ریاست سے جنگ کرنا نہیں بلکہ ریاست کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ اب نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔دھرنا، شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور بائیکاٹ اپنی ذات میں منزل نہیں ہوتے۔یہ مذاکراتی طاقت پیدا کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں۔ریاست کے پاس انتظامی طاقت ہوتی ہے۔عوام کے پاس اجتماعی طاقت۔جب دونوں قوتیں ایک دوسرے کے سامنے آتی ہیں تو بالآخر سیاسی حل کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ ہر احتجاج بالآخر مذاکرات کی میز پر آتا ہے، درست ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سڑک اور مذاکرات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اکثر مذاکرات کی میز پر جو کچھ حاصل ہوتا ہے، اس کے پیچھے سڑک پر موجود عوامی دباؤ ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طویل احتجاج، انٹرنیٹ کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور آمدورفت کے مسائل سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار کرنا درست نہیں ہوگا۔لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر نقصان کا ذمہ دار صرف تحریک کو قرار نہ دیا جائے۔اگر انٹرنیٹ بند کیا گیا تو فیصلہ کس کا تھا؟اگر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو اس میں انتظامی اقدامات کا کیا کردار تھا؟اگر معمولات زندگی متاثر ہوئے تو کیا مذاکرات کے ذریعے بحران ختم کرنے کی کوشش کافی تھی؟عوامی تحریک کے اثرات کا حساب ضرور ہونا چاہیے، مگر ریاستی اقدامات کے اثرات کا حساب بھی اسی دیانت داری سے ہونا چاہیے۔ورنہ تجزیہ یک طرفہ ہوجاتا ہے۔
بجلی، پانی، گیس یا ٹیکسوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ ایک سنجیدہ سیاسی اقدام ہے اور اس کے نتائج پر بحث ہونی چاہیے۔لیکن اس بحث کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہونا چاہیے کہ عدم ادائیگی کے بعد کیا ہوگا۔بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ عوام اس مقام تک پہنچے کیوں ہیں؟اگر لوگ بجلی کے نرخوں، ٹیکسوں، وسائل کی تقسیم اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے سوال اٹھا رہے ہیں تو ان سوالات کا جواب بھی ضروری ہے۔کسی احتجاجی طریقے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس اختلاف کو عوامی شکایات کے انکار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔اگر ایک مریض درد کی شکایت کرے تو صرف یہ کہنا کہ اس کی دوا کڑوی ہے، اس کے درد کا جواب نہیں۔اسی طرح عوامی احتجاج کے طریقے پر اعتراض، عوامی شکایت کا جواب نہیں ہوتا۔
یہ تصور بھی درست نہیں کہ جمہوریت میں صرف پارلیمنٹ جائز سیاسی راستہ ہے اور سڑک پر احتجاج کسی طرح پارلیمانی نظام کے خلاف ہے۔جمہوریت میں پارلیمنٹ بھی عوام کی آواز ہے اور پرامن احتجاج بھی عوام کی آواز ہے۔پارلیمنٹ قانون بناتی ہے۔عوامی تحریکیں قانون سازوں پر دباؤ ڈالتی ہیں۔اگر دونوں اپنے اپنے کردار ادا کریں تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پارلیمانی ادارے عوامی مطالبات کو سننے سے قاصر ہوں اور احتجاج کرنے والوں کو ہی مسئلہ قرار دے دیا جائے۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بے شمار بنیادی حقوق ایسے ہیں جو صرف پارلیمانی بحث سے نہیں بلکہ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں تسلیم کیے گئے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی احتجاجی تحریک میں لوگوں کی تعداد ہی کسی تحریک کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔لیکن عوامی تعداد کو مکمل طور پر غیر اہم قرار دینا بھی درست نہیں۔جمہوریت میں عوامی تعداد ہی سیاسی مینڈیٹ کی بنیاد بنتی ہے۔اگر ہزاروں لوگ کسی مطالبے کے ساتھ کھڑے ہوں تو ان کے مطالبات کو محض ’’ہجوم‘‘ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ لوگ کس مطالبے پر متحد ہیں، ان مطالبات کی عوامی قبولیت کتنی ہے اور ریاست اس کا جواب کیا دیتی ہے۔
کسی بھی تحریک کے دوران اگر مقامی حکومت اور ادارے عوامی مطالبات پر توجہ نا دیں ان مسائل کے حل کی طرف نا بڑیں بلکہ عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کریں تو احتجاج کرنے والوں کا مکمل جمہوری حق ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں تک اپنی آواز پہنچائیں۔بین الاقوامی اداروں سے اپیل کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بیرونی طاقت آ کر مقامی انتظامی مسئلہ حل کرے گی۔بلکہ عالمی اداروں سے رابطہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں، سیاسی حقوق اور ریاستی اقدامات کو بین الاقوامی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔کسی معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا اس وقت بھی اہم ہو سکتا ہے جب اس کا فوری سیاسی حل نہ نکلے۔اس لیے عالمی اداروں سے رابطے کو محض غیر حقیقی امید قرار دینا بھی مناسب نہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کو صرف بجلی، آٹے، ٹیکس یا کسی ایک انتظامی مطالبے تک محدود کر کے دیکھنا اس کے وسیع تر سیاسی مفہوم کو نظرانداز کرنا ہے۔اس جدوجہد کے پیچھے بنیادی سوالات موجود ہیں جن میں حقِ ملکیت کس کا ہے؟وسائل پر اختیار کس کا ہے؟عوام کے وسائل کے استعمال کا فیصلہ کون کرے گا؟عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں کتنا اختیار حاصل ہے؟کیا حکمرانی عوام کی مرضی اور مفاد کے مطابق ہونی چاہیے یا صرف انتظامی اختیار رکھنے والوں کی مرضی سے؟یہ وہ سوالات ہیں جو کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے سے ختم نہیں ہوتے۔
اگر ایک حکومت کسی تحریک کو کالعدم قرار دیتی ہے، مگر مطالبات ختم نہیں ہوتے، تو سوال تحریک سے زیادہ ریاست سے بنتا ہے۔اگر گرفتاریاں ہوتی ہیں، مگر مطالبات زندہ رہتے ہیں، تو مسئلہ صرف احتجاج کرنے والوں کا نہیں رہتا۔اگر مواصلاتی رابطے محدود کیے جاتے ہیں، مگر عوامی سوال ختم نہیں ہوتے، تو انٹرنیٹ بندش مسئلے کا حل نہیں بنتی۔اگر سیاسی تقسیم کی کوششوں کے باوجود عوام بنیادی مطالبات پر متحد رہیں، تو شخصیات کو بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔اور اگر طاقت کے استعمال کے باوجود عوامی شعور برقرار رہے تو پھر یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ تحریک خود اپنی حکمتِ عملی کی قیدی بن چکی ہے۔شاید حقیقت اس کے برعکس ہے۔شاید بند گلی میں تحریک نہیں بلکہ وہ پرانا سیاسی تصور پہنچ چکا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ عوامی مطالبات کو انتظامی فیصلوں کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جا سکتا ہے۔
ہر تحریک کی کامیابی کو صرف اس پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا کہ حکومت نے اگلے دن کتنے مطالبات مان لیے۔تحریکیں سیاسی شعور بھی پیدا کرتی ہیں۔وہ عوام کو اپنے حقوق کا احساس دلاتی ہیں۔وہ ایسے سوالات پیدا کرتی ہیں جنہیں پھر آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔وہ سیاسی جماعتوں کو اپنا موقف واضح کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔وہ پارلیمان کو جواب دہ بناتی ہیں۔اور وہ ریاست کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ عوام کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کرنا ہمیشہ ممکن نہیں۔اس اعتبار سے کسی تحریک کو اس کے فوری نتائج کی بنیاد پر ناکام قرار دینا تاریخ کے عمل کو بہت مختصر نظر سے دیکھنا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمتِ عملی کے ہر فیصلے سے اتفاق ضروری نہیں۔اس کی قیادت کے ہر اقدام کو درست قرار دینا بھی ضروری نہیں۔عوام پر پڑنے والے معاشی اثرات کا جائزہ بھی ہونا چاہیے۔احتجاج کے طریقوں پر تنقید بھی ہونی چاہیے۔لیکن یہ سب کچھ کرتے ہوئے بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ عوامی حقوق کا سوال احتجاج کے طریقۂ کار سے بڑا ہوتا ہے۔اگر کسی طریقے سے اختلاف ہے تو طریقے پر بحث کی جائے۔اگر کسی مطالبے سے اختلاف ہے تو دلیل دی جائے۔اگر کسی حکمتِ عملی کو غلط سمجھا جاتا ہے تو متبادل حکمتِ عملی پیش کی جائے۔لیکن کسی تحریک کو صرف ’’کالعدم‘‘ قرار دے کر یا کسی دوسری سیاسی جماعت کی تحریک سے مماثل قرار دے کر اس کے بنیادی عوامی سوالات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے بھی چیلنج موجود ہیں اور ریاست کے سامنے بھی۔تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی اتحاد برقرار رکھے، پرامن جدوجہد کو اپنی طاقت بنائے، اپنے مطالبات کو واضح رکھے اور حکمتِ عملی میں لچک کے ساتھ بنیادی اصولوں پر ثابت قدم رہے۔ریاست کے لیے چیلنج اس سے بھی بڑا ہے۔ریاستی طاقت استعمال کرنا آسان ہے۔کسی تحریک کو پابندی سے روکنا آسان ہے۔کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینا آسان ہے۔لیکن عوام کے بنیادی سوالات کا سیاسی جواب دینا مشکل ہے۔اور یہی اصل امتحان ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی شخص کو اقتدار میں لانے کے لیے نہیں نکلی۔یہ کسی سیاسی جماعت کی حکومت بنانے کے لیے نہیں نکلی۔یہ بنیادی انسانی حقوق، معاشی انصاف، حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے سوالات کے ساتھ کھڑی ہے۔اس لیے اسے عمران خان کی اقتدار کی سیاست کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔اور اسے صرف اس بنیاد پر ’’کالعدم‘‘ سمجھ لینا بھی درست نہیں کہ اسے ریاستی سطح پر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ریاست کسی تنظیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے، مگر عوامی مطالبے کو نہیں۔حکومت کسی تحریک پر پابندی لگا سکتی ہے، مگر عوام کے شعور پر نہیں۔ریاست احتجاج کو روک سکتی ہے، مگر اس سوال کو نہیں روک سکتی کہ عوام اپنے وسائل، اپنے حقوق اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں حقیقی اختیار کب حاصل کریں گے۔یہی وجہ ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’’بند گلی‘‘ میں پہنچ چکی تحریک قرار دینا قبل از وقت ہے۔کیونکہ جب ایک تحریک کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے ہو، جب اس کی طاقت کسی ایک شخصیت کے بجائے عوامی اتحاد ہو، اور جب اس کے بنیادی سوالات ابھی تک جواب طلب ہوں، تو اس تحریک کا انجام صرف اس بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے کتنے دن دھرنا دیا۔عوامی تحریکیں نعروں سے نہیں، اپنے پیدا کیے ہوئے سیاسی شعور سے تاریخ بناتی ہیں۔اور جو سوال آج کے معصوم بچوں کی زبان پر آ چکا ہو، اسے خاموش کرنا تو ممکن ہے مگرختم کرنا نہیں۔
٭٭٭
Share this content:


