تحرير: رضوان اشرف
رياست جموں کشمير 1846 کے معائدہ امرتسر کے نتيجے ميں معرضِ وجود ميں آئ اور 1947 تک پورے 101 سال قائم و دائم رہی۔ برطانوی سامراج کا ہندوستان پر سے براہ راست قبضہ ختم کرنے کا فيصلہ ہو چُکا تھا اور اس بارے ميں مختلف طريقوں سے مباحث و مشاورت کے بعد قانون بنايا گيا جسے قانونِ آزادیِ ہند کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قانونِ آزادیِ ہند کے تحت بادشاہی رياستوں کو يہ حق ديا گيا کہ وہ اپنی مرضی سے نئے بننے والی دونوں رياستوں ميں سے کسی ايک کا انتخاب کريں يا اپنی آزادانہ حثيت برقرار رکھيں۔ رياستوں کی آزادانہ حثيت کا معاملہ گو کہ اس قانون ميں بيان کيا گيا تھا مگر عملی طور پر برصغير کی تقسيم کے دوران انگريز سامراج کئ جانب سے کہيں بھی کسی بادشاہی رياست کی آزادی و خودمختاری کی حمائت نہيں کی گئ بلکہ يوں سمجھ ليجيے کہ شاہی رياستوں کی خود مختاری تقسيمِ ہند کے پلان کا حصہ ہی نہیں تھی۔
برصغير ميں انگريز سامراج کی ايماء پر مذہبی فرقہ واريت کو ہوا دی گئ تو اکثريتی مُسلم رياست جموں کشمير و اقصائے تبتہا بھی اس سے بچ نہ سکی۔ اُسکی مختلف وجوہات تھيں۔ ايک تو رياست جموں کشمير کے علاقے انگريز سامراج کی توجہ کا مرکز اسليے بھی تھے چونکہ انگريز سامراج کسی طور روسی سوشلزم کو ہندوستان ميں داخل نہیں ہونے دینا چاہتا تھا پھر نئے بننے والے ممالک ميں اپنی منڈی ، چودھراہٹ و ديگر مفادات کے لئے ضروری تھا کہ دونوں ممالک کے بيچ جموں کشمير جيسے مسائل پيدا کئے جائيں۔ مختصرا رياست جموں کشمير عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی اور انگريز سامراج اپنے مفادات اور روسی سوشلزم کے کنٹرول کے لئے کسی طور اس رياست کی خودمختاری کا حامی نہيں تھا۔
سن 1947 ميں جب برصغیر تقسيم ہو کر دو نوں مُلک ہندوستان اور پاکستان بن گئے تو دونوں ممالک کی خواہش تھی کہ زيادہ سے زيادہ اپنے ہم مذہب علاقے اپنے ملک ميں ضم کئے جائيں۔ قصہ مختصر پاکستان نے رياست پر حملہ کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کر دی اور قبائلی پٹھانوں کو اپنے مختلف فوجی ہيڈکوارٹرز ميں تربيت دينا شروع کر دی۔ يہ بات غور طلب ہے کہ اُس وقت تک دونوں ممالک يعنی پاکستان اور ہندوستان کی افواج کی سربراہی انگريز ہی کر رہے تھے۔ ہندوستانی فوج کا چيف آف آرمی سٹاف جنرل رائے بوچر اور پاکستان فوج کی سربراہی جنرل فرينک ميسوروی اور بعد ازاں جنرل گريسی کے پاس تھی۔ دونوں افواج ميں ابھی تک ہر دو طرف کے لوگ ابھی تک شامل تھے۔ پاکستانی فوج ميں تاحال ہندو فوجی افسروں کو جب پتہ چلا کہ پاکستان آرمی رياست جموں کشمير پر باقاعدہ فوجی کاروائ کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے ہندوستانی آرمی کو اطلاع کر دی تھی مگر اس خبر کو عام نہيں کيا گيا۔ اسی دوران پاکستانی فوج کا ميجر گلکار نامی ايک ہندو افسر نے اس متوقع حملے بارے تمام معلومات ہندوستان کو ديں اور واپس پاکستان آنے پر گرفتار کر ليا گيا اور ايک گھر ميں بند کر ديا گيا۔ وہ قيد سے بھاگ کر ہندوستان پہنچا اور اس بات کو عوام ميں پھيلايا کہ پاکستان رياست جموں کشمير پر باقاعدہ فوجی کاروائ کرنا چاہتا ہے۔
مہاراجہ رياست ہری سنگھ رياست کو خودمختار رکھنا چاہتا تھا اور اُس نے دونوں ممالک سے معاہدات کی کوشش کی تاکہ اُسے اپنی رياست کے مستقبل بارے فيصلے کو وقت ملے۔ پاکستان نے رياست کے ساتھ جون کا تُوں معائدہ منظور کر ليا جبکہ ہندوستانی حکومت نے مزيد وقت مانگا۔ اسی اثناء ميں 22 اکتوبر 1947 کو پاکستانی فوج نے قبائليوں کو لے کر رياست جموں کشمير پر باقاعدہ حملہ کر ديا اور غير مُسلموں کا قتلِ عام شروع کر ديا۔ مہاراجہ کی ناکافی فوج تتر بتر ہو گئ اور پاکستانی دستوں کی پيش قدمی بڑھنے لگی۔ ہری سنگھ نے اس اچانک جنگی صورتحال ميں ہندوستان سے فوجی مدد مانگی جو بعد ميں الحاق سے مشروط ہوئ اور مہاراجہ کی جانب سے الحاق کی بھيجی گئ دستاويز پر سامراجی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بيٹن نے اسے قبول کرتے ہوئے لکھا کہ امن بحال ہونے پر رياست جموں کشمير کے عوام اس بابت فيصلہ کرينگے ۔
ہندوستان نے 27 اکتوبر 1947 کو اپنی افواج رياست ميں داخل کيں اور يوں پاکستان و ہندوستان کی افواج کی لڑائ جاری ہو گئ۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو ماؤنٹ بيٹن کی مشاورت سے اقوامِ متحدہ کی سيکورٹی کونسل ميں لے گئ يعنی اقوامِ متحدہ کے ايک ممبر مُلک نے دوسرے ممبر مُلک کے خلاف اقوامِ متحدہ ميں شکايت کی کہ رياست جموں کشمير ہندوستان کے ساتھ الحاق کر چُکی ہے اور پاکستان نے رياست پر حملہ کر ديا ہے اور رياستی عوام کا قتلِ عام کر رہا ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ ميں يہ مؤقف اپنايا کہ رياست کا مسئلہ اکيلا مثلہ نہيں ہے بلکہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے اثاثوں کی تقسيم، مشرقی پاکستان تک راستہ، پانی و ديگر مسائل بھی موجود ہيں جس کے نتيجے ميں اس بابت تحقيق، معاونت و حل کے لئے جنوری 1948 ميں اقوامِ متحدہ کی 39 ويں قرارداد کے زريعے ايک کميشن کا قيام عمل ميں لايا گيا جسے يو اين سی آئ پی يعنی اقوامِ متحدہ کميشن برائے انڈيا و پاکستان کہا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کميشن برائے انڈيا و پاکستان نے 13 اگست 1948 کو پاکستان و ہندوستان کے نمائندگان سے مفاہمت کے بعد ايک قرارداد پيش کی کہ پاکستان و ہندوستان کی جنگ سے عالمی امن کو خطرہ ہے لہذا مندرجہ ذيل پر فوری عمل کيا جائے:
حصہ اوّل: جنگ بندی کے احکامات
۱- پاکستان و ہندوستانی افواج کی ہائ کمانڈ فی الفور اپنی اپنی افواج کو رياست جموں کشمير ميں جنگ بندی کے احکامات جاری کريں گيں۔
۲- دونوں افواج کی ہائ کمان اس بات پر متفق ہيں کہ وہ رياست جموں کشمير ميں انکی زير انتظام فورسز کی فوجی طاقت کو بڑھانے والے کسی بھی قدم سے گريز کرینگے ۔
۳- ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے کمانڈر انچیف موجودہ صورتحال میں کسی بھی ضروری مقامی تبدیلیوں کے بارے میں فوری طور پر اعانت دیں گے جس سے جنگ بندی میں آسانی ہوسکتی ہے۔
۴- اپنی صوابدید پر ، اور جس طرح کمیشن کو عملی طور پر کارآمد معلوم ہوسکتا ہے ، کمیشن ایسے فوجی مبصرین کی تقرری کرے گا جو کمیشن کے ماتحت اور دونوں کمانڈوں کے تعاون سے جنگ بندی کی پابندی کی نگرانی کریں گے۔
۵- حکومت ہند اور حکومت پاکستان اپنے متعلقہ لوگوں سے مزید بات چیت کے فروغ کے لئے سازگار ماحول بنانے اور برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی اپیل پر راضی ہیں۔
حصہ دوم: اعتماد کا معائدہ
۱- چونکہ ریاست جموں و کشمیر کے علاقے میں پاکستان کی فوج کی موجودگی اس صورتحال میں ایک مادی تبدیلی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی نمائندگی حکومت پاکستان نے سلامتی کونسل کے سامنے کی تھی ، لہذا حکومت پاکستان اس ریاست سے اپنی فوجیں واپس لینے پر متفق ہے ۔
۲- حکومت پاکستان ریاست جموں و کشمیر سے قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کی واپسی کو يقينی بنانے کے لئے اپنی پوری کوشش کرے گی جو عام طور پر وہاں کے باشندے نہیں ہیں جو لڑائی کے مقصد سے ریاست میں داخل ہوئے ہیں۔
۳- اس مسئلے کے حتمی حل تک پاکستانی فوج کے ذریعہ خالی کیے گئے علاقے کو مقامی حکام کمیشن کی نگرانی میں زیر انتظام کریں گے۔
۴- جب کمیشن حکومت ہند کو مطلع کردے گا کہ قبائلیوں اور پاکستان کے شہریوں کو رياست سے نکال ديا گيا ہے ، اور اس طرح اس صورتحال کا خاتمہ کیا جائے گا جس کی نمائندگی حکومت ہند کی جانب سے سلامتی کونسل میں کی گئی تھی کیونکہ اس نے ہندوستانی افواج کی رياست ميں موجودگی کا موقع دیا تھا۔ مزید یہ کہ ریاست جموں و کشمیر سے پاک افواج کا انخلا کیا جارہا ہے ، حکومت ہند متفقہ مراحل میں ریاست سے اپنی افواج کا بڑا حصہ واپس لینا شروع کرنے پر متفق ہے۔
۵- ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے حتمی تصفیے کے لئے شرائط کی منظوری کے لئے ، ہندوستانی حکومت فائر بندی کے وقت اپنی کم از کم افواج جيسے کہ کميشن کے ساتھ معاہدے ميں ہے جو امن و امان کی پابندی میں مقامی حکام کی مدد کرے۔ جہاں کميشن ضروری سمجھے گا وہاں وہ اپنے مبصرين تعينات کرے گا۔
۶- حکومتِ ہند اس بات کو يقينی بنائے گی کہ رياست جموں کشمير کی حکومت اپنے اختيارات بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو واضع کرے گی کہ امن، امن و امان کی صورتحال کی حفاظت ہو گی اور تمام انسانی و سياسی محفوظ ہونگے۔
حصہ سوئم: پاکستان و ہندوستان سے آزادی
پاکستانی و ہندوستانی حکومتيں اس خواہش کی تصديق کر رہی ہيں کہ رياست جموں کشمير کے مستقبل کا فيصلہ رياست جموں کشمير کے عوام کی خواہشات کے مطابق کيا جائے گا۔ اس اعتماد کے معاہدے کی منظوری کے بعد دونوں حکومتيں اس بات پر رضامند ہيں کہ مناسب اور منصفانہ حالات کا تعين کرنے کے لئے کميشن سے مشاورت کرينگی جس کے تحت آزادانہ اظہار کی يقين دہانی کروائ جائے گی۔
اس قرارداد کے بعد جنگ بندی تو ہو گئ مگر اسکے علاوہ کچھ نہ ہو سکا۔ نہ تو پاکستان نے افواج کا انخلاء کيا اور نہ ہی اس معاملے کے حل کے بارے ميں کسی طرح کی کوئ سنجيدہ کوشش دونوں ممالک کی جانب سے نظر آئ۔ دونوں ممالک ايک دوسرے پر الزام تراشياں کرتے رہے اور رياست جموں کشمير کے شہريوں کی زندگياں اجيرن ہوتی گئيں اور دونوں ممالک لوکل اور عالمی فورم پر ايکدوسرے کو نيچا دکھانے کو مختلف قسم کے حربے استعمال کرنے لگے اور رياست جموں کشمير کا مسئلہ پاکستان، ہندوستان اور انکی پيدا کردہ بہت سارے تنظيموں، افراد و گروہوں کے لئے باقاعدہ ايک صنعت کی شکل اختيار کرتا گيا جس ميں باقاعدہ طور پر سرمايہ کاری کی جانے لگی اور اپنی مرضی کے نتائج اخذ کئے جانے لگے اور رياست جموں کشمير پر قبضے اور وسائل کی لُوٹ گھسوٹ دونوں ممالک اپنا حق و اختيار سمجھنے لگے۔
پھر 5 جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے ايک اور قرارداد منظور کی گئ جس ميں کہا گيا کہ 23 اور 25 دسمبر 1948 کو دونوں حکومتوں ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے متفقہ طور پر مندرجہ ذيل اصول منظور کئے گئے ہيں:
۱- ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔
۲- رائے شماری کا انعقاد اس وقت کیا جائے گا جب کمیشن کو یہ پتہ چل جائے گا کہ 13 اگست 1948 کی کمیشن کی قرارداد کے حصے اول اور II میں طے شدہ فائر بندی اور صلح کے انتظامات کرلیے گئے ہیں اور اس رائے شماری کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
۳- اقوام متحدہ کا سکریٹری جنرل ، کمیشن کے ساتھ متفق ہوتے ہوئے ایک رائے شماری ایڈمنسٹریٹر نامزد کرے گا جسے باقاعدہ طور پر حکومت جموں و کشمیر مقرر کرے گی۔
۴- پلیبسائٹ ایڈمنسٹریٹر ریاست جموں و کشمیر حکومت سے وہ اختیارات حاصل کرے گا جسے وہ رائے شماری کو منظم کرنے اور اس کے انعقاد کے لئے اور رائے شماری کی آزادی اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔
۵- پلیبسائٹ ایڈمنسٹریٹر کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ ضرورت کے مطابق معاونین اور مبصرین کی تقرری کر سکے ۔
۶- 13 اگست 1948 کو کمیشن کی قرارداد کے حصے اول اور دوم کے نفاذ کے بعد ، اور جب کمیشن مطمئن ہو گا کہ ریاست میں پرامن حالات بحال ہوچکے ہیں تو کمیشن اور پلیبسائٹ ایڈمنسٹریٹر حکومت ہند کے مشورے سے بھارتی و رياستی افواج بارے معاملے کا تعین کریں گے۔ ہندوستانی اور ریاستی مسلح افواج بارے تعين ریاست کی سلامتی اور رائے شماری کی آزادی کو مدنظر رکھتے ہوئے کيا جائے گا۔
۷- 13 اگست کی قرارداد کے حصہ 2 کے A 2 میں دیئے گئے علاقے کے حوالے سے ، اس علاقے میں مسلح افواج کے حتمی تصرف کا فیصلہ مقامی حکام سے مشاورت سے کمیشن اور پلیبسائٹ ایڈمنسٹریٹر کریں گے۔
۸- ریاست کے اندر موجود تمام سول اور فوجی حکام اور ریاست کے سیاسی عناصر پر لازمی ہوگا کہ وہ اس رائے شماری کے انعقاد میں راۓ شماری ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ تعاون کریں۔
الغرض اسی طرح کے مزيد اصول و ضوابط طے کيے گئے کہ رائے شماری کس طرح سے کروائی جائے تاکہ رياست جموں کشمير کے شہريوں کی يہ رائے سامنے آ سکے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہيں يا کہ پاکستان کے ساتھ جو چيز پہلی قرارداد ميں دونوں حکومتوں کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئ تھی کہ “رياست جموں کشمير کے مستقبل کا فيصلہ رياستی عوام کی خواہشات کے مطابق کيا جائے گا” کو محدود کر کے رياستی عوام کو اب يہ حق ديا گيا کہ وہ رائے شماری کے زريعے فيصلہ کريں کہ انہيں ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے يا پاکستان کے ساتھ ۔ يعنی حقِ رائے دہی کا ايک ايسا اصول طے کيا گيا جو ازخود حقِ رائے دہی کی تعريف پر ہی پُورا نہيں اُترتا۔
قصہ مختصر ، رياست جموں کشمير کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے چيپٹر 6 ميں موجود ہے جسکے تحت اقوامِ متحدہ دونوں فريقين کی رضامندی سے محض سفارشات و گزارشات پيش کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک کی رضامندی کے بغير کسی طرح کی کوئ سفارش يا گزارش بھی نہيں پيش کر سکتا۔ يہاں اقوامِ متحدہ کا کسی طور کا کوئ کردار موجود نہيں اور نہ ہی اقوامِ متحدہ اس ضمن ميں دونوں ممالک پر کسی طور کوئ دباؤ ڈال سکتا ہے۔ محض اخلاقی باتيں ياد کرانے سے رياست پر قابض طاقتيں کسی طور انخلاء پر رضامند نہيں ہو سکتيں اور نہ عملًا ہوئيں۔
يہاں يہ تذکرہ ضروری ہے کہ پٹيل کے نام رياست کے آخری مہاراجہ ہری سنگھ نے خط لکھا تھا کہ ميں نے اپنی رياست کے بچاؤ کے لئے ہندوستان کے ساتھ معائدہ کر کے مدد مانگی تھی مگر ہندوستان اس ميں ناکام ہو چُکا ہے۔ اس لئے اب ميں سوچ رہا ہوں کہ ہندوستان سے اپنا معائدہ ختم کر دوں۔ چونکہ ميں اپنی فوج کا سربراہ ہوں اور ميری خواہش ہے کہ ميں فوج کو دوبارہ منظم کروں اور اپنی رياست کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا ہوا مارا جاؤں۔
پانچ جنوری 1949 کی قرارداد کے بعد بھی اقوامِ متحدہ ميں مختلف اوقات ميں يہ مسئلہ زير بحث رہا مگر اسکا محور وہی “رائے شماری” رہا جس کے زريعے يہ طے کيا جائے کہ يہاں کے لوگ پاکستان سے الحاق چاہتے ہيں يا ہندوستان سے۔ اس سے زيادہ اقوامِ متحدہ ميں رياست جموں کشمير کا کوئ مسئلہ سرے سے موجود ہی نہيں ہے۔
جموں کشمير پيپلز نيشنل پارٹی يہ سمجھتی ہے کہ طاقت کی بنياد پر چھينا گيا خطہ کسی طور مانگنے سے ملنے والا نہيں اور نہ ہی يہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے موجودہ چيپٹر 6 کی بساط ہے کہ وہ اسے حل کرے۔ رياست جموں کشمير کا مسئلہ قومی آزادی کا مسئلہ ہے اور رياست جموں کشمير کی قومی آزادی 1947 سے پاکستان اور ہندوستان نے غصب کرتے ہوئے رياست جموں کشمير پر جابرانہ قبضہ روا رکھا ہوا ہے۔ رياست پر سے دونوں ممالک کے قبضے کے خاتمے کے لئے رياست کے تمام حصوں کے عوام کو باہمی جُڑت سے منظم ہو کر ہر محاذ پر لڑنا پڑے گا۔ اقوامِ متحدہ ، رائے شماری و پاکستان و ہندوستان کے انتخاب کے بے ہودہ نعروں سے رياست جموں کشمير کے مسئلے کا کسی طور کوئ حقيقی تعلق نہیں ہے۔ رياستی مسئلے کا اگر تعلق بنتا ہے تو وہ قانونِ آزادیِ ہند سے بنتا ہے۔ جی ہاں وہی قانون جس کے ذريعے ہندوستان اور پاکستان وجود ميں آئے اور رياستوں کا کسی ملک کے ساتھ الحاق يا اپنی خودمختاری و آزادی کا حق مسلم ہے۔
٭٭٭
Share this content:


