تحریر: حبیب رحمان
آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کا المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک باشعور اور بیدار نوجوان نسل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بلکہ المیہ اس سے بھی بڑا ہے کہ جنہیں اس معاشرے کے معتبرین سمجھا جاتا ہے، وہ محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ ظلم کے اس نظام کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔
شعور، فکر اور سوال سے لبریز جوان حوصلوں کی ایک پوری نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر جہلم پار سے طاقت کے ذریعے یہاں کے نوجوانوں کی آواز کو خاموش کرنے، ان کی حقوق کی تحریک کو کچلنے اور ان کے مستقبل کو خوف کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے، تو اس جبر میں شریک ہر کردار تاریخ کا مجرم ہے۔
یہ مسئلہ صرف چند نوجوانوں کا نہیں، بلکہ اس نسل کی بقا کا سوال ہے جو آج اپنے بنیادی حقوق کی خاطر سڑکوں پر کھڑی ہے اور جس نے کل اس خطے کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کے جائز سوالات کا جواب دلیل اور مکالمے کے بجائے گولی، تشدد اور خوف سے دیا جا رہا ہے۔
سب سے بڑا سوال ان نام نہاد معتبرین سے ہے جو حق کا ساتھ دینے کے بجائے طاقتور کی صفوں میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی نسل کے خواب، امیدیں اور حوصلے کچلے جا رہے ہوں، تو مظلوم کے بجائے ظالم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے والوں کے کسی منصب، عہدے یا سماجی حیثیت کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔
حکام اور طاقت کے ایوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ تشدد سے جسموں کو تو خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر بیدار شعور کو کبھی دفن نہیں کیا جا سکتا۔ آج بہایا جانے والا خون صرف ایک واقعہ بن کر ختم نہیں ہوگا، بلکہ یہ تاریخ کے سینے پر ایک زندہ سوال بن کر درج ہو چکا ہے۔
اور تاریخ کل ضرور پوچھے گی کہ جب آزاد جموں و کشمیر کی ایک باہمیت اور باشعور نسل اپنے مستقبل کی جنگ لڑ رہی تھی، تو کون ان کے ساتھ تھا اور کون قاتلوں کے صف میں کھڑا تھا؟
٭٭٭
Share this content:


